دستانوں کے ساتھ نامحرم سے مصافحہ کرنا
دستانے پہن کر عورت کا مرد سے ہاتھ ملانا یعنی مصافحہ کرنے کا کیا حکم ہے ؟
جواب:۔اس کام کو ترک کرنا بہتر ہے مگر ضرورت کے موارد میں .
زندہ افراد کی طرف سے اعمال خیر انجام دینا
کیا کسی کی زندگی میں اس کی طرف سے ایصال ثواب کیا جا سکتا ہے جسیے مسجد میں قرآن وغیرہ ہدیہ کرنا ؟
ایصال ثواب زندہ و مردہ دونوں کے لیے کیا جا سکتا ہے۔
وقف کی آمدنی کے مصرف کی تبدیلی
وقف کی آمدنی کن جگہوں پر خرچ ہونی چاہیے نیز اس (وقف) کے مصرف کو کس صورت میں بدلنا جائز ہے؟
جواب: مسلّم قانون اور مشہور روایت "الوقوف علی حسب ما یوقفہا اہلہا" کے مطابق، موقوفہ کی آمدنی کو اس چیز میں صَرف کرنا چاہیے، جس کے لئے وقف نامہ میں صراحت سے بیان ہوا ہے، مگر یہ کہ وقف نامہ کی ایک یا چند باتیں قابل عمل نہ ہوں، جیسے ہمارے زمانے میں تانبے کے برتن، جنہیں دوسرے برتنوں سے بدل لیا جاتا ہے۔
مصالحت (صلح) کی رقم کے عنوان سے بیٹی کی شادی
کسی مقام پر دوقبیلوں کے درمیان لڑئی جھگڑا ہو جاتا ہے، اسمیں ایک بچّہ کی آنکھ نا بینا ہو جاتی ہے، پرصلح کے عنوان سے ایک دس سالہ لڑکی کا نکاح اس کے ولی کی اجازت سے اس نابینا بچہ کے آٹھ سالہ بھائی سے کردیا جاتا ہے، خود وہ لڑکی دعویٰ کرتی ہے کہ وہ راضی نہیں تھی اور نہ اب راضی ہے، لڑکی اور لڑکے کی قانونی عمر جس میں وہ لوگ اپنے کاموں میں مستقل مداخلت کرسکتے ہیں، ۱۸ سال ہے اٹھارہ سال سے کم عمر میں عدالت میںجایا جاتا ہے اور عدالت ان کو متخصص (اسپیشلسٹ) ڈاکٹر کے پاس بھےجتی ہے کہ بالغ وعاقل ہوگئے ہیں یا نہیں، چنانچہ سرکاری متخصص ڈاکٹر،ان کے بالغ ہونے کی گواہی دیدے تو عدالت اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے بھی بالغ ہونے کا حکم (سرٹیفکٹ)جاری کردیتی ہے . مذکورہ مورد میں اس طرح کا کوئی اقدام نہیں ہوا ہے لیکن سولہ سال کی عمر میں دونوں (شوہر و زوجہ) کے درمیان ایک نشست کی صورت میں یہ طے ہوا کہ درمیانی سطح کی تعلیم کے ختم ہونے تک دونوں حضرات تعلیم جاری رکھیں گے ، اس نشست کے بارے میں بھی اس لڑکی کا دعویٰ ہے کہ میرے ماں باپ نے مجھے دھمکی دی تھی جس کی وجہ سے میں نے اس معاہدہ پر دستخط کردیے تھے، اس طرح کی شادی، بعض دیہاتوں میں، مرسوم تھی اور رائج ہے ملحوظ رہے کہ امام خمینی ۺ کی کتاب تحریر الوسیلہ کی فصل ، نکاح کے اولیاء کے مسئلہ نمبر ۴ میں آیا ہے کہ ((یشترط فی صحة تزویج الاب والجد ونفوذہ عدم المفسدہ)) اور مسئلہ آخر میں بیان ہوا ہے ((الاحوط مراعات المصلحة)) کیا یہ مفسدہ نہ ہونا اور مصلحت کی رعایت کرنا لڑکی سے متعلق ہے یا لڑکی باپ اور فیملی سے مربوط ہے ؟ دوسرا سوال یہ کہ حقیقت میں اس قسم کا عمل، صحیح بھی ہے یا نہیں ؟
جواب:۔مصلحت ومفسدہ کی رعایت کرنا، لڑکی سے متعلق ہے، یعنی لڑکی کی مصلحت اور فائدہ، مد نظر ہونا چاہئے، اس کا ماں باپ سے کوئی تعلق نہیں ہے، فیملی اور خاندان کے ملاحظہ اور گھاٹے و نقصان کا پورا کرنا، جواز نہیں بن سکتا ہے کہ نابالغ بچہ، صلح کا مال بن جائے ،رہا شریعت کی رو سے بالغ بچہ ، تو اس کا حکم واضح ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح کرنا صحیح نہیں ہے
اس شخص کا حج جس کی نماز صحیح نہ ہو
جو شخص جاہل ہے اور ا س کی نماز بھی کامل نہیں ہے یعنی نماز پڑھنا صحیح سے نہیں سیکھا ہے ، اس کے باوجود ، اب اپنے مرحوم باپ کی نیابت میں حج کرنا چاہتا ہے کیا اس کا حج صحیح ہے ؟
جواب:۔ اگر نماز طواف کا موقعہ آنے سے پہلے کی مدت میں ، اپنی نماز کو کامل کرسکتا ہے تو اس صورت میں کوئی ممانعت نہیں ہے ورنہ اس صورت کے علاوہ اس کی نیابت میں اشکال ہے ۔
بہائی مذہب والے شخص کیلئے مسلمان کی میراث
کیا، بہائی مذہب شخص کو، مسلمان شخص کی میراث ملے گی؟
جواب: اس کو میراث نہیں ملے گی لیکن اگر اس بہائی شخص کے فرزند ۔، اس کے انتقال کے وقت مسلمان تھے اور دوسرے وارث ان پر مقدم نہ ہوں تب ان کو میراث ملے گی ۔
ولدیت کے اقرار کے بعد انکار
قانون مدنی (سِوِل لا) کے مادہ ۱۱۶۱ میں آیا ہے: اگر شوہر صراحتاً اپنی ابوّت (باپ ہونے) کا اقرار کرلے تو اس کا نفی ولد کا دعوا قبول نہیں کیا جائے گا، دوسری طرف سے یہ کہ قانون مدنی کے مادہ ۱۲۷۷ میں آیا ہے: ”اقرار کے بعد انکار قبول نہیں ہوگا، لیکن اگر مقرّ ادّعا کرے کہ اس کا اقرار فاسد تھا یعنی اشتباہ اور غلطی پر مبتنی تھا، قبول کیا جائے گا، اسی طرح جب مقر اپنے اقرار کے لئے عذر بیان کرے تو وہ بھی قابل قبول ہے؟“التماس ہے کہ فرمائیں:کیا تمام اقراروں میں مُقرّ یہ ادّعا کرسکتاہے کہ اس کا اقرار فاسد اور غلطی پر مبتنی تھا اور اس کا یہ دعوا قبول بھی کیا جاسکتا ہے؟
جواب: اقرار کے بعد انکار قابل قبول نہیں ہے، مگر یہ کہ ثابت ہوجائے واقعاً غلطی ہوگئی تھی؛ مثلاً کسی اجنبی کو اپنے بیٹے کی جگہ تصور کرلیا تھا۔
بھولے ہوئے تشہد کی قضا
اگر کوئی شخص ، نماز میں تشہد بھول جائے ، کیاتشہد کی قضا بجالانے کے بعد، سلام پڑھے؟
جواب:۔ احتیاط یہ ہے کہ سلام بھی پڑھے ، اور اس کے بعد سجدہٴ سہو بھی کرے ۔
شادی شدہ مرد کےلئے نکاح متعہ کرنا
کیا اس مرد کیلئے جس کی دائمی زوجہ موجود ہے، نکاح متعہ کرنا جائز ہے ؟ (اگر دوسری (متعی) بیوی، پہلی (دائمی) زوجہ کی رہائش گاہ میں زندگی بسر کرے یا دوسرے گھر میں رہے ان دونوں صورتوں کا حکم بیان فرمائیں ؟
جواب:۔ کوئی اشکال نہیں ہے لیکن فقط ضرورت کے وقت ایسا کیا جائے .
ان خواتین کا وظیفہ جو حالت احرام میں حائض ہو جائیں
جو خاتون عمرہ کے دورا ن حالت احرام میں یا احرام سے پہلے یاا س کے بعد ،حالت حیض میں ہو گئی ہے اس کا کیا وظیفہ ہے ؟
جواب :۔ ہر حال میں اس خاتون کا احرام صحیح ہے ، لیکن پا ک ہونے تک صبر کرے گی ، اس کے بعد طواف اور نماز طواف کو بجا لائے گی اور اس کے بعد عمرہ کے باقی اعمال ، انجام دے گی ۔
اجارہ (کرایہ) پر لی گئی موقوفہ زمین میں کنواں کھدوانا۔
اگر کوئی شخص موقوفہ زمین کو متولی سے کرایہ پر حاصل کرلے اور پھر اس میں کنواں کھدوائے کیا یہ کرایہ پر لینے والا موقوفہ زمین کے پانی سے مفت استفادہ کرسکتا ہے یا اس کو پانی کا کرایہ بھی ادا کرنا پڑے گا؟
جواب:اگر اجارہ فقط کھیتی کے لئے تھا تو کنواں کھود کر پانی نکالنے کے لئے دوسرے اجارہ کی ضرورت ہے، مگر یہ کہ عرف عام میں زمین کے اجارہ کے ساتھ کنواں کھودکر پانی نکالنا بھی شامل ہو ۔
اعتکاف کے محرّمات
اعتکاف کی حرام چیزوں میں کونسی چیز اعتکاف کے باطل ہونے کا سبب ہوتی ہے اور کن موارد میں کفارہ واجب ہے؟
پانچ چیزیں معتکف پر حرام ہیں ۔۱۔ اپنی بیوی سے لذّت اٹھانا؛ اگرچہ حلال طریقے سے ہی کیوں نہ ہو، جیسے اپنی بیوی کے ساتھ ملاعبہ کرنا ۔۲۔ عطر اور خوشبو کا سونگھنا؛ اگرچہ لذّت کے قصد سے نہ ہو ۔۳۔ ضروری نہ ہوتے ہوئے خرید وفروش بلکہ مطلقاً تجارت کرنا؛ لیکن دنیوی مباح کاموں کو انجام دینا جیسے کپڑا سلنے وغیرہ میں اشکال نہیں ہے ۔۴۔ دینی یا دنیوی مسائل میں مدمقابل پر غلبہ اور اظہار فضیلت کی خاطر بحث ومباحثہ یا جدل کرنا اور ان کاموں میں رات دن کا کوئی فرق نہیں ہے بہرحال گذشتہ امور میں سے ہر ایک کام اعتکاف کو باطل کردیتا ہے ۔

