سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

نامحرم سے خلوت (نامحرم کے ساتھ تنہا ہونا)

آیا، نامحرم عورت کے ساتھ تنہا رہنا، اگر چہ مطمئن ہو کہ گناہ میں مبتلاء نہیں ہوگا جائز ہے ؟ پرائی عورت کے ساتھ تنہارہنے کی حد کیا ہے ؟

جواب:۔ اگر ایسی جگہ پر ہیں کہ جہاں عام طور پر کسی کا گذر نہیں ہوتا تو نامحرم عورت کے ساتھ تنہائی میں شمار ہوتا ہے، اور پرائی عورت کے ساتھ تنہارہنے میں اشکال ہے حتیٰ اگر سوچےکہ حرام میں مبتلا نہیں ہونگے .

قرض دلانے میں درمیانی رابطہ کا ضامن ہونا

چند مہینہ پہلے میرا کاروباری شریک میرے پاس آتا ہے اور معین رقم کا ایک چیک مجھے دکھاتا ہے اور مجھ سے کہتا ہے کہ میں اپنے ایک دوست سے اس چیک کے عوض نقد رقم حاصل کرلوں، میں نے اپنے دوسرے دوست (جو بازار میں دوکاندار ہے سے درخواست کی کہ وہ اس کو کام کو انجام دیدے، اس نے چیک کو لے کر رقم دیدی، کچھ دنوں کے بعد جب وہ بینک گیا تو چیک واپس لوٹا دیا گیا چونکہ اس کے کھاتہ میں کوئی رقم موجود ہی نہیں تھی، میں اپنے شریک کے پاس گیا اور اس سے گلہ وشکوہ کیا تو اس نے کہا: ”لاوٴ چیک مجھے دے دو، میں اس کی رقم کا انتظام کردیتا ہوں“ میرے دوست نے مجھ پر اعتماد کرتے ہوئے وہ چیک مجھے دے دیا، میں نے بھی اپنے شریک پر بھروسہ کرتے ہوئے چیک اس کے حوالہ کردیا، یہ طے ہوا کہ اسی دن ظہر کے وقت تک وہ رقم دیدے گا، لیکن اس نے نہ یہ کہ فقط رقم نہیں دی بلکہ جس وقت بات اس کی رپورٹ کرنے تک پہونچی تو کہنے لگا: ”میں نے رقم دیدی اور چیک وصول کرلیا ہے“ البتہ بعد میں اقرار کرلیتا ہے کہ اس نے کوئی رقم نہیں دی ہے اور جھوٹ بولا ہے، اس صورت میں اس رقم کا کون شخص مقروض ہے ؟

اگر تمھارا اس معاملہ کے درمیان پڑنا، ضمانت کے طور پر رہا ہو تو تم بھی ذمہ دار ہو اور تمھارا شریک بھی اور اگر فقط درمیان میں واسطہ بنّا تھا، ضمانت نہیں تھی، تب تمھارا شریک ضامن ہے اور اگر تمھارا کاروباری دوست تمھارے اس شریک کو نہیں جانتا تھا اور تمھارے اعتبار پر اس نے رقم دی تھی تب تمھارا واسطہ بننے کا مطلب اس کی ضمانت لینا ہے ۔

دسته‌ها: ضمانت کے احکام

اہل بستی کا ،بستی کے اطراف میں موجود معادن (کان) میں حق

ہمارے شہر کے اطراف میں بہت سی معادن (کانیں) موجود ہیں یہ معادن نہ کھوج کی جانے والی معادن میں سے ہیں اور نہ زیر زمین واقع ہیں، ان سے فائدہ حاصل کرنا بہت آسان ہے اور نہ ہی ان پر کوئی زیادہ خرچ آتا ہے، مثال کے طور پر ڈولومائیٹ Dolomite(ٹائلس وغیرہ بنانے کی مٹی) سے استفادہ کرنا کہ جو ایک طبیعی پہاڑ کی صورت میں ہے لوگ فقط معمولی فنی آلات، جیسے بلڈوزر یا مکینکی بیلچہ کو استعمال کرکے اس سے منافعہ حاصل کرتے ہیں، مذکورہ معدن جوشہر اور دیہاتوں کا طبعی جز ہے مالکیت اور بستی کی آمدنی کے لحاظ سے ان کی وضعیت کیا ہے؟ کیا دیہات والے ان معاہدوں میں جو خصوصی یا حکومتی شرکتوں (کمپنیوں) کے ساتھ کیے جاتے ہیں مداخلت اور درآمد کا وہ حصہ جو اس معاہدے سے حاصل ہوا ہے اپنے گاؤں کی ترقی کے لئے مخصوص کرسکتے ہیں؟

جواب: اس صورت میں جبکہ معدن (کان) گاؤں کی حریم میں واقع ہو (حریم سے منظور، وہ زمینیں ہیں جو گاؤں والوں کی ضرورتوں میں استعمال کی جاتی ہیں، جیسے وہ زمین جہاں سامان اتارا جاتا ہے، یا پکی ہوئی فصل اور ایندھن جمع کیا جاتا ہے) گاؤں والے اس پر حق رکھتے ہیں اور اپنے حق کے بدلے کوئی چیز لے بھی سکتے ہیں لیکن اگر معدن (کان) گاؤں کے حریم سے خارج ہے سزاوار یہ ہے اس گاؤں کے لوگوں پر مہربانی کی جائے، اگر معدن سے گاؤں والوں کا نقصان ہوتا ہے تو اس کا جبران بھی لازم ہے۔

ایکسیڈینٹ کی وجہ سے متعدد نقصانات پہنچنا

کار حادثہ میں ایک شخص کو قانونی ڈاکٹر کی تشخیص کے مطابق، مندرجہ ذیل نقصانات پہنچے:۱۔ گردن کے پانچوے مہرے کا ٹوٹنا جس کی وجہ سے وسیع پیمانہ پر نقصان پہنچا ہے اور ۹۰/ فی صد گردن ٹوٹ گئی ہے۔۲۔ پورے طور سے مجامعت کی طاقت ختم ہوگئی ہے۔۳۔ اعصاب کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے پیشاب پر کنٹرول ختم ہوچکا ہے۔۴۔ پاخانہ اور ریح کو روکنا ناممکن ہوگیا ہے۔۵۔ دونوں ہاتھ تقریباً ۷۰/ فی صدمفلوج ہوگئے ہیں۔۶۔ دونوں پاؤں تقریباً ۹۵/ فی صد مفلوج ہوگئے ہیں۔اس پر توجہ رکھتے ہوئے کہ دوسرے بند سے چھٹے بند تک تمام گردن کے مہرے ٹوٹنے کے سبب ، مذکورہ بالا نقصانات کی دیت کتنی ہوگی؟

مجامعت کی طاقت ختم ہوجانے اور پیشاب یا پاخانے پر اختیار کے ختم ہوجانے پر ایک کامل دیت ہوگی، چونکہ ہاتھ اور پاؤں کے کامل طور سے مفلوج ہوجانے کی دیت ، کامل دیت کی ۳/۲ ہوتی ہے، اسی اعتبار سے نسبت کا میزان لگایا جائے گا کہ وہ کتنے فیصد مفلوج ہوئے ہیں اسی حساب سے دیت کو معین کیا جائے گا اور گردن کے ایک مہرہ کے ٹوٹنے کے لئے ارش ہے۔

دسته‌ها: منافع کی دیت

بچہ کے ممیز اور غیر ممیز ہونے کا معیار

کیا آپ بچُوں کے ممیز (تمیز دار) اور غیر ممیز ہونے کے لئے، کسی خاص عمر کے قائل ہیں یا اس کی تشخیص کا معیار کچھ اور ہے ؟ نیز کیا ممیز بچوں کے لئے، سزا کے احکام، بالغ اشخاص ہی کی طرح جاری ہوں گے یا اس کے طریقہ میں کوئی فرق ہے ؟

تمیز (اچھے بُرے کی پہچان) کی عمر، معیّن نہیں ہے اور اس بات میں اشخاص مختلف ہوتے ہیں ۔ اس کا معیار یہ ہے کہ وہ اچھے برے میں تشخیص دے سکیں، مختلف امور کے لحاظ سے تمیز بھی مختلف ہوتی ہے اور بالغین کے احکام، ممیز بچوں پر جاری نہیں ہوتے، بلکہ ان کے مخصوص احکام ان پر جاری ہوں گے ۔

دسته‌ها: بالغ
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت