چوری کے مال کو رکھنا اور چھپانا
کیا چوری کے مال کا رکھنا، چھپانا، اٹھاناہر ایک جدا جرم شمار ہوگا ، یا عمل واحد کے حکم میں ہے؟۔
جواب: اس صورت میں جب اس پر حد شرعی جاری ہو تو ان امور کی وجہ سے کوئی چیز اس کے اوپر عائد نہیں ہوتی۔
جواب: اس صورت میں جب اس پر حد شرعی جاری ہو تو ان امور کی وجہ سے کوئی چیز اس کے اوپر عائد نہیں ہوتی۔
اگر پیسہ کا مالک کسی رقم کو صدقہ یا خمس کے عنوان سے الگ کردے، اس میں تصرف کرسکتا ہے؛ لیکن اسے کسی کی امانت میں تصرف کا حق نہیں ہے ۔
جواب : جی ہاں اس کے بارے میں روایت میں ہے کے ہفتہ کے دن مغرب کے وقت تک قضا کرسکتا ہے ۔
حکومت کو دینی موسسوں کے استقلال کو مخدوش نہ کرنا چاہیے اور ان کو اپنی چادر تلے لے لینا چاہیے؛ لیکن ان کے اوپر دائمی اور سازندہ نظارت بہت بجا ہے، تاکہ خدا نخواستہ صحیح راستے سے منحرف نہ ہوجائیں ۔
جواب:۔ کوئی حرج نہیں ہے، لیکن ایک دن سے متعلق ، ظہر عصر ، مغرب اور عشاء کی قضا نمازوں کو اسی ترتیب سے بجا لائے ۔
جواب:۔ اگر حضر میں نماز پڑھے تو بلند آواز سے قرا ئت کرنا ،مستحب ہے اور اگر سفر میں ہوتو اس صورت میں بلند آواز سے قراٴت کرنا مستحب ہے ، جب جماعت سے نماز پڑھے،فرادیٰ کی صورت میں نہیں ۔
اگر نماز اجارہ ایسے شخص کی ہو کہ جس کی نماز قطعی طور سے قضا ہوئی ہے تو ایسے امام کی اقتداء میں کوئی اشکال نہیں ہے ۔
جواب:۔ احتیاط یہ ہے کہ جس کا نفقہ واجب ہے اس کو مطلقاً کفارہ نہ دیاجائے ۔
گذشتہ عمرہ کے متعلق جو تم نے لکھا ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور آئندہ کے متعلق جو لکھا ہے اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے ۔
جواب:۔ اگر اس شخص کو نہیں جانتا جس نے پیسہ دیا تھا تو دوسرے مجتہد کی اجازت سے کسی شخص کو اجرت دے کر اس کام پر مامور کرسکتا ہے ۔
جواب: اگر رشتہ دار، جان پہچان والوں اور جانکاروں سے پوچھ تاچھ اور دریافت کرنے کے بعد بھی مسئلہ واضح نہیں ہوا تو اس صورت میں احتیاط یہ ہے کہ دونوں کے وارث آپس میں مصالحت کریں البتہ اگر وارثوں میں، نابالغ بچہ نہ ہو ورنہ احتیاط یہ ہے کہ نابالغ بچہ کے حق کی رعایت کی جائے ۔
جواب:۔ جس قدر روز ے کے چھوڑنے کا یقین ہے ، اسی تعداد میں روزوں کی قضا کرے اور کفارہ بھی دے لیکن اگر اس کے لئے سخت ہو اور انجام نہ دے سکتا ہو تو اس صورت میں ، توضیح المسائل کے مسئلہ نمبر ۱۴۰۲ کے مطابق عمل کرے ۔
جواب ۔مطلق ذکر کی نیت سے کو ئی حرج نہیں ہے۔