سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

ناقص و معیوب حمل کو سقط کرنا

اگر احتمال یا یقین ہو کہ پیدا پونے والابچہ معیوب یا ناقص ہوگا اور سقط کے بعد واجب دیت بھی ادا کر دی جائے تو اس صورت میں عمدا (جان بوجھ کر) سقط کرنے کا حکم ہے؟

جواب: اگر بچہ ابتدائی منزلوں میں ہو اور انسانی شکل میں پوری طرح سے نہ ہوا ہو اور اس کا اس حالت میں باقی رہنا والدین کے لیے شدید عسر و حرج کا باعث ہو تو ان شرائط کے ساتھ اسے سقط کیا جا سکتا ہے، البتہ احتیاط کے طور پر دیت ادا کی جائے گی۔

نافذہ اور موضحہ زخموں میں فرق

فقہاء ”نافذہ“ زخم کی تعریف میں فرماتے ہیں ”نافذہ وہ زخم ہے جو بدن کے اعضاء کے اندر چلا جائے“اور ”موضحہ“ زخم کی حقیقت کو روشن کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”موضحہ وہ زخم ہے جو گوشت سے گذر کر ہڈی کے اوپر نازک کھال کو پھاڑ دے اور ہڈی کو آشکار کردے“ لہٰذا حضور فرمائیں ان دونوں زخموں میں کیا فرق ہے ؟ کیا ان کا فرق یہ ہے کہ ”موضحہ“ ہڈی تک پہنچ جائے اور نافذہ وہ ہے جو اس کے علاوہ ہڈی کے برابر سے گذر جائے ؟ اگر یہ ہی فرق ہے چنانچہ آدھا سینٹی میٹر ہی ہڈی کے برابر سے گذر جائے ، تو یہاں پر موضحہ اور نافذہ کافرق صرف آدھا سینٹی میٹر ہے، لیکن ان کی دیت کا فرق ۵/ اونٹ ہے ! کیونکہ موضحہ کی دیت ۵/ اونٹ اور نافذہ کی دیت (مرد کے لئے)دس اونٹ ہے ۔ یہ کس طرح توجیہ کے قابل ہے ؟

جواب: نافذہ وہ ہے جو کافی مقدار میں بدن کے اندر چلا جائے ، چاہے وہ ماہیچہ کے مثل ہو یا ہڈی کی جگہ ہو ؛اور ہڈی برابر سے تھوڑی مقدار میں گذر جائے کہ جس کو عرف عام میں نفود کہا جاسکتا ہو ۔اور شک کے موارد میں نافذہ کا حکم جاری نہیں ہوگا۔

دسته‌ها: زخموں کی دیت

ہڑتال کرنے والوں کو زبردستی کھانا کھلانا

ایسا شخص جس نے بھوک ہڑتال کر دی ہو اور اپنی جان کو یا کم سے کم اپنی سلامتی خطرہ میں ڈال دیا ہو، اس حالت میں صرف ڈاکٹر کے ذریعہ اس کو زبردستی غذا دیا جانا ہی اس کی جان کو بچا سکتا ہے، اس ضمن میں درج ذیل سوالوں کے جوابات عنایت فرمائیں:الف۔ کیا ڈاکٹر کے لیے ایسا کرنا واجب ہے یا وہ اس سے کوئی مطلب نہ رکھے؟ب۔ اگر اسے کھانا کھلانا واجب نہ ہو اور اس کام کے لیے انہیں زبردستی مارا پیٹا جائے تو اس کی جان بچانے کے لیے کس حد تک اسے مارا پیٹا جا سکتا ہے؟ج۔ اگر اس کی پٹائی اس کے بدن یا پوشت کی رنگت بدل جائے تو کیا اس کی دیت واجب ہے اور دیت کس کے ذمہ ہوگی؟د۔ مذکورہ بھوک ہڑتال میں اگر کسی کو یقین ہو کہ وہ اس میں اپنی جان دے دیگا جبکہ کسی دوسرے اپنے انجام کی کوئی خبر نہ ہو، کیا ان دونوں کی حالت میں فرق ہے؟ اگر فرق ہے تو اس میں ڈاکٹر کا اس دوسرے کے بارے میں کیا فریضہ ہے؟ھ۔ اگر ڈاکٹر کو زبردستی انہیں کھانا کھلانے کے لیے مجبور کیا جائے، اس غرض سے نہیں کہ ان کی جان بچ جائے بلکہ اس غرض سے وہ کسی بات کو ثابت کر سکیں اور اس کے لیے اس سے اقرار لے سکیں، اس صورت میں ڈاکٹر کا شرعی فریضہ کیا ہے؟

جواب: الف۔ ایسا کرنا ڈاکٹر اور تمام مسلمانوں کے لیے جہاں پر یہ واجب ہو جائے، واجب ہے ۔ب۔ بھوک ہڑتال کرنے والوں کے لیے خطرہ کے احساس کی صورت حد اقل ضرورت کے وقت جائز ہے ۔ج۔ جہاں پر واجب ہو جائے وہاں دیت نہیں ہے ۔د۔ ڈاکٹر کے لیے دونوں صورت حال میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ھ۔ اگر مریض کی جان کو خطرہ نہ ہو تو ڈاکٹر اسے کھانا کھانے پر مجبور نہیں کر سکتا مگر یہ کہ ان موارد میں جہاں ملک اور اسلامی معاشرہ کی مصلحت کا تقاضا ہو۔

خمسی سال کا حساب

علماء حضرات فرماتے ہیں کہ انسان کو اپنا سالانہ حساب رکھنا چاہئیے ، اگر اس کی آمدنی سالانہ اخراجات سے کم ہو ں کیا تب بھی سال کا حساب رکھنا چاہیئے ؟

جواب:۔ علماء کی مراد بھی وہی لوگ ہیں جن کی آمدنی زیادہ اور خرچ کرنے کے بعد باقی بچ جائے ، وہ لوگ مراد نہیں ہیںجن کی آمدنی خرچ سے کم ہے۔

دسته‌ها: نبوت

اکراہ کی صورت میں دوسرے کو نقصان پہنچانا

کیا اکراہ کی وجہ سے دوسروں کو ضرر پہچانا بھی جائز ہوجاتا ہے؟ جائز ہونے کی صورت میں کیا حدیث ”رفع“ اور حدیث ”لاضرر“ تعارض میں تعارض ہوجاتا ہے؟

اکراہ کی صورت میں دوسروں کو نقصان پہنچانا جائز ہے اور اکراہ کی دلیلں حاکم ہوتی ہیں؛ کیونکہ بہت سے اکراہ کے موارد دوسروں کو ضرر پہنچانے پر مستمل ہیں؛ جیسے (ظالم کی؛ حکومت میں کسی منصب کا قبول کرنا، لیکن ضمان کا مسئلہ اپنی جگہ محفوظ ہے ۔

دسته‌ها: ضمانت

احکام شرعی پر ناپائبند بیٹے کے سلسلے میں والدین کا وظیفہ

میرا بیٹا احکام شرعی کا پائیبند نہیں ہے، اس طرح کہ سب گھر والے اس کے کاموں سے عاجز آگئے ہیں! اس کی آوارگی گھر والوں کے لئے تو کیا پڑوسیوں کے لئے بھی باعث ناراحتی ہے! گھر میں سیکسی فیلم دیکھتا ہے، اور کبھی کبھی میرے دوسرے بچے بھی ان فیلموں کو دیکھ لیتے ہیں! میں نے لاکھ گوشش کرلی ہے لیکن میں کامیاب نہ ہوسکا، اس کی نسبت میرا وظیفہ کیا ہے؟ کیا اس کو گھر سے نکال دوں اور اپنی اولاد کے زمرہ سے خارج کردوں؟

پھر بھی آپ باتوں کی تاثیر سے ماٴیوس نہ ہوئیے، کوشش کریں کہ تشویق، محبت اور وعدوں وغیرہ سے اس کے دل میں جگہ بنائیں، یا بعض لوگوں سے درخواست کریں کہ اس سے دوستی کریں تاکہ وہ دیکھیں کہ اس کا اصلی درد کہاں ہے؟ ممکن ہے اس کو کوئی ایسی مشکل ہو جس کو وہ صریحاً نہ کہہ سکتا ہو اور یہ مسئلہ اس طرح حل ہوجائے، اگر ان تمام امور کو انجام دے دیا ہو اور کسی نتیجے پر نہ پہنچے ہوں اور ہمیشہ یہ لڑکا فساد سبب ہو تو اس کو گھر سے نکالنے میں کوئی حرج نہیںہے ۔

دسته‌ها: حق والدین

غیر اسلامی ممالک کو وطن قرار دینا

کیا مسلمانوں کے لئے، غیر اسلامی ممالک کو، اپنا وطن قرار دینا جائز ہے؟ کیا یہ کام ”تعرّب بعد الہجرة“ کے زمرے میں نہیں آتا؟

اگر کفر اور گناہ سے محفوظ ہے تو کوئی اشکال نہیں ہے اور ”تعرّب بعد الہجرة“ کا مصداق نہیں ہے خصوصاً اس صورت میں کہ جب آہستہ آہستہ اپنے قول اور فعل سے وہاں پر اسلام کی تبلیغ کرسکتا ہو ۔

قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت