غیر مخمس لباس کا احرام
اگر احرام کا لباس ایسے مال سے خریدار جائے جس کا خمس یا زکات نہ دی گئی ہو ، کیا ایسے لباس کا احرام صحیح ہے ؟
جواب :۔ ایسے لباس کا احرام ، حرام ہے ۔
جواب :۔ ایسے لباس کا احرام ، حرام ہے ۔
جواب: ۔ کوئی حرج نہیں ہے مگر جب کہ ایسا کرنا ، دشمن کے ہاتھ میں دستاویز دینا ہو۔
الف وب: وطن وہجگہ ہوتی ہے جہاں انسان لگاتار رہ رہا ہو اور کم از کم ہر سال پر چند مہینے رہے، اور بقیہ چیزیں جو آپ نے تحریر کی ہیں ان کا کوئی اثر نہیں ہے ۔د: اگر اس کا قصد ہو کہ مستقبل قریب میں (مثلاً چند سالوں کے اندر) اس جگہ کوسکونت کے لئے اختیار کرے گا تو وطن سے اعراض حاصل نہیں ہوگا اور اس جگہ اس کی نماز اور روزے پورے ہیں، اس صورت کے علاوہ اس کی نماز قصر ہے ۔ه: تقلید کے مسئلہ میں تابع نہیں ہیں لیکن وطن اور اعراض وطن کے سلسلے میں اگر وہ باپ کے ساتھ رہتے ہوں اور اس کی نظر کے موافق ہوں تو اس کے تابع شمار ہوںگے ۔و : اس کی کوئی تاثیر نہیں ہے ۔
ممکن ہے کہ تلوار کے ساتھ قیام کرنا، فوج اور قدرت کی طرف اشارہ ہو۔ اس لیے کہ عام طور سے تلوار قدرت اور قلم علم کے لیے کنایہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کے دور میں آج کے جدید اسلحے کام نہ کریں اور ان ہی جیسے سرد اسلحوں سے کام لیا جائے۔ اس لیے کہ آج کے سنگین اور خطرناک گرم اسلحوں، میزائلوں اور بموں سے بے گناہ اور گناہگار سب ختم ہو جاتے ہیں۔
اڑی ہوئی باتوں کی ایک دوسرے کی طرف نسبت دینا، غیبت سے بڑھ کر ہے، ہاں اگر پوشیدہ عیب کو آشکار کئے بغیر بیان کرے تو غیبت ہوتی ہے ۔
جواب:۔ آپ بندر عباس اور شیراز میں نمازوں کو کامل پڑھیں اور روزہ بھی رکھیں لیکن دونوں کے درمیانی راستہ میں آپ کی نماز اور روزہ قصر ہے ۔
جواب: ظاہر روایات بلکہ بہت سی روایات کی صراحت کے مطابق، انفال روئے زمین کے تمام منافع کو شامل ہے لیکن یہ بات واضح ہے کہ حاکم اسلامی اور ولی فقیہ مسلمانوں کے مفاد کے مطابق جہانی قوانین کا لحاظ کرسکتا ہے ۔
جواب:جو کچھ روایات میں وارد ہوا ہے وہ یہ ہے کہ بھیڑوں کو دو حصوں میں تقسیم کرے ان میں سے ایک حصہ کو قرعہ کے ذریعہ الگ کرے اور پھر دوبارہ دو حصوں میں تقسیم کر کے قرعہ ڈالے اور اس طریقہ پر عمل کرے ۔یہاںتک ایک بھیڑ رہ جائے لیکن اس طریقہ میںبھی جو تم نے تحریر کیا ہے کوئی مخالفت نہیں ہے ، اس لئے کہ جو کچھ روایت میں آیا ہے وہ قرعہ کی ایک قسم کا بیان ہے ۔
اگر بڑھا چڑھاکر پیش کرنے سے مراد بے جا مبالغہ اور بلاوجہ بزرگ نمائی ہو تو جائز نہیں ہے لیکن اگر اس سے منظور ناشناختہ با ایمان اور گرانقدر شخصیت کو پہچنوانا ہو تو نہ یہ کہ یہ کام اچھا ہی ہے بلکہ ضروری بھی ہے ۔
اس طرح کی صورتوں میں بچوں کو اس مقدار میں پیسا دے دیا جائے کہ جس سے وہ بھی میراث اور معاملات میں شریک ہو جائیں تو اس کے بعد اس طرح کے تصرفات جایز ہو جائیں گے۔
جواب: اگر وہ عورت اس مال کے مالکوں کو پہچانتی ہے تو وہ مال ان کو واپس کر دے اور اگر نہیں پہچانتی ہے تو وہ مال مجہول المالک یعنی جس کے مالک کا پتہ نہ ہو ، کے حکم میں ہے ، اور اگر اس کو اس مال کی بہت زیادہ ضرورت ہے توحاکم شرع اس بات کا لحاظ کرتے ہوئے کہ اس نے توبہ کی ہے ، اس مال کو رد مظالم کے عنوان سے عورت کو دے سکتاہے۔
جواب:۔ اگر معمول اور، رواج کے مطابق ہو تو اس صورت میں کوئی مانع نہیں ہے .
جواب:۔ ایسے رنگین کاغذ پرجسمیں رنگ کے ذرات ( جرم) نہ ہوں کوئی حرج نہیں ہے ، لیکن بہتر ہے ، کرنسی نو ٹ پر سجدہ کرنے سے پر ہیز کیا جائے ۔
جواب : ۔ احتیاط یہ ہے کہ متولی سے اجازت لیں ، لیکن اگر متولی ، مسجد کے قائدے کا لحاظ نہیں رکھتا یا مخالفت کرتا ہے تو حاکم شرع سے اجازت لیں ۔
اگر ممکن ہو کہ وہ بچ جانے والے کھانے کو کسی اور کو دے دے اور پھینکنا نہ پڑے تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ورنہ اسراف ہے جو کہ حرام ہے۔