شرعی نکاح سے پہلے منگیت ر سے مقاربت کرنا
شرعی عقد سے پہلے، منگیتر کے ساتھ، دبر میں مجامعت کرنے کا کیا حکم ہے؟
اگر دخول حاصل ہوجائے تو اس پر زنا کی حد (سزا) جاری ہوگی ۔
اگر دخول حاصل ہوجائے تو اس پر زنا کی حد (سزا) جاری ہوگی ۔
باکسینگ کے خطرات کے پیش نظر اس کا جایز ہونا مشکل ہے مگر ضرورت کے وقت، ان لوگوں کے لیے جو مقابلوں کے لیے اس کی تیاری کر رہے ہوں۔
جواب :۔ ( الف)بازار کی قیمتوں کا بڑھنا خمس کا باعث ہے لیکن اگر اس حد تک پہونچ جائے کہ ا س کا سرمایہ خمس دینے کے بعد اس کی زندگی بسر کرنے کے لئے کافی نہ ہوتو اس صورت میں خمس اداکرنے سے معاف ہے ۔ جواب:۔ (ب)معیار قیمت ہے ، مقدار نہیں ۔
جواب : کوئی حرج نہیں بلکہ لازم ہے ۔
اگر علاج اسی پر منحصر ہو تو ڈاکٹر ایسا کر سکتا ہے اور اس کے اوپر کوئی ذمہ داری عاءد نہیں ہوتی ۔
ختم سورہ انعام کا یہ جو طریقہ رایج ہے اس بارے میں کوئی مستند حدیث نظر سے نہیں گزری، اگر چہ بعض کتب مین اس کی اشارہ کیا گیا ہے۔ مگر اس میں شک نہیں ہے کہ اس مبارک سورہ کی تلاوت اور اس پر عمل بہت سء مشکلات کے حل کا سبب بن سکتا ہے اور بہتر یہ ہے کہ سورہ کی تلاوت کے وقت ان میں کسی چیز کا اضافہ نہ کیا جائے۔ ہاں جب تلاوت ختم ہو جائے تو دعائیں اور مرثیہ پڑھے جائیں۔
ڈاکتر ذمہ دار نہیں ہے البتہ اس کا فریضہ ہے کہ وہ مریض کو مشکوک یا مضر دوا نہ دے ۔
اگر دوا اپنی نوعیت میں منحصر بفرد ہو اور اس کا فایدہ نقصان سے زیادہ ہو اور ڈاکٹر نے اس کے بارے میں مریض کو بتا دیا ہو تو ڈاکٹر کے لیے تجویز کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
اس کا کویء کفارہ نہیں ہے البتہ اسے فورا اٹھا کر اس کا احترام کرنا چاہیے۔
مفروضہ سوال میں ایسے سامان کوبیچنا اور اس کے بدلے ضرورت کا سامان لینے میں کوئی ممانعت نہیں ہے؛ لیکن اولویت مشابہ سامان کو ہے (جیسے پُرانے فرش کی جگہ نیا فرش خریدنا) ۔
طلاق اور شوہر کی رضایت، مذکورہ سزا کو جاری کرنے سے سے روک نہیں سکتی
اگر اپنی زوجہ (اور عورت ہونے کی صورت میں اپنے شوہر) سے، قابل ملاحظہ اور کافی حد تک دور ہوگیا ہے اور وہ ”یغدوویروح یعنی صبح وشام کا مصداق نہ ہو یعنی عملی طور پر اس کی زوجہ اس کے اختیار میں نہ ہو، تب اس صورت میں زنا محصنہ شمار نہیں ہوگا
انسان کی بیوی کی دوسرے شوہر سے بیٹی ، اس کی محرم ہے ( اس شرط کے ساتھ کہ اس نے اپنی بیوی کے ساتھ مباشرت کی ہو ) اور اس سے شادی کرنے سے پہلے یا طلاق لینے کے بعد ( دوسرے شوہر سے پیدا ہوئی ہو ) بیٹیوں میں کوئی فرق نہیں ہے ۔
اگر وہ امام جماعت کو عادل جانتا ہے تو اس کی اقتداء کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے؛ لیکن ہرحال میں اپنے گناہ سے توبہ کرے اور اگر کوئی خاص مشکل پیش نہ آئے تو اس سے معافی مانگے ۔