حج پر جاتے وقت، استطاعت نہ ہونا
مثال کے طور پر کوئی شخص پانچ سال پہلے مستطیع ہو گیا تھا اور حج کے لئے ( محکمہ حج میں ) نام بھی لکھوادیا تھا ، لیکن اب فقیر ہو گیا ہے ، کیا ایسے شخص پر حج واجب ہے ؟ اور اگر وہ شخص سید ہو تو کیا اس کو خمس دیا جاسکتا ہے تاکہ مکہ مکرمہ حج کرنے کے لئے چلا جائے ؟
جواب:۔ اگرنوبت آنے کے موقعہ پر اس میں بعض شرائط نہیں پائے جاتے تو اس پر حج واجب نہیں ہے ۔
پینشن کی رقم پر خمس
کیا ریٹائر شخص کی پنشن پربھی خمس واجب ہے ؟
جواب :۔ریٹائر ہونے کے بعد جو رقم حکومت سے دریافت کرتے ہیں اس رقم کاحساب اسی سال کی آمدنی میں ہو گا چنانچہ اگرسال کے خرچ سے زیادہ ہے ، یعنی خرچہ کرنے کے بعد ، بچ جائے تو اس پر خمس واجب ہے ۔
غیبت کے گناہ کے خوف سے صلہ رحم کا ترک کرنا
اگر نزدیکی رشتہ دار کے پاس بیٹھنے سے اس بات کا خوف ہو کہ وہ خود بھی غیبت میں مبتلا ہوجائے گا یا دوسروں کو غیبت کرتے سنے گا، اور وہ جگہیں بھی ایسی ہوں جہاں نہی عن المنکر کا مذاق اڑایا جاتا ہو، کیا ایسی صورت میں انسان ان سے قطع رحم کرسکتا ہے؟
جب بھی نہی عن المنکر کی تاٴثیر کی کوئی امید نہ ہو اور آپ کو خود اس گناہ میں پڑنے کا خوف ہو تو آپ رفت وآمد بند کرسکتے ہیں، لیکن کوشش کریں کہ صلہٴ رحم کو خوش کلامی سے امر بالمعروف ونہی عن المنکر کرتے ہوئے ترک نہ کریں ۔
دعالکھنے کی آمدنی
اگر کوئی اُن دعاؤں کے لکھنے کے عوض پیسہ لے جو بعض معبتر کتابوں میں سردرد وغیرہ کی شفا کے لئے ذکر ہوئی ہیں، تو اس کا کیا حکم ہے؟
اگر دعا ایسی ہوںجو معتبر کتابوں میں تحریر ہوئی ہیں، تو ان کے لکھنے کے عوض پیسہ لینے میں کوئی ممانعت نہیں ہے ۔
قسطیں ادا نہ ہونے کے کی صورت میں پہچان کرانے والے کی ذمہ داری
پھلوں کی خرید وفروخت کے دوران منڈی میں ایک شخص کی پھل فروش سے جان پہچان ہوجاتی ہے، کچھ عرصہ کے بعد پھل فروش آدمی اس شخص سے کہتا ہے کہ: ”میں نے تھوڑے دن پہلے ہی شادی کی ہے اور شادی کے عنوان سے قرض لینے کے لئے مجھے ایک ضامن (گارنیٹر) کی ضرورت ہے اور میری کسی سے جان پہچان نہیں ہے“ پہلا شخص جو پھل فروش کو مکمل طور پر نہیں پہچانتا تھا فقط ہمدردی کے طور پر اس کو ایک ٹیچر کے پاس لے جاتا ہے جو بینک سے اپنی تنخواہ وصول کرتا ہے البتہ مذکورہ معلّم سے اس کے دور کے تعلّقات تھے، معلّم کے سامنے اس پھل فروش کی اپنے سالے کی حیثیت سے پہچان کراتا ہے اور اس طرح وہ معلّم اس پھل فروش کا ضامن بن جاتا ہے ۔پھل فروش نے قرض لے لیا لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ قسطیں ادا نہیں کرتا، اس وجہ سے بینک، ضامن کی تنخواہ میں سے قسط کاٹ لیتا ہے، اب ضامن یعنی وہ معلّم اس شخص سے مذکورہ قسطوں کا مطالبہ کرتا ہے جس نے اس کی پہچان کرائی تھی، برائے مہربانی درج ذیل دوسوالوں کے جواب عنایت فرمائیں:۱۔ ان قسطوں کی بابت جو اس جوان پھل فروش نے جمع نہیں کی ہیں اور بینک اس ٹیچر کی تنخواہ میںسے وصول کررہا ہے، کیا وہ شخص ضامن ہے جس نے اس جوان سے آشنائی کرائی ہے ؟۲۔ یہ بات ملحوظ رکھتے ہوئے کہ ٹیچر کے پاس اس پھل فروش کے بارے میں کافی ثبوت ہیں جن کے ذریعہ قانون کے راستے سے وہ اپنا حق وصول کرسکتا ہے کیا پھر بھی سزاوار ہے کہ وہ اس شخص پر زور دے اور اپنی رقم کا مطالبہ کرے کہ جس نے ناتجربہ کاری کی وجہ سے ایسا کردیا تھا؟
آشنائی کرانے والا وہی شخص ضامن ہے ۔کبھی کبھی ناآگاہی اور تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے کچھ لوگ خود کو پریشانیوں میں مبتلا کرلیتے ہیں، یہ مورد انہی میںسے ایک ہے لہٰذا وہ شخص شریعت کی رو سے ذمہ دار ہے ۔
کلاس روم میں پردے کا لحاظ رکھنا
جائز مقدار سے زیادہ ، عورت کے سر کے بال ، چہرہ اور ہاتھوں کو دیکھنے کا کیا حکم ہے جس قدر حصہ بلیک یا وائٹ بورڈ پر لکھتے وقت کُھل جاتا ہے ؟ (البتہ اساتذہ کا طلباء کوسمجھانے کیلئے ) ؟
جواب:۔ اس طرح پردہ کرنا چاہیےٴ کہ چہرہ اور ہاتھوں سے زیادہ حصہ نمایاں نہ ہوں .
نیابتی حج کے اخراجات
جو شخص خود تو مستطیع نہیںہے لیکن اپنے والد جنہوں نے حج کے لئے نام لکھوا یا تھا اور اب دنیا سے گذر گئے ہیں ، ان کے بینک کی رسید کو اپنے نام کراکر ، ان کی نیابت میں ، حج کے اعمال انجام دیتا ہے اس صورت میں دیگر اعمال میں کام آنے والی رقم منجملہ ڈالر ، فیس وغیرہ کو مہیا کرنے کے اخراجات کس کے ذمہ ہیں ؟ کیا اس کے ثلث مال سے لے سکتا ہے ؟
جواب :۔ اگر اس کے والد نے صاحب استطاعت ہونے کے بعد پہلی فرصت میں ، حج کے لئے نام لکھوایاتھا اور حج کرنے سے پہلے ان کا انتقال ہو گیا ہے تو ان کی نیابت واجب نہیں ہے اور فقط اس صورت میںان کی نیابت میں حج بجالاسکتا ہے کہ جب وارث راضی ہوں ، لیکن اگر مرحوم پہلے مستطیع ہو گئے تھے لیکن حج کے لئے نام لکھوانے اور حج کرنے میں کوتاہی کی ہے ، اس صورت میں اس کے لئے میقات سے حج کریں مگر یہ کہ اس نے اپنے شہر سے حج کرنے کی وصیت کی ہو اور اگر قانونی طریقہ سے ان کے بینک کی رسید کو فروخت کرکے اس رقم کے کچھ حصہ سے ، اجرت پر حج کرانے کے لئے اجیر کرنا ممکن ہو تو احتیاط واجب یہ ہے کہ ایسا ہی کریں ۔
مہر کی رقم کے ذریعہ استطاعت
ایک خاتون کا مہر ، اس کی استطاعت کے چند برابر ہے ، کیا اس کے مرنے کے بعد ا سکے وارثوں پر ، میراث تقسیم کرنے سے پہلے ترکہ سے حج کے اخراجات کو جدا کرنا واجب ہے ؟
جواب :۔ چنانچہ اس خاتون نے معمول کی مطابق اپنے شوہر سے مہر کی رقم وصول کرلی تھی ، تو مستطیع تھی اور اس کے ترکہ سے جدا کرنا واجب ہے اور اگر مہر کی رقم وصول نہیں کرپائی تھی تو مستطیع نہیں ہوئی تھی ۔
اس قاتل کے قصاص اور دیت کا طریقہ جس نے دو اور شخصوں کو زخمی کیا ہو
چنانچہ ایک شخص ایک قتل عمد اور دواشخاص پر ضرب وجرح کا مرتکب ہوا ہے اگر مقتول کے اولیاء دم قصاص کے خواہاں ہوں اور قاتل کے پاس دو اشخاص کی دیت دینے کے لئے کوئی مال نہ ہوکیا قصاص کا جاری کرنا دیت کی ادائیگی سے پہلے ممکن ہے؟ جواب کے منفی ہونے کی صورت میں دیت کی ادائیگی کس طرح میسر ہے۔
قصاص اولیاء دم کے تقاضے کے مطابق انجام پائے گا، شخص جانی (قاتل) اگر کوئی مال رکھتا ہوگا تو دیت کو اس کے مال سے ادا کریں گے ، اس صورت کے علاوہ میں دیت میّت کے ذمہ رہے گی اور اگر اعضاء کی جنایت عمدی اور قابل قصاص ہو تو پہلے قصاص عضو کریں گے، بعد میں قصاص قتل انجام پائے گا۔
کپڑا پہن کر غسل کرنا
سوئمنگ پل وغیرہ میں کپڑے پہن کر غسل ارتماسی کیا جاسکتا ہے ؟
کپڑے پہن کر غسل ارتماسی کرنے میں اشکال ہے لیکن اگر اسی کپڑے پر غسل ترتیبی یوں کیا جائے کہ پانی کپڑے کے نیچے سے ہوتا ہوا جسم پر آرہا ہواور بدن کا تھوڑا حصہ پانی سے باہر ہو اور پھر پانی میں چلاجائے تو اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے ۔
ضمانت شدہ اضافی قیمت کا وصول کرنا
کمپنی کے ادارے کمپنی بناتے وقت اور لوگوں میں اس کے شیئرز خریدنے کے لئے، ذوق وشوق اور رغبت پیدا کرنے کی غرض سے، شیئرز خریدنے والوں کے لئے درج ذیل خاص امیتاز مدنظر رکھتے ہیں، ”اگر شیئرز خریدنے والا شخص اپنے شیئرز فروخت کرنے کا خواہشمند ہو تو اس صورت میں شیئرز خریدنے والے ادارے کمپنی بننے کے چھ مہینے کے بعد اس کے شیئرز کے ضامن ہوں گے اور دوسالانہ شیئرز کی اصل قیمت کے علاوہ بیس فیصد % شیئرز کی قیمت بڑھی ہوئی قیمت کے عنوان سے اس شخص کو ادا کریں گے“۔شیئرز خریدنے والے بعض حضرات اس قسم کا خاص امتیاز ہونے کی وجہ سے، مدنظر کمپنی کے شیئرز خرید لیتے ہیں، اب اس بات پر توجہ رکھتے ہوئے کہ بعض اداروں کے بارے میں شرعی حیثیت سے شک وشبہ (بیس فیصد بڑھی ہوئی قیمت کی ضمانت) پایا جاتا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ آپ درج ذیل سوالوں کے بارے میں اپنا مبارک نظریہ بیان فرمائیں:۱۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ہے کہ کمپنی کے اداروں نے مدنظر منافع کو بڑھتی ہوئی قیمت کے عنوان سے بیس فیصد بیان کیا ہے، یہ بات ملحوظ رکھتے ہوئے کہ اس سلسلہ میں یہ رقم ادا کرتے وقت کہ شیئرز کی قیمت میں بیس فیصد اضافہ ہوگیا ہے یا نہیں؟ کوئی تحقیق یا جستجو نہیں کی جاتی (کہ واقعاً قیمت بڑھی ہے یا نہیں) اور اگر فرض کرلیا جائے کہ تحقیق کی جائے تو دوسرا نتیجہ برآمد ہوگا (اور وہ یہ کہ شیئرز کی واقعی قیمت اصل قیمت اور بیس فیصد دونوں سے کم ہے)اس صورت میں شرعی حیثیت سے مذکورہ وعدے کا کیا حکم ہے؟
اس وعدے میں کوئی اشکال نہیں ہے اور وعدے کو وا کرنا لازم ہے ۔
ایسے بیمار کی دیت جو طبیب کی تساہلی کی وجہ سے فو ت مغزی کا سبب ہوجائے
ایک جوان خاتون جو حاملہ تھی، معالج ڈاکٹر کی تشخیص کے مطابق وضع حمل آپریشن کے ذریعہ کیا گیا، افسوس کہ آپریشن کے بعد یہ خاتون مشکل میں گرفتار ہوگئی، قانونی ڈاکٹر کی تشخیص کے مطابق حال حاضرذ میں یہ خاتون مغز ی نقصان کی وجہ سے اپنے ہوش وہواس کھوبیٹھتی ہے کہ جس کی بازگشت بھی ممکن نہیں ہے، دل کے بیدار رہنے کی وجہ سے یہ مریضہ ایک نباتی زندگی گزار رہی ہے، اس کو اپنے اطراف کا کوئی علم نہیں ہے، تمام حسّی قوتیں کھوبیٹھتی ہے جیسے دیکھنے، سننے، بولنے، سونگھنے وغیرہ کی قوتیں، متعلقہ مرض کے ڈاکٹروں کی ٹیم نے حادثہ کی وجہ، اسپتال میں ضروری امکانات کا نہ ہونا بتائی ہے اور اس حادثہ کا ذمہ دار بے ہوشی کے ڈاکٹر اور ہوش میں آنے پر تعینات نرس اور اسپتال کے عملہ کو ٹھہرایا ہے، اس وقت ۴/ سال اور چار مہینے ہوگئے ہیں اور مریضہ اسی حالت میں ہے اور ممکن ہے ابھی کئی سال اسی حالت میں رہے، سوال یہ ہے کہ کیا ہر ایک اعضا اور منافع کی علیحدہ دیت ادا کی جائے گی؟
اگر آخر میں مغز کی موت کا انجام قطعی موت ہوجائے تو ایک دیت سے زیادہ نہیں ہے، جس کو حادثہ کے ذمہ داران اپنی غلطی کی نسبت سے ادا کریں گے۔
شور وشرابا اور اڑی ہوئی باتوں کی ایک دوسرے کی طرف نسبت دینا
سیاسی شور شرابا جو مختلف نشستوں میں بیان ہوتا رہتا ہے اور جان بوجھ کر یا سمجھے بغیر ان باتوں کو لوگ اس کی یا اُس کی طرف منسوب کردیتے ہیں، کیا یہ بھی غیبت میں شمار ہوتا ہے؟
اڑی ہوئی باتوں کی ایک دوسرے کی طرف نسبت دینا، غیبت سے بڑھ کر ہے، ہاں اگر پوشیدہ عیب کو آشکار کئے بغیر بیان کرے تو غیبت ہوتی ہے ۔
نماز جمعہ میں مسافر کا شریک ہونا
اگر مسافر باطہارت( وضو) ہو کر نماز جمعہ کے دونوں خطبے سنے کیاظہر کی دورکعت نماز کی جگہ پر کافی ہےں ، اور کیا مسافر نماز جمعہ میں شریک ہوسکتا ہے ؟
جواب:۔ مسافر نماز جمعہ میں شرکت کرسکتا ہے اس کی نماظہر کی دورکعت کے لئے کافی (مجزی)ہے لیکن تنہا دو خطبوں کا سننا کافی نہیں ہے بلکہ دو رکعت نما ز جمعہ بھی ضرورپڑھے۔

