چھوٹے بچّے(نابالغ) کی ماں کاقیمّ وسرپرست ہونا
اگر کسی کے بچہ کا دادا موجود نہ ہو (باپ کے مرنے کے بعد) کیا حاکم شرع کی اجازت سے ماں اس کی سرپرست بن سکتی ہے ؟
جواب:۔حاکم شرع کی اجازت سے کوئی حرج نہیں ہے .
جواب:۔حاکم شرع کی اجازت سے کوئی حرج نہیں ہے .
جواب:۔ کوئی حرج نہیں ہے، لیکن ایک دن سے متعلق ، ظہر عصر ، مغرب اور عشاء کی قضا نمازوں کو اسی ترتیب سے بجا لائے ۔
جواب : اگر واقعااسلام کی تحقیق کے لئے آناچاہیں تو کوئی اشکال نہیں ہے ۔
جواب:۔ بیوی کے ارادہ اور نیت سے مربوط ہے ، لہٰذا اگراسے امید ہوکہ شوہرکو واپس لے آئے گی تو ترک وطن میں شمار نہیں ہوگا ، اور اگر امیدنہ ہوتو خود بخود ترک وطن میں شمار ہوجائے گا۔
مفروضہ مسئلہ میں اگر تمھارا پڑھائی چھوڑنا سبب ہوتا ہو کہ کوئی دوسرا طالب علم تمھاری جگہ قبول کرلیا جائے گا تو ضروری ہے کہ تم تعلیم چھوڑدو، لیکن اگر اس کا وقت گذر گیا ہے تو ترک تعلیم لازم نہیں ہے لیکن کوشش کرو کہ آئندہ کبھی بھی نقل وغیرہ کے پیچھے نہ جاؤ اور گذشتہ خطاء اور ضائع شدہ حق کو صاحب حق کے حق میں اعمال صالحہ انجام دینے سے تلافی کرو ۔
اگر قاتل نے مدّمقابل شخص پر حملہ آور ہونے کا گمان کرکے گولی چلائی ہے، تو قصاص نہیں ہے لیکن دیت ضرور ادا کرے ۔
ان افراد کے لئے فلسفہ کا سیکھنا جنھوں نے اپنے اعتقاد کی بنیادوں کو مضبوط کرلیا ہو نہ یہ کہ مضر ہو بلکہ فکروں میں ترقی کا سبب بھی ہوتا ہے، لیکن اس کو متدین اُستاد سے حاصل کرے ۔
چنانچہ ،مزدور اور اجرت پر کام کرنے والے لوگوں کا قصد ، بندوں کو ان کی ذمہ داریوں اورقرضوں سے نجات دلانا ہو، تو انہیں ثواب بھی ملے گا۔
اگر باغ کی حصار کشی نہ ہوئی ہو یا درختوں کی شاخیں باغ سے باہر آرہی ہوں اور وہ شخص وہاں سے گذرنے کے قصد سے جائے نہ کہ پھل توڑنے کی غرض سے تو اس صورت میں باغ میں سے بقدر حاجت کھانے (نہ کہ لے جانے) میں کوئی اشکال نہیں ہے ۔
جواب: سرویس چارج سے مراد وہ حق الزحمہ ہے جوو بینک یا قرض الحسنہ سوسائٹی وغیرہ کے ملازمین کو تنخواہ کے عنوان سے ان زحمتوں کے مقابل میں ادا کیا جاتا ہے کہ جس سے حساب میں خلل واقع نہ ہو اور تمام کامنجوبی انجام پاجائیں، چنانچہ اگر اضافی مقدار کو اسی نیت سے لیا جائے اور تنخواہ کے عنوان سے ملازمین اور دوسرے اخراجات میں صرف ہو تو کوئی ممانعت نہیں ہے اور باقی ماندہ مقدار کو بھی ملازمین اور دوسرے اخراجات میں صرف کریں۔
جواب:مسئلہ کے فرض میں اس وقت جبکہ کسی کی جان خطرے میں ہو، مشروع راستے کو اختیار کرنا کوئی مانع نہیں رکھتا۔
جواب: اس طریقے سے ہونا چاہیے کہ کوئی چیز خلاف شرعی پیش نہ آئے، خوش کلامی اور منطقی طور سے انجام دیا جائے۔
بہتر ہے تشویق کے ذریعہ یہ کام انجام دے ۔