سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

مردانا منی کی تشخیص کے شرائط

امام خمینی (قدس سرہ)کی توضیح المسائل میں پڑھا تھا اگر انسان سے منی خارج ہوچاہے وہ اختیار کے ساتھ نکلے یا بغیر اختیار کے، شہوت کے ساتھ ہویا بغیر شہوت کے انسان مجنب ہوجاتا ہے ، میں اس وقت ایک فوجی ہوں اور جس فوجی کیمپ میں رہ رہا ہوں وہاں کے لیٹرین میں بہت اندہیرا ہوتا ہے کچھ دنوں سے ایسا ہو رہا ہے کہ پیشاب کے بعد یا پیشاب کے ساتھ منی نکل جاتی ہے (اسکا مجھے یقین ہے ) امام خمینی(قدس سرہ) کے فتویٰ کے مطابق کیا میں مجنب ہوں اور مسئلہ یہ ہے کہ رات کے وقت اندھیرے میں پیشاب کو نہیں دیکھ سکتا اور شک یہ کہ منی خارج ہوئی ہے یا نہیں تو کیا غسل کرنا ضروری ہے یا نہیں اس کو بھی مد نظر رکھیں کے یہاں پر گرم پانی کا کوئی انتظام نہیں ہے (اور صرف رات کو نہانے جا سکتے ہیں ) آج کل سردیوں کا زمانہ ہے اور رات کو پانی ٹھنڈا ہوجاتا ہے رات میں سردی کی وجہ سے حمام جانے سے گردوں کا درد ہونے لگا ہے اور نہانے جانا بھی زحمت کا باعث ہے ، مہربانی فرماکر بتائیں کہ میں کیا کروں اور مذکورہ صورت حال میں کیا میں مجنب ہوں یا نہیں ؟

جواب : منی کی علامات کو جاننے کے لئے توضیح المسائل کے مسئلہ ۳۴۱ کی طرف رجوع کریں لیکن اگر انسان سے کوئی رطوبت خارج ہو اور اسے معلوم نہ ہوسکے کہ یہ منی ہے یا کوئی اور رطوبت ( مثال کے طور پر مذی ، وذی اور ودی کے جوتینوں پاک ہیں اور غسل کرنا ضروری نہیں اور وضوکو بھی باطل نہیں کرتیں ) اگر اچھل کر یا شہوت کے ساتھ باہر آئے تو وہ منی کا حکم رکھتی ہے لیکن گاڑھی رطوبت (لزج ) جو پیشاب کے بعد خارج ہوتی ہے منی نہیں ہے اور جہاں پر بھی آپکو شک ہے غسل کرنا واجب نہیں ہے ، اور جہاں پر منی کے خارج ہونے کا یقین ہوجائے اور گرم پانی نہ ہونے کی یا کسی اور وجہ سے غسل نہ کرسکیں تو غسل کے بدلے تیمم کریں اور بدن کو پاک کریں اور پاک لباس کے ساتھ نماز پڑھیں اور جب تک یہ سلسلہ جاری رہے آپ کے لئے کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔

دسته‌ها: منی کی علامتیں

ایسے بیمار کی دیت جو طبیب کی تساہلی کی وجہ سے فو ت مغزی کا سبب ہوجائے

ایک جوان خاتون جو حاملہ تھی، معالج ڈاکٹر کی تشخیص کے مطابق وضع حمل آپریشن کے ذریعہ کیا گیا، افسوس کہ آپریشن کے بعد یہ خاتون مشکل میں گرفتار ہوگئی، قانونی ڈاکٹر کی تشخیص کے مطابق حال حاضرذ میں یہ خاتون مغز ی نقصان کی وجہ سے اپنے ہوش وہواس کھوبیٹھتی ہے کہ جس کی بازگشت بھی ممکن نہیں ہے، دل کے بیدار رہنے کی وجہ سے یہ مریضہ ایک نباتی زندگی گزار رہی ہے، اس کو اپنے اطراف کا کوئی علم نہیں ہے، تمام حسّی قوتیں کھوبیٹھتی ہے جیسے دیکھنے، سننے، بولنے، سونگھنے وغیرہ کی قوتیں، متعلقہ مرض کے ڈاکٹروں کی ٹیم نے حادثہ کی وجہ، اسپتال میں ضروری امکانات کا نہ ہونا بتائی ہے اور اس حادثہ کا ذمہ دار بے ہوشی کے ڈاکٹر اور ہوش میں آنے پر تعینات نرس اور اسپتال کے عملہ کو ٹھہرایا ہے، اس وقت ۴/ سال اور چار مہینے ہوگئے ہیں اور مریضہ اسی حالت میں ہے اور ممکن ہے ابھی کئی سال اسی حالت میں رہے، سوال یہ ہے کہ کیا ہر ایک اعضا اور منافع کی علیحدہ دیت ادا کی جائے گی؟

