سرجری کے لئے تھوڑی سی کھال کا کاٹنا
ڈاکٹر نے مریض کے بدن کی کھال کا کچھ حصّہ زخم یا جلے ہوئے کی سرجری کرنے کے لئے کاٹ لیا ہے کیا اس حصّے کے لئے علیحدہ دیت یا ارش منطور ہوگا ؟
جواب: اس حصّے کی نہ کوئی دیت ہے اور نہ ارش ۔
جواب: اس حصّے کی نہ کوئی دیت ہے اور نہ ارش ۔
اگر ایسی جگہوں میں نظام کی حفاظت ایسے قوانین پر موقوف ہوتو پھر کوئی ممانعت نہیں ہے، بشرطیکہ مجتہد یا ایسے شخص کی زیر نظر ہو جو اس کی طرف سے ماذون ہو اور یہ کام شریعت کے قوانین کی رعایت کرتے ہوئے انجام پائے ۔ اور جرمانے کے حاصل کرنے کی صورت میں، عدالت سے کام لیا جائے اور اضافی پیسے کو اس کے مالک کو پلٹا یا جائے ۔
جواب :۔ یہ مسئلہ ، احرام کے محرمات میں سے نہیں ہے بلکہ ہر شخص پر حرم کے درخت کا کاٹنا حرام ہے ۔
جواب: جو نمازیں سفر میں قضا ہوئی ہیں انہیںقضاپڑھے چاہے سفر میں پڑھے یا حضر میں اور جو نماز یں حضر میں ( وطن ) میں قضا ہوئی ہیں ، انھیں کامل پڑھے خواہ سفر میں بجا لائے یاحضر میں ۔
اس جیسے موارد میں حاکم شرع، صغیر کا ولی ہے اور وہ ہی احقاق حق کرے گا۔
جواب:۔ جب تک کسی شخص کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس کا لباس یا بدن نجس ہے اور نماز پڑھ لے تو اس کی نماز صحیح ہے ، اور جماعت کا اتصال بھی بر قرار رہتا ہے۔
جواب : وہ مسجدیں جو سڑکوں پر متروکہ پڑی ہیں اور دوبارہ آباد ہونے کی امید بھی نہیں ہے ، ان میں مسجد ہونے اور وقف ہونے کا حکم زائل ہوجاتا ہے ،اور جس شخص نے ایسا کیا ہے اسے چاہیئے کہ اس مسجد کی قیمت کے برابر رقم دوسری مسجد بنانے یا دیگر تمام مسجدوں کی تعمیر میں خرچ کرے حقیقت میں یہ عین مال کو تلف کرنا ہے ،لیکن جب تک کوئی شدید ضرورت نہ آن پڑے ، مسجد کو گرانا کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہے اور وہ مسجدیں جوبیابانو ں میں متروکہ ہیں یا گاؤں و دیہاتوںمیں متروکہ پڑی ہوئی ہیں (یعنی ان میں کوئی نماز پڑھنے والا نہیں ہے )ان کو اس طرح محفوظ رکھنا چاہئے کہ ان کی بے حرمتی نہ ہو۔
جواب۔بعض گذشتہ مجتہدین جو اب حیات نہیں ہےںاور بعض زندہ مجتہدین حرام ہونے کا حکم نہیں دیتے شاید مذکورہ شخص ان کا مقلد ہو .
جواب: الف تا ج۔ خودکشی سے روکنا ہر مسلمان پر واجب ہے اور اگر اس کے بچانے میں کم ہیسا خرچ ہو رہا ہو تو جان بچانے والے کو خرچ کرنا چاہیے لیکن اگر پیسا زیادہ خرچ ہو رہا ہو تو یا جان کا خطرہ ہو تو اس کے اوپر بچانا لازم نہیں ہے لیکن اگر بیت المال اسے ادا کر سکتا ہو تو اسے ادا کرنا چاہیے ۔د۔ کافر حربی کی جان بچانا لازم نہیں ہے جبکہ کافر ذمی کے بارے میں احتیاط یہ ہے کہ اس کی جان بچانا چاہیے ۔ھ۔ اس کی اجازت کا ہونا ضروری نہیں ہے ۔و۔ اگر اسے بچانے کے راہیں محدود ہوں اور اس میں اسے ضرر پہچ جائے تو اسے بچانے کے لیے ایسا کر سکتا ہے اور ضامن بھی نہیں ہے ۔
جواب: سیادت کے بعض احکام منجملہ، خمس لینا، منتقل نہیں ہوتے اور اس کی وجہ بھی فقہی کتابوں میں بیان ہوئی ہے۔
بیت المال کے خاص مصارف ہیں، ان میں ہی اس کو خرچ کرنا چاہیے ۔
جواب:جب بھی ثابت ہوجائے کہ جانی چند معین اور مشخص افراد میں سے کوئی ایک ہے اور ان میں سے کوئی ایک بھی اقرار نہ کرے، دیت بطور مساوی ان کے درمیان تقسیم ہوگی۔
اگر واقعا تنہائی سے ڈرتی ہو تو اس سال مستطیع نہیں ہو اور اگلے سال تک انتظار کرسکتی ہو ۔
جواب : ان موراد میں جو قصاص کا سبب بنتے ہیں ، اگر شاکی قصاص کا تقاضا کرے تو قصاص جاری ہوگا اور اگر شاکی قصاص کے بدلے جرمانہ پر راضی ہوگیا تھا تو قصاص کا حکم ساقط ہے اور اگر راضی نہیں ہوا تھا تو جرمانے کی رقم کو واپس کرکے قصاص کا تقاضا کرسکتا ہے ۔جواب : حدود والے جرائم میں حد ساقط نہیں ہوگی؛ کیوں کہ ان میں حد کے جاری کرنے کے شرائط نہیں پائے جاتے لہٰذاوہ حد کے قائل نہیں ہیں۔جواب : اس چیز پر توجہ رکھتے ہوئے کہ تعزیر نظر حاکم سے مربوط ہے اگر وہاں پر ان کو تعذیر کردیا گیا تھا ہر چند کہ تعذیر، زندان کی صورت میں تھی تو حاکم شرع یہاں کی تعذیر میں تخفےف دے سکتا ہے، چاہے تعذیر ملامت اور سرزنش کی صورت میں ہی کیوں نہ ہوئی ہو۔