خواتین کیلئے چہرے اور کلائیوں کا چھپانا واجب ہے
عورت کا اپنے چہرے اور ہاتھوں کو نہ چھپانا ، اگر معاشرہ میں عورت کے لئے فساد اور مشکلات کا باعث ہو تو کیا چہرے اور ہاتھوں کو چھپانا واجب ہے ؟
جواب : اگر فساد و مشکلات کا باعث ہے تو واجب ہے ۔
جواب : اگر فساد و مشکلات کا باعث ہے تو واجب ہے ۔
قصاص یا معاف کرنا مشکل ہے مگر ایسی حالت میں کہ جب ایسا کرنا، نابالغ وارثوں کے حق میں یقینی طور پر ضروری ہوگیا ہو۔
اگر کہیں پر مسلمان کی جان خطرے میں ہو تو حسب تمکن اس کی جان بچانا واجب کفائی ہے، لیکن اگر کوئی مسلمان ،رنج وزحمت اور سختی میں زندگی گذار رہا ہے نہ یہ کہ اس کی جان خطرے میں ہو تو ایسے افراد کی کمک کرنا مستحب موٴکد ہے ۔
جواب:۔ اشکال سے خالی نہیں ہے ، لیکن توجہ رہے کہ احتیاط کی مراعات کرتے ہوئے کسی لفظ کو ایک یا دوبار دہرانا ، وسواس ہونے کی دلیل نہیں ہے ۔
جواب :۔ کوئی حرج نہیں ہے لیکن وہ سب کا سب ضرورتمندلوگوں کو دیدیں ۔
جواب: چنانچہ جائداد اور زمین کو اس شخص کے قبضہ میں دیدے تب تو کوئی اشکال نہیں ہے، ہبہ نافذ اور لازم ہے البتہ جب تک وہ خود با حیات ہے اس زمین کے منافع کا مالک رہے گا۔
جواب: جس قدر کر سکتاہے اور قدرت رکھتاہے ،اسی قدر اپنی نذر پر عمل کرے۔
جواب : اگر قاضی، حسی یا حس سے نزدیک قرائن سے کسی شخص کے ذریعہ وقوع قتل کا علم رکھتا ہو تو وہ اپنے علم کے مطابق عمل کرے گا قسامہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس صورت کے علاوہ قسامہ جاری ہوگا اور دیت بیت المال سے ادا ہوگی۔
جواب: کوئی حرج نہیں ، غسل کرسکتی ہے ، غسل جنابت کرنے سے جنابت سے وہ پاک ہوجائے گی ، نیز مستحبی غسل بھی کرسکتی ہے ۔
جواب: اگر کپڑے یا کتے کا جسم گیلا نہ ہو تو نہ لباس نجس ہو گا اور نہ مسجد ۔
جواب: اس جہت سے اشخاص مختلف ہیں ؛ گوشت کے بقدر کافی نہ ہوئے کی صورت میں ”ملتحمہ“ یا اس کے مانند کوئی اور زخم قابل تصور نہیں ہے ، لیکن ”سمحاق“اور ”موضحہ“ جیسے زخم قابل تصور ہو سکتے ہیں ۔
جواب:۔ اس مورد میں جو آپ نے تحریر کیا ہے اپنی آواز کو آہستہ کریں اور یا ترنم میں نہ پڑھیں.
جواب : ۔ ان کے غیر شرعی احکام کی پیروی کرنا جائز نہیں ہے ، لیکن صحیح اور شرعی ( جائز) دستورات میں ان کی اتباع کرنا چاہئیے ، اور ضروری ہے کہ اسلامی معاشرے کے کاموں پر نگراں ، ایسے ، اشخاص رکھے جائیں جو اسلامی احکام کے پا بند ہوں ۔
جواب:اگر خون منھ کے اندر ہے تو نماز باطل نہیں ہے لیکن اگر وہ ایک درھم یا اس سے زیادہ مقدار میں ، ہونٹوں سے باہر آجائے ، تو نماز کو ترک کردے ، منھ کو پانی سے دھوئے پھر دوبارہ نماز پڑھے اور اگر خون ایک درھم کی مقدار سے کم ہو ، البتہ لعاب دہن کے ساتھ مخلوط ہو کر منھ سے باہر آجائے ، اس صورت میں بھی نماز ، محل اشکال ہے ، یعنی نماز درست نہیں ہے ۔