اگر آخر میں مغز کی موت کا انجام قطعی موت ہوجائے تو ایک دیت سے زیادہ نہیں ہے، جس کو حادثہ کے ذمہ داران اپنی غلطی کی نسبت سے ادا کریں گے۔

دسته‌ها: ڈاکٹر کی ضمانت

نماز کے بعد تین طرف زیارت پڑھنا

نمازی حضرات نماز کے بعد تین سلام ( زیارت) پڑھتے ہیں ، کیا اس عمل کے لئے کوئی خاص نص موجود ہے ؟

جواب:۔ تین سلام جو تین طرف (رخ کرکے) پڑھے جاتے ہیں ان کے لئے کوئی خاص نص موجود نہیں ہے لیکن زیارت کے مطلقہ حکم کی نیت سے کوئی حرج نہیں ہے ۔

دسته‌ها: مختلف نمازیں

بچوں کی دیت کے مال کو ولی کا معاف کردینا

کیا دادا، وصی، یا بچوں کے کفیل ہر چند وہ بچوں کی ماں ہو ، کو حق ہے کہ ان بچوں کے دیت کے مال کی بابت جو بچّے ان کی کفالت میں ہیں، شرعی دیت سے کم پر جانی سے مصالحہ کریں ، یا کامل طور سے اس کو معاف کردیں ؟

جواب: دادا ، وصی یا کفیل کو حق نہیں ہے کہ وہ بچوں کے حصّے میں آئے دیت کے مال کو بخش دیں ، یا شرعی مقدار سے کم پر مصالحہ کرلیں ۔ مگر یہ کہ وہاں پر کوئی خاص مصلحت ہو اور یہ کام بچّے کے نفع ہیں ہو ۔

دسته‌ها: دیت معاف کرنا

اس خاتون کا حکم جس کا شوہر مفقود (لاپتہ) ہو

اس عورت کا کیا وظیفہ ہے جس کا شوہر لاپتہ ہوگیا ہو اور اس مدّت میں اس عورت کا نفقہ کہاں سے ادا کیا جائے گا ؟

جواب:۔جس عورت کا شوہر لاپتہ ہوگیا ہو اس کی چند حالت ہیں :الف)اگر صبر کرے تاکہ اس کی کوئی خبر مل جائے تو کوئی ممانعت نہیں ہے، اس صورت میں اس کا نفقہ شوہر کے مال سے ادا کرنا چاہیےٴ .ب) اگر کوئی نفقہ دینے والا مل جائے، ولی ہو یا غیر ولی ہو، تو صبر کرے مگر یہ کہ شدید عسر و حرج یا مہم ضرر ونقصان ہوجائے، اس صورت میں حاکم شرع اس کو طلاق دے سکتا ہے .ج)ان دو صورتوں کے علاوہ، بات ، حاکم شرع تک جائے گی اور حاکم شرع، چار سال تک، اس کے لاپتہ ہونے کے مقام کے آس پاس کے علاقوں میں، تفتیش کرائے گا، اگر پھر بھی پتہ نہ چلے تو پہلے اس کے ولی کو طلاق دینے کی پیشکش کرے گا، اور اگر اس نے طلاق نہ دی تو خود طلاق دیدے گا، اس کے بعد عدّت وفات رکھے گی،(اگر چہ طلاق رجعی کی عدّت کافی ہونا بھی، قوی ہے، لیکن حتی الامکان احتیاط ترک نہیں ہونا چاہیےٴ) تب شادی کرے گی، اور اگر عدّت کے دوران ، پہلا شوہر آجائے تو وہی بہتر ہے، اور اگر عدّت کے ختم ہونے کے بعد (یہاں تک کہ دوسری شادی کرنے کے بعد بھی) پہلا شوہر آجائے تو بھی طلاق نافذ ہے،، اور فقط دونوں کی رضایت اور دوبارہ نکاح کے ذریعہ واپسی کا امکان ہے

دسته‌ها: نفقه

گواہوں کی عدالت کے ثابت ہونے کا ضروری ہونا

کیا اسلامی قوانین میں اصل قاعدہ یہ ہے کہ عدالت میں آنے والا ہر گواہ، ہ عادل ہے؟ یا شاہد کی عدالت کا ثابت کرنا لازم ہے؟

جواب: شاہد کی عدالت کا ثابت کرنا لازم ہے؛ لیکن اسی کام کے لئے اتناہی کافی ہے کہ اس کے ساتھ نشست وبرخاست رکھنے والا شخص اس سے کوئی غلط کام نہ دیکھے، اس طرح اس کی عدالت ثابت ہو جائے گی۔

قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت