سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

جنگ میں لاپتہ شخص کے مال کی تقسیم

لاپتہ شخص کے مال کا کیا حکم ہے ؟

جواب: جب تک اس کے مرنے کا یقین نہ ہوجائے اس وقت تک اس کے مال کو محفوظ رکھنا ضروری ہے اور اگر ایسا مال ہے جس کا ضائع ہونا ممکن ہے تو حاکم شرع کی اجازت سے اس کو فروخت کرکے اس کی رقم کو اس کے بارے میں اطلاع ملنے تک ، گواہوں کے سامنے اس کے کسی قابل اعتماد وارث کے پاس رکھ دی جائے ۔

دسته‌ها: مختلف مسایل

مسجد کے فرشوں کا ہمرنگ اور ایک سائز ہونا

مسجدوں کے رنگ برنگے اور چھوٹے بڑے فرشوں کو اس غرض سے بیچنا کہ ان کے بدلے میں ایک رنگ اور ایک سائز کے فرش خریدے جائیں اور خوش نما معلوم ہوں، جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مسجد میں آنے والوں کی تعداد میں زیادتی کا امکان ہوجائے گا، اس مسئلہ کا حکم بیان فرمائیں؟

اگر یہ فرش مسجد کے لئے وقف ہوں تو ان کا بیچنا جائز نہیں ہے، کیونکہ اس کی کوئی ضرورت بھی نہیں ہے لیکن اگر مسجد کی ملکیت ہو تو اس کام میں کوئی ممانعت نہیں ہے (مسجد کی ملکیت جیسے وہ سامان جو موقوفہ وغیرہ کی آمدنی سے خریدا گیا ہو

دسته‌ها: وقف کے احکام

وہ تحفہ وتحائف جو لڑکی کے گھر والے دیتے ہیں

عام رواج کے مطابق نکاح اور رخصتی کے بعد دلہن کے گھر والے اپنی بیٹی کیلئے کچھ تحفہ و ہدیے لے جاتے ہیں، ان شوہر بیوی کے جدا ہونے یا دلہن کے مرنے کے بعد وہ تحفہ کس کے ہیں ؟

جواب:۔اگر کوئی خاص قرینہ نہ پایا جائے تو ظاہر یہ ہے کہ لڑکی کی ملکیت ہیں، جو باپ نے اپنی بیٹی کے احترام اور شوہر کے نزدیک اس کی عزت وآبرو بڑھانے کے لئے دیے ہیں

اپنا سب کچھ مال و دولت زوجہ کو فروخت کردینا

ایک مجوسی گھرانہ کا لڑکا ۱۳۶۲ئھ شمسی میں، فدائی چھاپہ مار گروہ کے ایک مہرہ کے عنوان سے، گرفتار اور قید ہوجاتا ہے، مذکورہ شخص کی سزا کا حکم بھی، جیل ہی میں، صادر ہوجاتا ہے، لیکن وہ قید میں رہتے ہوئے توبہ کرلیتا ہے اور دین اسلام کی جانب مائل ہوجاتاہے نیز قید کی سزا ختم ہونے کے بعد، جب جیل سے رہا ہواتو اس کے بعد ۱۳۶۶ء شمسی میں اس کا باپ مرجاتا ہے اور ۱۳۶۸ء شمسی میں، وہ شخص، میراث میں سے اپنا حصہ وصول کرلیتا ہے اور غیر منقولہ چیزوں کو قانونی اعتبار سے اپنے قبضہ میں لے لیتا ہے ۔ اب فی الحال عدالت کے ایک وکیل کی رہنمائی سے، ملکی قانون کے بند، ۸۸۱ کی بناپر جس میں آیا ہے: ”کافر کو مسلمان کی میراث نہیں ملے گی اور اگر مرنے والے کافر کے وارثوں میں سے کوئی وارث مسلمان ہوجائے تو کافر وارثوں کو میراث نہیں ملے گی اگر چہ وہ لوگ میراث کے طبقہ اور درجہ کے لحاظ سے مقدم ہی کیو ں نہ ہوں“ وہ شخص اپنی (کافر)ماں، بہن اور بھائی کے خلاف، مقدمہ دائر کردیتا ہے، آپ فرمائیں کہ کیا مسلمان وارث کے علاوہ کافر وارثوں بھی کو میراث ملے گی ؟

مذکورہ مسئلہ کے فرض میں، فقط مسلمان وارث کو میراث ملے گی، لیکن اس طرح کے موقعہ پر اگر اخلاقی مسائل کا لحاظ رکھا جائے تو بہتر ہے ۔

دسته‌ها: مختلف مسایل
دسته‌ها: مهر
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت