ٹور بنا کر اسرائیل کا سفر اختیار کرنا
کیا ٹور سینٹر والوں کے لئے، مسلمانوں کو، اسرائیل کے ٹور پر لے جانا جائز ہے؟
اس قسم کے ٹور، دشمنان اسلام کی تقویت کا سبب اور مسلمانوں کو کمزور کرنے کا باعث ہوتے ہیں، لہٰذا یہ کام کسی مسلمان کے لئے بھی جائز نہیں-
ماں کی جان بچانے کے لیے حمل کو ساقط کرنا
اگر ڈاکٹر قطعی طور پر کہے کہ بچہ کے پیٹ میں رہنے کی صورت میں ماں کی جان جا سکتی ہے تو درج ذیل مسائل کا حکم کیا ہوگا:الف: کیا بچہ کا رحم مادر میں ختم کر دینا جائز ہے تا کہ ماں کی جان بچ سکے؟ب: کیا ماں کو اسی حالت پر چھوڑ دینا جائز ہے تا کہ اس بچہ کی ولادت ہو جائے اور ماں مر جائے؟ج: اگر ماں کو اسی حالت میں چھوڑ دیا جائے اور ماں اور بچے دونوں کے مرنے کا احتمال ہو تو حکم کیا ہوگا؟ (موت و حیات کا احتمال دونوں کے لیے مساوی ہو)د: اگر بچہ میں روح پڑ چکی ہو یا نہ پڑی ہو تو اس سے مسئلہ پر کوئی فرق پڑے گا؟
جواب: الف۔ اگر بچہ کی خلقت کامل نہ ہوئی ہو تو سقط کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ب۔ اگر بچے نے ابھی انسانی شکل و صورت اختیار نہ کی ہو تو ماں کی جان بچانے کے لیے اس کا سقط کرنا جائز ہے۔ج۔ اگر یہ معلوم ہو کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک ہی بچ سکے گا تو ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دیا جائے گا تا کہ جس کو بچنا ہو وہ بچ جائے اور اس میں کسی انسان کا کوئی دخل نہ ہو اور اگر حالات یہ ہوں کہ یا دونوں مریں گے یا صرف بچہ مرے گا تو اس صورت میں بچہ کو سقط کرانا جائز ہے تا کہ ماں کی جان بچائی جا سکے۔د۔ مذکورہ بالا جوابات سے اس کا جواب بھی روشن ہو چکا ہے۔
مولف کی اجازت کے بغیر کتاب چھاپنا
ایک مولف کوئی کتاب لکھتا ہے اور اسے کسی ناشر کو چھاپنے اور بیچنے کے لیے دیتا ہے جس پر لکھا جاتا ہے کہ طباعت کے حقوق مولف کے پاس محفوظ ہیں۔ اس کے بعد ناشر اگلی بار کتاب کو مولف کی اجازت کے بغیر چھاب دیتا ہے، عام طور پر ناشر ایسا کرتے ہیں کہ مولف کو کچھ کتاب حق تالیف کے عنوان سے دے دیتے ہیں، کیا ناشر کے لیے جدید طباعت کے لیے مولف سے اجازت لینا ضروری ہے؟
حق تالیف ایک عقلایی حق ہے جسے ساری دینا کے عقلاء تسلیم کرتے ہیں، اس کی مخالفت ظلم اور شرعا حرام ہے۔ لہذا مولف کے اوپر ہے کہ وہ بغیر اجازت کے اس کی کتاب چھاپنے والوں سے اپنا حق وصول کرے۔ اس بات کی طرف بھی توجہ ہونی چاہیے کہ اصلاح اور تصحیح کا حق ناشر کے پاس محفوظ ہے لہذا اگر کوئی کتاب سے فوٹو کھینچنا چاہتا ہے تو اسے ناشر کا حق ادا کرنا ہوگا۔
فرش پر بھیگا ہوا کپڑ پھیرنا
اگر فرش کا ایک چھوٹا سا حصہ نجس ہوجائے لیکن فرش کے جابجا ہونے کی وجہ سے معلوم نہ ہو کہ کس جگہ سے نجس ہوا ہے ، پھر ایک بھیگا ہوا کپڑا تین چوتھائی فرش کے اوپر پھیر دیا جائے ، لیکن اچھی طرح معلوم نہ ہوسکے کہ نجس کے اوپر کپڑا لگا ہے یا نہیں ؟ اس صورت میں کیا جس حصہ پر یہ بھیگا ہوا کپڑا پھیرا گیا ہے وہ نجس ہے؟
سوال کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر پورے فرش پر کپڑا نہیں پھیرا ہے تونجس نہیں ہے ۔
کفر ستان ممالک میں ، پناہ گزین ہونا
کیا کافر ممالک میں پناہ لینا فقط اس وجہ سے کہ، وطن میں کوئی کام نہیں ملتا، جائز ہے؟
اگر ضروری ہو اور وہاں کے حرام رسم ورواج سے ، متاٴثر نہ ہو، تب کوئی اشکال نہیں ہے ۔
۔قرآن میں تحریف ہونے کا عقیدہ
اگر کوئی مسلمان، تحریف قرآن کا عقیدہ رکھتا ہو، اس کا کیا حکم ہے، نیز کیا تحریف قرآن کا عقیدہ، ضروری دین سے انکار کرنے میں شمار ہوگا؟
یہ بات دیکھتے ہوئے کہ مختلفاسلامی مذاہب کے بہت کم علماء تحریف قرآن کے قائل ہیں، (اگرچہ محقق حضرات تحریف قرآن کو قبول نہیں کرتے) لہٰذا مرتد ہونے کا حکم جاری نہیں ہوگا لیکن اس طرح کا شخص بہت بڑی خطا کا مرتکب ہوا ہے ۔
بہن کے ساتھ زنا کا دعوا کرنے والے کا قتل
علی کے ایک بائیس(۲۲) سالہ بہن ہے حسن کئی مرتبہ اس کا رشتہ مانگنے گیا لیکن ہر بار لڑکی کے گھر والوں نے مخالفت کا اظہار کیا، یہاں تک کہ چند مہینے پہلے دوبارہ لڑکی کے گھر رشتہ مانگنے گیا، لیکن پھر بھی انھوں نے رشتہ دینے سے انکار کردیا، اس کے بعد حسن نے یہ دعوا کیا کہ اس نے جبراً علی کی بہن پر تجاوز کیا ہے! علی یہ سن کر غصہ میں آگیا اور غیرت میں آکر گرم اسلحہ (بندوق وغیرہ) سے حسن کو قتل کردیا، یہ پورا قصہ عدالت کی مختلف تاریخوں اور انتظامیہ کے دفتر میں قاتل کی زبان سے بیان ہوا ہے، اس کی بہن نے بھی تھوڑے اختلاف کے ساتھ اسواقع ہ کی تائید کرتے ہوئے حسن کے بیان پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے، اس مسئلہ کا حکم کیا ہے؟
جواب: اگر یہ قتل، عمد کا پہلو رکھتا ہو تو اس صورت میںاس کا حکم، قصاص ہے اور اگر بے اختیاری صورت تھی اور اپنی معمولی حالت سے خارج ہوگیا تھا یا خیال کررہا تھا کہ شرعاً متجاوز کا قتل اس کے لئے جائز ہے، تو قصاص نہیں ہے، لیکن دیت ثابت ہے اور اگر صورتحال مشکوک ہو تب بھی دیت ہے قصاص نہیں ہوگا۔
ہمسر (شوہر وبیوی) پر ناجائز تعلقات کا الزام لگانا
اگر کوئی شخص اپنی زوجہ پر ناجائز تعلقات کا الزام لگائے اور عدالت میں اس الزام کو ثابت نہ کرسکے ؟الف)کیااس شخص کے لئے دوبارہ اپنی زوجہ کے ساتھ زندگی بسر کرناممکن ہے ؟ب)کیا شرعی لحاظ سے زوجہ کے اوپر واجب ہے کہ اپنے شوہر کے ساتھ ازدواجی زندگی جاری رکھے ؟ج) خصوصاً اس مورد میں کیا زوجہ طلاق کا تقاضا کرسکتی ہے اور اپنے حقوق، مہر، جہیز اور دولت وثروت کو حاصل کرسکتی ہے ؟
جواب:الف۔اگر مشاہدہ کا دعویٰ نکرے تو کوئی خاص رسم کیےٴ بغیر اس کے ساتھ ازدواجی زندگی کو جاری رکھ سکتا ہے، لیکن اس پر جو الزام لگا یا ہے اس سلسلہ میں زوجہ حاکم شرع کے یہاںحد قذف (الزام لگانے کی سزا) کا تقاضا کر سکتی ہے (اس کی سزا اسّی کوڑے ہیں) مگر یہ کہ زوجہ اس کو معاف کردے .جواب: ب:۔جی ہاں لازم ہے ( ازدواجی) زندگی جاری رکھے .جواب:ج۔اگر شوہر طلاق دینے پر راضی ہو جائے تو کوئی اشکال نہیں ہے .
لوٹے ہوئے شخص کی طرف سے رپورٹ سے کئے بغیر چوری کے مال کا برآمد ہونا
چنانچہ قاضی کے پاس، مسروقہ مال کے مالک کی شکایت کرنے سے پہلے، چوری کے مال کو پولیس چور سے، وصول اور ضبط کرکے، مال کے مالک کو واپس دینے کی غرض سے اپنے پاس محفوظ رکھے کہ جب بھی مالک تقاضا و مطالبہ کرے اس کا اس کے حوالہ کردیا جائے لیکن مالک اس بات کو جانتے ہوئے بھی، اپنا مال وصول کرنے سے پہلے، قاضی کے یہاں شکایت کردے، کیا اس صورت میں بھی چور کی حد کا جاری کرنا واجب ہے؟
چوری کی حد، اس صورت میں جاری نہیں ہوگی اور ایسا ہی اس صورت میں ہوگا جب جیسے مال اس کے مالک کے ہاتھ میں پہنچ گیا ہو ۔
بیماری کا تعین نہ کر پانے والے ڈاکٹر کا فریضہ
اگر ڈاکٹر بیماریوں کی انواع و اقسام و علامات کو موضوع کی وسعت کی خاطر بھول جانے کے سبب مریض کی بیماری کو معین نہ کر سکے اور اسے دوا نہ بتا سکے ، جس کے نتیجہ میں بیماری بڑھ جائے یا مریض کی موت ہو جائے تو ایسا ڈاکٹر کس حد تک ذمہ دار ہے؟ (جبکہ وہ ڈاکٹر کسی بڑے اور ماہر ڈاکٹر کی طرف مریض کو ریفر کر سکتا تھا)
ڈاکٹروں کا وظیفہ یہ ہے کہ ایسے کیس میں دخالت نہ کریں اور اسے خود سے بڑے اور ماہر ڈاکٹر کی طرف ریفر کر دیں۔
غیر حرام مہینوں میں زخمی ہونا اور حرام مہینوں میں فوت ہوجانا
ایک شخص نے ماہ مبارک رمضان میں دوسرے کو مارا، مارکھانے والا ماہ ذی القعدہ میں فوت ہوگیا، کیا تغلیظ دیت لازم ہے، یا چونکہ مار، ماہ غیر حرام میں واقع ہوئی ہے لہذا دیت میں تغلیظ لازم نہیں ہے ؟
جواب: اس صورت میں جبکہ مار اور قتل دونوں حرام مہینوں میں واقع ہوئے ہوں تو دیت، تغلیظ ہو گی ۔ اس کے علاوہ دیت کی تغلیظ پر کوئی دلیل نہیں ہے ۔
ان مومنین کی فضیلت جنھوں نے پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کو درک نہیں کیا ہے
جیسا کہ خداوندعالم کے لئے ممکن تھا کہ مجھے ایک انسان کی صورت میں چہاردہ معصوم میں سے کسی ایک زمانے میں پیدا کسکتا تھا تاکہ میں ان کی زیارت سے شرفیاب ہوجاتا ہ، لیکن اس نے یہ کام نہیں، حالانکہ کتنے کافر تھے جو معصومین کے دیدار کی لیاقت نہیں رکھتے تھے، ان کے زمانے میں موجود تھے اور ان میں بعض کے دیدار میں موفق ہوئے، کیا یہ عدل الٰہی سے سازگار ہے؟
بعض روایتوں میں آیا ہے: ”وہ لوگ جو پیغمبر اسلام (صلی الله علیه و آله وسلم) اور ائمہ معصومین (علیهم السلام) کے بعد دنیا میں آئیں گے اور اُن پر ایمان لائیں گے، ان کا مقام اُن لوگوں سے بلند ہوگا جو معصومین(علیه السلام) کے زمانے میں موجود تھے“ اگر ان کے لئے امتیاز تھا تو ان کے لئے بھی ایک مہم امتیاز ہے، اس طریقے سے عدالت جاری ہوجاتی ہے
مغربی ممالک کے طرز لباس اور بال کی پیروی کرنا
آج کل بعض جوانوں کے درمیان یوروپ اور امیریکہ کی طرز پر بالوں اور کپڑوں کے اسٹائل اور فیشن رواج پا رہے ہیں۔ ان لباسوں کا پہننا اور اس طرح میکپ و آرایش کرنا جو عرفا کفار سے شباہت پیدا کرنا ہے، کیا حکم رکھتا ہے؟
اس بات کے مد نظر کہ یہ سارے کام مغربی اور اجنبی ثقافت کی نماءندگی کرتے ہیں، مسلمانوں کو ان سے پرہیز کرنا چاہیے اور اپنی تہذیب و ثقافت کو زندہ کرنا چاہیے۔ ایک اور حدیث میں اس طرح وارد ہوا ہے: اگر چہ وہ شعر حق ہی کیوں نہ ہو، البتہ ممکن ہے کہ عناوین ثانویہ اس کراہت کو تحت الشعاع قرار دیں اور اس پر غلبہ حاصل کر لیں۔
ٹیکس اور خمس میں
کیا اس رقم کو جو لوگ ٹیکس کی صورت میں حکومت کو اداکرتے ہیں خمس میں حساب کرسکتے ہیں ؟
جواب:۔ ٹیکس، دیگر اخراجات کی طرح ایک خرچہ ہے لہٰذا اس کا شماراس شخص کے خرچ کا حصہ ہونے کی وجہ سے سالانہ خرچ میں ہوگا اور خمس میں اس کا حساب نہیں ہو سکتا ہے ۔

