غسل میت تمام ہونے سے پہلے پانی کی چھینٹیں
آب سدر اور آ ب کافور سے غسل دینے کے بعد اور خالص پانی سے غسل دینے سے پہلے جو قطرات ، میت کے بدن سے ٹپکتے ہیں، پاک ہیں یا نجس؟
جواب : جب تک تینوں غسل کامل نہ ہوںگے میت کا بدن پاک نہیں ہوگا
جواب : جب تک تینوں غسل کامل نہ ہوںگے میت کا بدن پاک نہیں ہوگا
جواب: اس صورت میں اگر نبش قبر ، میت کی بے احترامی کا باعث نہ ہوتو جائز ہے کہ قبر کھول کر میت نکالیں اور غسل کا مل کریں ، لیکن ایسا کرنا واجب نہیں ہے ۔
لازم ہے کہ پہلے ہو (یعنی قصاص کرنے سے پہلے غسل وکفن دیا جائے
جواب: اگر مقصود خنثیٰ ہے تو لازم ہے کہ ا س کے محرم غسل دیںاور اگر محرم نہ ہوں تو عورت یا مرد دونوں اس کو غسل دے سکتے ہیں ۔ اور نماز میں احتیاط کے مطابق عمل کریں ۔
جواب: اس مسئلہ کی دو صورتیں ہیں ، اگر ثابت ہو جائے کہ یہ خون زخم ، پھوڑا، یا رحم سے مربوط ہے ، تو اس صورت میں غسل نہیں ہے ، معمول کے مطابق وضو کرے اور نماز پڑھے ، اور اگریہ خون عارضہ رحم سے مربوط ہے تو استحاضہ ہے، چنانچہ اگر کم ہو ، یعنی مختصر دھبّو کی حد تک ہو تو ہر نماز کے لئے وضو کرے ، اس صورت میں غسل نہیں ہے ، بدن کو دھولے اور نماز پڑھے لیکن خون جاری ہوجائے تو اس صورت میں غسل واجب ہو جاتاہے( نماز صبح کے لئے ایک غسل ، نماز ظہر و عصر کے لئے دوسرا غسل اور نماز مغرب و عشاء کے لئے تیسرا غسل) ہا ںاگر اس کے لئے غسل کرنا ، مضر یا مشقت کا باعث ہو تو تیمم کر سکتی ہے ۔
جواب : جائز ہے لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ جماع نہ کرے ۔
جواب: احتیاط واجب یہ ہے کہ غسل کو دوبارہ کرے اور غسل کے بعد نماز اور اسی جیسے امور کے لئے وضو کرے۔
جواب: اس پر لازم ہے کہ پہلے غسل کرے پھر درس میں شرکت کرے۔
ایک گناہ سے نجات حاصل کرنے کا راستہ دوسرا گناہ نہیں ہے، اُسے شادی کے متعلق فکر کرنا چاہیے، یا روزہ اور ورزش، جیسے طریقوں سے گناہ سے بچنا چاہیے اور دوسرے گناہ کا سہارا نہیں لینا چاہیے ۔
عام طور پر ایسی حالت میں، سوتے وقت بدن سے خارج ہوجاتی ہے لہٰذا دوسرے کسی کام کی ضرورت نہیں ہے ۔
اگر زوجہ کے ساتھ ملاعبہ کرنے کے ذریعہ استمناء کیا ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے لیکن اگر خود سے استمناء کرے تو حرام ہے خواہ زوجہ کی مرضی سے کرے یا بغیر مرضی کے ۔