سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

احکام شرعی پر ناپائبند بیٹے کے سلسلے میں والدین کا وظیفہ

میرا بیٹا احکام شرعی کا پائیبند نہیں ہے، اس طرح کہ سب گھر والے اس کے کاموں سے عاجز آگئے ہیں! اس کی آوارگی گھر والوں کے لئے تو کیا پڑوسیوں کے لئے بھی باعث ناراحتی ہے! گھر میں سیکسی فیلم دیکھتا ہے، اور کبھی کبھی میرے دوسرے بچے بھی ان فیلموں کو دیکھ لیتے ہیں! میں نے لاکھ گوشش کرلی ہے لیکن میں کامیاب نہ ہوسکا، اس کی نسبت میرا وظیفہ کیا ہے؟ کیا اس کو گھر سے نکال دوں اور اپنی اولاد کے زمرہ سے خارج کردوں؟

پھر بھی آپ باتوں کی تاثیر سے ماٴیوس نہ ہوئیے، کوشش کریں کہ تشویق، محبت اور وعدوں وغیرہ سے اس کے دل میں جگہ بنائیں، یا بعض لوگوں سے درخواست کریں کہ اس سے دوستی کریں تاکہ وہ دیکھیں کہ اس کا اصلی درد کہاں ہے؟ ممکن ہے اس کو کوئی ایسی مشکل ہو جس کو وہ صریحاً نہ کہہ سکتا ہو اور یہ مسئلہ اس طرح حل ہوجائے، اگر ان تمام امور کو انجام دے دیا ہو اور کسی نتیجے پر نہ پہنچے ہوں اور ہمیشہ یہ لڑکا فساد سبب ہو تو اس کو گھر سے نکالنے میں کوئی حرج نہیںہے ۔

دسته‌ها: حق والدین

نماز جمعہ کی دوسری رکعت میں قنوت کے بعد اضافی رکوع

اگر کوئی امام جمعہ نماز کی دوسری رکعت میں رکوع کے بعد قنوت پڑھا ہے اور غلطی سے قنوت کے بعد پھر دوبارہ رکوع کرلے تو اس صورت میں مامومین کا کیا وظیفہ ہے؟

امام اور اُن مامومین کی نماز جو امام کے ساتھ رکوع میں گئے ہیں باطل ہے، البتہ وہ مامومین جو امام کی غلطی پر متوجہ تھے اور رکوع میں نہیں گئے، وہ اپنی نماز کو جمعہ کی صورت میں پوری کریں گے اور پھر نماز ظہر بھی بجالائیں گے ۔

خیالوں میں ، استمنا کرنا

کیا تخیّل اور خیالات کے ذریعہ استمناء ممکن ہے اور اگر بدن سے کوئی رطوبت خارج ہوجائے تو اس صورت میں اس کا کیا حکم ہے؟

تخیّل کے ذریعہ استمنا بالکل ممکن ہے، لیکن اگر خارج ہونے والی رطوبت مشکوک ہو جس میں منی کی علامتین نہ پائی جاتی ہوں یا اس کی بعض علامتیں پائی جاتی ہوں تو منی نہیں سمجھی جائے گی ۔

دسته‌ها: استمناء

ان مومنین کی فضیلت جنھوں نے پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کو درک نہیں کیا ہے

جیسا کہ خداوندعالم کے لئے ممکن تھا کہ مجھے ایک انسان کی صورت میں چہاردہ معصوم میں سے کسی ایک زمانے میں پیدا کسکتا تھا تاکہ میں ان کی زیارت سے شرفیاب ہوجاتا ہ، لیکن اس نے یہ کام نہیں، حالانکہ کتنے کافر تھے جو معصومین کے دیدار کی لیاقت نہیں رکھتے تھے، ان کے زمانے میں موجود تھے اور ان میں بعض کے دیدار میں موفق ہوئے، کیا یہ عدل الٰہی سے سازگار ہے؟

بعض روایتوں میں آیا ہے: ”وہ لوگ جو پیغمبر اسلام (صلی الله علیه و آله وسلم) اور ائمہ معصومین (علیهم السلام) کے بعد دنیا میں آئیں گے اور اُن پر ایمان لائیں گے، ان کا مقام اُن لوگوں سے بلند ہوگا جو معصومین(علیه السلام) کے زمانے میں موجود تھے“ اگر ان کے لئے امتیاز تھا تو ان کے لئے بھی ایک مہم امتیاز ہے، اس طریقے سے عدالت جاری ہوجاتی ہے

دسته‌ها: نبوت

ماں کی جان بچانے کے لیے حمل کو ساقط کرنا

اگر ڈاکٹر قطعی طور پر کہے کہ بچہ کے پیٹ میں رہنے کی صورت میں ماں کی جان جا سکتی ہے تو درج ذیل مسائل کا حکم کیا ہوگا:الف: کیا بچہ کا رحم مادر میں ختم کر دینا جائز ہے تا کہ ماں کی جان بچ سکے؟ب: کیا ماں کو اسی حالت پر چھوڑ دینا جائز ہے تا کہ اس بچہ کی ولادت ہو جائے اور ماں مر جائے؟ج: اگر ماں کو اسی حالت میں چھوڑ دیا جائے اور ماں اور بچے دونوں کے مرنے کا احتمال ہو تو حکم کیا ہوگا؟ (موت و حیات کا احتمال دونوں کے لیے مساوی ہو)د: اگر بچہ میں روح پڑ چکی ہو یا نہ پڑی ہو تو اس سے مسئلہ پر کوئی فرق پڑے گا؟

جواب: الف۔ اگر بچہ کی خلقت کامل نہ ہوئی ہو تو سقط کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ب۔ اگر بچے نے ابھی انسانی شکل و صورت اختیار نہ کی ہو تو ماں کی جان بچانے کے لیے اس کا سقط کرنا جائز ہے۔ج۔ اگر یہ معلوم ہو کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک ہی بچ سکے گا تو ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دیا جائے گا تا کہ جس کو بچنا ہو وہ بچ جائے اور اس میں کسی انسان کا کوئی دخل نہ ہو اور اگر حالات یہ ہوں کہ یا دونوں مریں گے یا صرف بچہ مرے گا تو اس صورت میں بچہ کو سقط کرانا جائز ہے تا کہ ماں کی جان بچائی جا سکے۔د۔ مذکورہ بالا جوابات سے اس کا جواب بھی روشن ہو چکا ہے۔

غیر اسلامی ممالک کو وطن قرار دینا

کیا مسلمانوں کے لئے، غیر اسلامی ممالک کو، اپنا وطن قرار دینا جائز ہے؟ کیا یہ کام ”تعرّب بعد الہجرة“ کے زمرے میں نہیں آتا؟

اگر کفر اور گناہ سے محفوظ ہے تو کوئی اشکال نہیں ہے اور ”تعرّب بعد الہجرة“ کا مصداق نہیں ہے خصوصاً اس صورت میں کہ جب آہستہ آہستہ اپنے قول اور فعل سے وہاں پر اسلام کی تبلیغ کرسکتا ہو ۔

ہمسر (شوہر وبیوی) پر ناجائز تعلقات کا الزام لگانا

اگر کوئی شخص اپنی زوجہ پر ناجائز تعلقات کا الزام لگائے اور عدالت میں اس الزام کو ثابت نہ کرسکے ؟الف)کیااس شخص کے لئے دوبارہ اپنی زوجہ کے ساتھ زندگی بسر کرناممکن ہے ؟ب)کیا شرعی لحاظ سے زوجہ کے اوپر واجب ہے کہ اپنے شوہر کے ساتھ ازدواجی زندگی جاری رکھے ؟ج) خصوصاً اس مورد میں کیا زوجہ طلاق کا تقاضا کرسکتی ہے اور اپنے حقوق، مہر، جہیز اور دولت وثروت کو حاصل کرسکتی ہے ؟

جواب:الف۔اگر مشاہدہ کا دعویٰ نکرے تو کوئی خاص رسم کیےٴ بغیر اس کے ساتھ ازدواجی زندگی کو جاری رکھ سکتا ہے، لیکن اس پر جو الزام لگا یا ہے اس سلسلہ میں زوجہ حاکم شرع کے یہاںحد قذف (الزام لگانے کی سزا) کا تقاضا کر سکتی ہے (اس کی سزا اسّی کوڑے ہیں) مگر یہ کہ زوجہ اس کو معاف کردے .جواب: ب:۔جی ہاں لازم ہے ( ازدواجی) زندگی جاری رکھے .جواب:ج۔اگر شوہر طلاق دینے پر راضی ہو جائے تو کوئی اشکال نہیں ہے .

دسته‌ها: قذف کی حد
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت