سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

لڑائی جھگڑے سے وجود میں آئے ڈر ودہشت کی وجہ سے مرجانا

ممکن ہے جھگڑے کے طرفین میں سے کوئی ایک جھگڑے سے وجود میں آئے دل کے ہیجان کی وجہ سے سکتہ قلبی (ہارٹ اٹیک) کا شکار ہوکر فوت ہوجائے، اس غرض سے کہ لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد دقیق معائنہ کیا جائے شاید قلبی بیماری کے نقع میں یا جدید یا قدیم سکتہ قلبی کے نقع میں کچھ علامتیں مل جائیں، قاضی معمولاً مقدَّمہ کی فائل کو، مربوطہ ڈاکٹروں کے کمیشن کے پاس بھیجتا ہے اور ان کی نظر کو جھگڑے کی وجہ سے وجود میں ہیجان اور خوف کی تاثیر کو بیماری کے شدید ہونے اور اس کے جلدی مرنے کے سلسلے میں، دریافت کرتا ہے، لہٰذا حضور فرمائیں:ایک: جب بھی کوئی جھگڑے سے وجود میں آئے ہیجان کی وجہ سے فوت کرجائے، کیا قانونی ڈاکٹر کی تشخیص کی صورت میں، جھگڑے کے ذمہ دار کو دیت کے اوپر محکوم کیا جاسکتا ہے؟دو: کیا جھگڑے کا ذمہ دار کہ جو مرنے والے کے غصّہ اور سکتہ قلبی کا سبب ہوا ہے قتل میں مباشر ہے یا یہ کہ(قانونی ڈاکٹر کی نظر کے مطابق) تاثیر عمل کے برابر دیت ادا کرے؟

جواب: اگر جھگڑے اور روحی فشار کا ذمہ دار خود متوفی تھا، یا بیرونی عوامل موٴثِّر تھےتو کوئی بھی ضامن نہیں ہے ؛ لیکن اگر حسّی قرائن اور اہل خبرہ کے قول سے معلوم ہوجائے کہ طرف مقابل اس کام کا عامل تھا تو وہ ہی تاثیر کی نسبت ضامن ہے۔

دسته‌ها: ضمانت کے اسباب

غلط فکروں کا پھیلانا

کچھ اشخاص ایسے ہیں جن کے افکار واندیشے اکثر فقہائے شیعہ کے نظریات اور اسلامی جمہوریہ پر حاکم فقہ کے مخالف ہیں (جیسے ولایت فقیہ کا نظریہ) کیا ہم اُن نظریات وافکار کو معاشرںے میں منتشر کرسکتے ہیں تاکہ لوگ مختلف اقوال کو سن کر ان میں سے بہترین کا انتخاب کریں؟ جواب کے منفی ہونے کی صورت میں، آیہٴ شریفہ (فَبَشِّر عِبَادِ الَّذِینَ یَستَمِعُون الْقَول فَیَتَّبِعُونَ اٴحْسَنَہ) کی کس طرح تفسیر کریں گے؟

یہ کام اگر بدآموزی کا سبب نہ بنے تو بہت اچھا کام ہے اور عمدتاً یہ مشکل مخالفین کے نظریات کو مناسب طریقے سے بیان کرنے سے حل ہوجاتی ہے، اس طرح کہ ان کے نظریات کو مضر اور مخرّب طریقے سے اور جھوٹ اور تہمت کے ہمراہ بیان نہ کئے جائیں، البتہ توجّہ رکھنا چاہیے کہ مسائل مختلف ہیں؛ کچھ مسائل کو عوام الناس میں بیان کرسکتے ہیں اور کچھ مسائل ایسے ہوتے کہ جن کو فقط حوزہٴ علمیہ، یونیورسٹی اور علمی محافل کی حدود میں رہنا چاہیے؛ کیونکہ اُن مسائل میں تخصصی آگاہی کی ضرورت ہے، یقینا ان دونوں مسائل کا ایک دوسرے سے مشتبہ ہونا معاشرے میں بہت مشکلات کا باعث ہوگا۔

عورتوں کی تلاوت قرآن سننا

اگر عورت ، لحن میں قرآن کی تلاوت کرے کیا مرد اس کو سن سکتا ہے ؟

جواب:۔ اگر عورت، سادہ طریقہ سے قرآن کی تلاوت کرے تو اس صورت میں کو ئی ممانعت نہیں ہے لیکن اگر ترنم اور خوبصورت آواز میں تلاوت کرے تو نامحرم مرد کا، اسکی تلاوت کو سننا جائز نہیں ہے اور کیسٹ اور غیر کیسٹ میں کوئی فرق نہیں ہے .

دسته‌ها: قرآن مجید

دو شخصوں کا مقتول کے سر پر دو وار کرنا

پہلا شخص پتھر سے مقتول کے سر پر وار کرتا ہے اور اس کو زمین پر گرادیتا ہے مضروب جاں کنی کی حالت میں تھا کہ وہ شخص دوبارہ پتھر اٹھاتا ہے تاکہ اس کو مارے لیکن دوسرا شخص پتھر کو پہلے شخص سے چھین لیتا ہے اور دونوں ہاتھ مضروب کے سر پر دے مارتا ہے ، مذکورہ شخص سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے مرجاتا ہے اولیاء دم کے وکیل نے دوسرے وار کے مورد میں بحث کرتے وقت کہا : ”دوسرے وار نے متوفیٰ کی آخری رمق حیات کو سلب کیا ہے“ اگر بالفرض دونوں وار سر کے ایک ہی نقطہ وارد ہوئے ہوں تو آپ فرمائیں :۱۔ کیا یہ قتل عمد ہے یا شبہ عمد ہے اور قاتل کون ہے؟۲۔ تعذیرات اسلامی کے قانون کی دفعہ ۲۱۷یہ ہے : ”جب بھی پہلا شخص کوئی جراحت وارد کرکے مجروح کو مردے کے حکم میں پہنچا دے اور فقط حیا ت کی آخری رمق اس میں باقی رہ جائے ، اس حالت میں دوسرا شخص کوئی ایسا کام انجام دے کہ اس کی زندگی کا خاتمہ ہوجائے ، پہلے شخص سے قصاص ہوگا اور دوسراشخص مردے پر جنایت کرنے کی وجہ سے دیت ادا کرے گا “ کیا یہ قانون ہمارے اس مسئلہ میں صادق آتا ہے؟

جواب : یہ دونوں وار چاہے سر کے ایک نقطہ پر وارد ہوئے ہوں یا دونقطوں پر، قتل عمد ہے اور دونوں مشترکا ًقاتل شمار ہوں گے۔جواب2 : جو آپ نے اوپر ذکر کیا ہے قانون کے اس مادے کو شامل نہیں ہے مگر یہ کہ پہلے شخص نے اس کا کام تمام کردیا ہو۔

تحقیق کے بعد اسلام کے بجائے کسی دوسرے دین کا انتخاب

آپ کی توضیح المسائل کے شروع میں آیا ہے” اصول دین میں مسلمانوں کا عقیدہ دلیل و برہان کے ذریعہ ہونا چاہیئے“ اگر کوئی مسلمان تحقیق کرنے کے بعد اسلام کے بجائے کسی دوسرے دین کو اختیار کرلیتا ہے تووہ مسلمان کیا اس دین کی پیروی کرسکتا ہے ؟ اس صورت میں اس مسلمان پر کیا مرتد کا حکم جاری نہیںہوگا ؟ اوراگر جاری ہوگا تو کیوں؟ آیایہ مرتد کا حکم اصول دین میںتحقیق کرنے اور اس میں کسی کی تقلید نہ کرنے سے نا سازگار نہیں ہے؟ ۔نیزجس شخص کو یہ معلوم ہو کہ اگر اپنے ماں باپ کے دین کے علاوہ کسی اور دین کو اختیار کرے گا تووہ شخص قتل کردیاجائے گا ایسے میں یہ شخص اصول دین میں آزادانہ طور پر تحقیق کیسے کرسکتا ہے ؟

