سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

جس شخص کے قضا روزے زیادہ ہیں

جس شخص نے زیادہ تعداد میں روزے چھوڑ رکھے ہیں ، اس کا کیا وظیفہ ہے ؟

جواب:۔ حتی المقدور جس قدر روزے رکھ سکتا ہو روزوں کی قضا کرے اور ان کے کفارے کے متعلق ہماری توضیح المسائل کہ مسئلہ نمبر ۱۴۰۱ اور ۱۴۰۲ کے مطابق عمل کرے اور جس قدر ا س کے لئے مقدور نہیں ہے وہ سب اس سے ساقط ہیں ۔

مسجد کے تہہ خانہ کا تاسیسات کے طور پر استعمال

مسجد کی حدود میں مثال کے طور پرتہہ خانے ، یا صحن وغیرہ میں دینی ( قرآن، احکام اور عقائد کی ) تعلیم کے ساتھ ثقافتی اور ورزشی ، فعالیت ، انجام دینے کی غرض سے ٹینس کی میز رکھنے کا کیا حکم ہے ؟

جواب:۔ مسجد اور اس کے حدود میں ، مذکورہ وسائل(کھیل کے سامان ) سے ، استفادہ کرنا ، جائز نہیں ہے لیکن اگر لائبریری یاثقافتی امور کے لئے ، مسجد میں ھال بنایا گیاہے تو اس ہال سے مسجد کی حدود کے اندر، اس کام کے لئے استفادہ کیا جاسکتا ہے ۔

دسته‌ها: مسجد

ماہ رمضان کی پہلی تاریخ ثابت ہونے کے لئے علم نجوم کے ماہرین کی طرف رجوع کرنا

اس چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ دور حاضر میں علم نجوم میں ترقی یافتہ آلات موجود ہیں اور بہت سے اشخاص اس علم کے ماہر اور اس فن میں اہلِ خبرہ ہیں اور چونکہ اہلِ خبرہ افراد کی طرف رجوع کرنا ایک سیرت رہی ہے اور صحیح بھی ہے نیز اس چیز کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے کہ مثلاً یہ لوگ بڑے دقیق حساب کی بنیاد پر اعلان کرتے ہیں کہ فلاں سال فلاں روز فلاں گھنٹے فلاں منٹ فلاں سیکنڈ فلاں ملک میں سورج گہن ہوگا اور ایسا ہوتا بھی ہے، ہمارا سوال یہ ہے کہ رمضان المبارک یا شوال کے مہینوں کی پہلی تاریح معین کرنے کے لئے ان کی طرف رجوع کیوں نہیں کیا جاتا، اور عام لوگوں کو چاند دیکھنے کے لئے شہروں کے باہر کیوں بھیجاتا ہے تاکہ روزہ اور اس کے افطار کی تکلیف کو معین کیا جاسکے؟

ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں اگر علماء نجوم دقیق آلات کے ذریعہ چاند دیکھنے کے سلسلے میں متفق القول ہوں تو اُن کی مخالفت مشکل ہے، مگر یہ کہ چاند دیکھنے کے مسئلہ میں لوگوں کی کثیر تعداد اُن کے مخالف دعویٰ کرے، ہم نے اس نظریہ کو گذشتہ سال نشر کیا تھا ۔

پیشہ ورانہ کھیل کے سلسلے میں اسلام کا نظریہ

اس چیز پر توجہ رکھتے ہوئے کہ ورزش نے آدھی دنیا کو اپنی طرف کھینچ لیا ہے اور کبھی کبھی یہ سیاست اور حکومت میں بڑا کردار ادا کرتی ہے نیز ہمارے ملک میں اخلاقی فساد سے مقابلہ کا بہترین ذریعہ شمار ہوتی ہے، گزارش ہے کہ درج ذیل سوالات کے سلسلے میں اپنی مبارک نظر بیان فرمائیں:۱۔ ورزش کے سلسلے میں مقدس شریعت کا کیا نظریہ ہے ؟۲۔ پیشہ ورانہ ورزش کے سلسلے میں اسلام کیا کہتا ہے؟۳۔ ایسے افراد کے سلسلے میں جو لوگ ورزش کو اپنا مستقل شغل قرار دیتے ہیں اور اسی سے درآمد کرتے ہیں، اسلام کا کیا نظریہ ہے؟۴۔ چیمپین شب والی ورزش کے متعلق اسلام کی کیا نظر ہے؟۵۔ عوض (وہ پیسہ جو ورزش کرنے والے کے لئے منظور ہوتا ہے) کے ساتھ ورزشی مقابلوں کا کیا حکم ہے؟۶۔ کیا مخصوص لباس کے ساتھ کھیلوں کا ٹی وی پر ڈائریکٹ دکھانا اور عورت ومردکا اُن کودیکھنا جائز ہے؟۷۔ کھلاڑیوں کا ہارجیت کی شرط لگانے یا کسی تیسرے شخص کے شرط لگانے کا کیا حکم ہے؟

ا سے ۷ تک: بیشک ورزش جسم وروح کی سلامتی کے لئے ضروری ہے اور اسلام میں بھی بامقصد ورزش کی تاکید ہوئی ہے (جیسے گھڑ سواری، تیراکی وغیرہ) لیکن شرط لگانے کی فقط گھڑ سواری اور تیراندازی میں اجازت دی گئی ہے، افسوس کہ آج ورزش اور کھیل کود جیسا کہ آپ نے اس کی طرف اشارہ بھی کیا ہے، بہت سے موارد میں اپنے اصلی راستہ سے ہٹ گئے اور افراط وتفریط کی طرف مائل ہوگئے ہیں اور کبھی کبھی زرپرستوں کے تجارتی مسائل کا آلہ یا سیاست بازوں کا لقمہٴ تر بن جاتے ہیں، اگر یہی حال رہا تو ورزش کرنے والوں اور اس کے شائقین کے لئے بہت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے،اُمید کرتا ہوں کہ ورزش اور کھیل کود کے اندیشمندان اس سے ناجائز فائدہ اٹھانے والوں کی روک تھام کے لئے کوئی راستہ تلاش کریں، اس کو اس کی اصلی جگہ دیں اور یہ بھی کہ ہمارے کچھ جوان ورزش کے انحرافات کی بھینٹ چڑھتے جارہے ہیں اس کی بھی روک تھام ہونی چاہیے۔

دسته‌ها: مختلف مسائل

نائب کے لئے قافلہ کا خام ہونا

اگرکوئی شخص ( قافلہ میں ) خادم کا کام لگنے سے پہلے ، کسی کی نیابت میں حج کرنے کے لئے قبول ہو جائے اور اس کے بعد ، خادم کا کام بھی لگ جائے ، حج کو کس کے لئے انجام دے ؟ اسی طرح وہ شخص جو مستطیع نہیں ہے لیکن کسی کا معاون بن کر حج کے لئے جاتا ہے؟

جواب:۔ جو شخص پہلے کسی کی نیابت کرنے کے لئے اجیر ہو گیا تھا اور ا س کے بعد خادم کا کام لگا ہے ، اس کو چاہےئے کہ فقط نیابت کے قصد سے ، حج کے اعمال بجالائے لیکن اگر اجیر نہیں ہوا ہوتو وہ شخص ، صاحب استطاعت شخص کے حکم میں ہے اور اس کا حج واجب حج شمار ہوگا۔

دسته‌ها: نائب کے شرایط

حملہ آور فوجی کے مقابلہ میں اپنا دفاع کرنا

جس وقت عراق کے ظالم لشکر نے، کویت پر قبضہ کیا، اس وقت مجھے یہ مسئلہ پیش آیا تھا، مہربانی فرماکر اس مسئلہ کا جواب عنایت فرمائیں واقعہ یہ ہے کہ کویت پر قبضہ کے آٹھویں دن، جب میں اپنے گھر واپس پہونچا تو میں نے ایک عراقی فوجی کو اپنے گھر میں اپنے چھوٹے بھائی کے پاس دیکھا، میں نے اپنے چھوٹے بھائی سے دریافت کیا کہ یہ کون ہے؟ اس نے کہا: ایک عراقی فوجی ہے جو کویتی لوگوں کو قتل کررہے ہیں، لیکن میں نے اس کی باتوں پر کوئی توجہ نہ دی اور کمرے میں جاکر نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوگیا، اسی وقت اُس عراقی فوجی نے اُس پر اسلحہ سے وار کیا کہ اس کے بدن سے خون جاری ہوگیا، لیکن وہ ابھی زمین پر نہیں گرا تھا کہ میں ،اپنی اور اپنے اہل خانہ کی جان کے خوف کی وجہ سے دفاع کرنے پر تیار ہوا اور اس فوجی پر حملہ کردیا، شریعت کی رو سے اس طرح کے دفاع کا کیا حکم ہے؟

اگر حملہ آور فوجی، تمھاری جان ومال یا تمھارے بچوں کی جان ومال کا ارادہ رکھتا تھا تب اس صورت میں، ہر طرح کی چیز کے ذریعہ، دفاع کرنا جائز تھا اور اس کا خون، ہدر اور رائیگاں ہوگا ۔

دسته‌ها: دفاع کے احکام

ایام محرم سے مخصوص نذروں کا لوگوں کی مشکلات دور کرنے کے لئے استعمال کرنا۔

رمضان المبارک کے دنوں میں تبلیغ کے لئے شیراز کے رودشت نامی گاؤں میں جانا ہوا ، وہاں پر بہت سی محرومتیوں کو دیکھا (جیسے: ۱۔ مسجد کا فقدان ۲۔مناسب راستے کا نہ ہونا ۳۔مدرسہ و اسکول کا نہ ہونا خصوصاً لڑکیوں کے لئے ۴۔کوئی ایک بھی اس ٹی ڈی (STD) کا نه هونا ۵۔ جوانوں کے لئے کھیل کی مناسب جگہ کا فقدان ۶۔اسکول اور کالجوں کے لئے علمی فضا کی ناہمواری ، دوسری طرف یہ کہ ۲۰ سے ۳۰ نفر پر مشتمل اہل بستی ایّام محرم خصوصاً پہلے عشرہ میں تقریباً ۳ سے ۴ لاکھ تومان کھانے پر خرچ کرتے تھے، اس کھانے سے غریب اور فقراء یا تو حفظ آبرو کی خاطر یا اژدہام جمعیت کی وجہ سے یا مالدار ومتمول افراد اور ان کے رشتہ داروں کے کھانے کی وجہ سے، محروم رہتے تھے ، اس کے علاوہ بہت سا کھانا بغیر اس کے کہ اس پر کسی کا ہاتھ لگاہ ہو ، پھینک دیا جاتا تھا، اس صورت میں مذکورہ گاؤں کی ان مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے آیا اس رقم کو جو مجلس عزا کے لئے مذکورہ شکل میں جمع کی جاتی ہے اور نعمت الٰہی کے اسراف کا سبب بنتی ہے ایک عالم دین کی نظارت میں فوق الذکر مشکلات کو برطرف کرنے اور عام المنفعة امور کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے؟

جواب: چنانچہ اگر مذکورہ نذورات، مطلقہ، امام حسین - کے لئے ہوں تو ان کو لوگوں کی مشکلات کو برطرف کرنے میں استعمال کیا جاسکتا ہے، لیکن اگر یہ نذورات، غذا اور اطعام سے مخصوص ہوں تو فقط ان کو اسی کام میں استعمال کیا جائے اور اگر یہ رقم ان ایام میں یا اس علاقہ میں استعمال کے قابل نہ ہوں تو آپ دوسرے علاقوں میں یا دوسرے ایام میں اس کو اطعام کے لئے استعمال کرسکتے ہیں۔

دسته‌ها: نذر کے احکام

حج افراد میں عمرہ مفردہ کے اعمال کو التوا(تاخیر )میں ڈالنے کی مدت

وہ خاتون جس کا وظیفہ حج افراد ہے ، عمرہ مفردہ بجالانے میں بغیر کسی عذر کے کس وقت تک تاخیر کر سکتی ہے ؟

جواب:۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ حج کے بعد بلا فاصلہ بجالائے اور اگر تاخیر کرنے پر مجبور ہو گئی ہے تو ماہ ذی الحجہ کے تمام ہونے سے پہلے پہلے بجالائے ۔

دسته‌ها: حج افراد

جدہ شہر میں احرام باندھنا

کیا جدہ شہر سے ، عمرہ تمتع کا احرام باندھنا جائز ہے؟

جواب :۔ چونکہ شہرہ جدہ کی محاذات ، کسی بھی میقات سے ، ثابت نہیں ہے ، احرام باندھنے کے لئے میقات یا میقات کے محاذات پر جانا چاہےئے اور اگر دونوں میں سے کوئی بھی ممکن نہ ہو تو احتیاط کے طور پر نذر مان کر محرِم ہو جائے اور پھر اس کے بعد احتیاط کی بناپر حرم کے شروع میں دوبارہ نئے طریقہ سے احرام باندھے۔

دسته‌ها: احرام کے میقات
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت