بھولے ہوئے تشہد کی قضا
اگر کوئی شخص ، نماز میں تشہد بھول جائے ، کیاتشہد کی قضا بجالانے کے بعد، سلام پڑھے؟
جواب:۔ احتیاط یہ ہے کہ سلام بھی پڑھے ، اور اس کے بعد سجدہٴ سہو بھی کرے ۔
جواب:۔ احتیاط یہ ہے کہ سلام بھی پڑھے ، اور اس کے بعد سجدہٴ سہو بھی کرے ۔
جواب:۔ اگر نماز طواف کا موقعہ آنے سے پہلے کی مدت میں ، اپنی نماز کو کامل کرسکتا ہے تو اس صورت میں کوئی ممانعت نہیں ہے ورنہ اس صورت کے علاوہ اس کی نیابت میں اشکال ہے ۔
جواب: تمام نمازوں کو جدا جدا پڑھنا ہمارے عقیدہ کے مطابق بھی مستحب اور سنت ہے ، لیکن جمع کرنا بھی جائزہے ، اہل سنت کی روایات میں بھی نمازوں کے جمع کرنے پر دلیل موجود ہے ، لہٰذا جمع کرنا یعنی ملاکر پڑھنا ، رخصت ہے ، لیکن جدا جدا پڑھنا ، فضیلت ہے ۔
ایصال ثواب زندہ و مردہ دونوں کے لیے کیا جا سکتا ہے۔
جواب:۔اس کام کو ترک کرنا بہتر ہے مگر ضرورت کے موارد میں .
جواب: اقرار کے بعد انکار قابل قبول نہیں ہے، مگر یہ کہ ثابت ہوجائے واقعاً غلطی ہوگئی تھی؛ مثلاً کسی اجنبی کو اپنے بیٹے کی جگہ تصور کرلیا تھا۔
جواب: اس کو میراث نہیں ملے گی لیکن اگر اس بہائی شخص کے فرزند ۔، اس کے انتقال کے وقت مسلمان تھے اور دوسرے وارث ان پر مقدم نہ ہوں تب ان کو میراث ملے گی ۔
جواب: مسلّم قانون اور مشہور روایت "الوقوف علی حسب ما یوقفہا اہلہا" کے مطابق، موقوفہ کی آمدنی کو اس چیز میں صَرف کرنا چاہیے، جس کے لئے وقف نامہ میں صراحت سے بیان ہوا ہے، مگر یہ کہ وقف نامہ کی ایک یا چند باتیں قابل عمل نہ ہوں، جیسے ہمارے زمانے میں تانبے کے برتن، جنہیں دوسرے برتنوں سے بدل لیا جاتا ہے۔
کام کی اجرت ( مزدوری ) سے مقصود وہ حق الزحمت ہے جو بینک یا قرض الحسنہ وغیرہ کے ملازموں کو ، تنخواہ کے عنوان سے اس زحمت کے بدلے جو حساب کو محفوظ اور دیگر خدمات کے بدلے ، دیا جاتا ہے ، چنانچہ اسی قصد اور نیت سے ، مزید رقم لی جائے اور تنخواہ کے عنوان سے ملازموں اور دیگر اخراجات میں خرچ کیا جائے تو کوئی ممانعت نہیں ہے ، لیکن جوصورت آپ نے تحریر کی ہے اس میں اشکال ہے۔
جواب: مہم ضرر کی صورت میں ان کا کھانا حرام ہے۔
جواب:۔ ان کے طواف میں کوئی شکال نہیں ہے ، اس لئے کہ طواف میں ، معروف حد کی مراعات کرنا واجب نہیں ہے بلکہ احتیاط مستحب ہے اور صفوں سے متصل ہونا بھی شرط نہیں ہے ۔
جواب:۔مصلحت ومفسدہ کی رعایت کرنا، لڑکی سے متعلق ہے، یعنی لڑکی کی مصلحت اور فائدہ، مد نظر ہونا چاہئے، اس کا ماں باپ سے کوئی تعلق نہیں ہے، فیملی اور خاندان کے ملاحظہ اور گھاٹے و نقصان کا پورا کرنا، جواز نہیں بن سکتا ہے کہ نابالغ بچہ، صلح کا مال بن جائے ،رہا شریعت کی رو سے بالغ بچہ ، تو اس کا حکم واضح ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح کرنا صحیح نہیں ہے
جواب الف: اس سے مراد یہ ہے کہ تساہلی سے کام نہ لے اور اس کو تاخیر میں نہ ڈالے ۔جواب ب: اگر نماز واجب کے دوران زلزلہ آجائے تو نماز واجب ختم کرنے کے بعد نماز آیات بجالائے ۔جواب ج : ایسے شخص پر نماز آیات واجب نہیں ہے، اگرچہ احتیاط یہ ہے کہ اس کو بجالائے ۔
جواب: اگر اس میں تمام شرائط شہادت پائے جاتے ہیں تو کوئی مانع نہیں ہے ۔