جواب : دین کی تحقیق اور کسی مذہب کے عقیدہ کا اظہار یہ دو الگ چیزیں ہیں،اس کی مزید وضاحت یہ ہے کہ سب انسانوںپر ضروری ہے کہ اصول دین کی تحقیق اپنی توانائی بھر کرے اور اگر کسی انسان نے حقیقت میں اپنی کامل تحقیقات اور اہل علم سے پوچھ تاچھ کے بعد اسلام کے بجائے کسی دوسرے دین کو اختیار کرلیا ہے تو ایسا شخص معذور ہے کیونکہ اس نے شرعی و عقلی فریضہ کو پورا کردیا ہے اگرچہ اس نے خطا کی ہے ، لیکن جو شخص پہلے مسلمان تھا کسی وجہ سے دوسرے مذہب کو اختیار اور اس کا اظہار بھی کرنے لگا تو ایسا شخص مرتد کے حکم میں ہوگا حقیقت میں یہ مرتد کا حکم اسلام کا سیاسی حکم ہے تاکہ دشمن مسلمانوں کو فریب اور اسلامی ماحول میں نفوذ نہ کرنے پائے ۔

دسته‌ها: مرتد

چھوٹے نابالغ بچوں کے یہاں مہمان ہونا

اگر کسی گھر میں یتیم بچے ہوں جن کا باپ دنیا سے گذر گیا ہو اور ان کی سر پر ستی ان کی ماں کے ذمہ ہو اور ان میں چھوٹا ( نابالغ) بچہ بھی ہو چنانچہ حکومت کی جانب سے انھیں ماہانا وظیفہ دیا جاتا ہو یہاں تک کہ چھوٹے بچے تک کا وظیفہ دیا جاتا ہو تو اس گھر میں مہمان ہونے کا کیا حکم ہے ؟

چنانچہ بچوں کے اس ولی (سرپرست) کی اجازت سے ہو جو عادل حاکم شرعی کی جانب سے معین کیا گیا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن معمول اور عام رائج، حد سے خارج نہیں ہونا چاہئے نیز چھوٹے بچے کے لئے اس کا مہمان ہونا نفع بخش ہو یا چھوٹے بچے کے حق کے برابر کچھ دیدے

دسته‌ها: معاشرت

گناہ سے توبہ وبخشش کا سبب ہے

میں ایک بہت بڑا گناہ کار شخص ہوں اور بہت سے وحشتناک گناہوں کا مرتکب ہوا ہوں، میں نے اپنے گذشتہ اعمال سے توبہ کرلی ہے اور پہلی فرصت میں نادم اور شرمسار ہوں، کیا خدا مجھے بخش دے گا؟ کون سے وہ کام ہیں جن کا اجر زیادہ ہے اور ان کو انجام دوں تاکہ سکون قلب حاصل ہوجائے؟

سب سے بڑا عمل عفو وبخشش الٰہی پر اُمیدوار رہنا ہے اور ان کاموں سے پرہیز ہے جن کو خداوندعالم نے قرآن مجید میں اور پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم اور آئمہ طاہرین علیہم السلام نے اپنے ارشادات میں بیان فرمائے ہیں اور علماء اور مجتہدین نے اپنی کتابوں میں لکھے ہیں، کوشش کریں کہ آئندہ میں اچھے کاموں خصوصاً لوگوں کی زبان یا مال کے ذریعہ خدمت کرنے سے گذشتہ اعمال کی تلافی کریں ۔

دسته‌ها: توبہ
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت