شکی کا شک اور گمان
کیا شکی مزاج افراد اپنے ظن و گمان پر عمل کرسکتے ہیں؟(اگر ظنّ و گمان قوی ہوں تو کیسا ہے؟)
جواب: ان کو چاہئے کہ جس طرح عام لوگ انجام دیتے ہیں وہ بھی اسی مقدار پر اکتفاء کریں، یہاں تک کہ اگر ان کو کوئی ظن و گمان حاصل بھی نہ ہو۔
جواب: ان کو چاہئے کہ جس طرح عام لوگ انجام دیتے ہیں وہ بھی اسی مقدار پر اکتفاء کریں، یہاں تک کہ اگر ان کو کوئی ظن و گمان حاصل بھی نہ ہو۔
اس مکان کو اس رقم سے زیادہ پر کرایہ پر دینا کہ جس رقم پرآپ نے کرایہ پر لیا ہے اشکال رکھتا ہے ، مگر یہ کہ آپ کچھ چیزیں اس میں ، زیادہ کردیں، جیسے قالین ، میز ،الماری یا اسی رقم کی دوسری چیزیں وغیرہ۔
دیت اس کے مال سے لی جائے گی۔
فقط زنا سے واقف ہونا، قتل کرنے کا جواز نہیں ہوسکتا مگر یہ کہ اس کو اپنی زوجہ سے زنا کرتے ہوئے دیکھ لے کہ اس صورت میں اس کا قتل جائز ہے لیکن جب تک عدالت میں ثابت نہ کرے، عمدی قتل شمار ہوگا اور ان موارد میں کہ جہاں ثابت ہوجائے کہ قاتل، مقتول کے مہدور الدم ہونے کا یقین رکھتا تھا اور اسی یقین سے اُسے قتل کردیا ہے، تب یہ قتل، قتل شبہ عمد شمار ہوگا ۔
قرضداروں کا حق مقدم ہے ۔
اگر حاکم شرع کے حکم سے محجور ( اس کا تصرف کرنا ممنوع ہے ) نہ کیا گیا ہو تو اس صورت میں اس کا کیا ہوا معاملہ باطل نہیں ہے ، لیکن اس نے حرام کام کیا ہے۔
جی ہاں، ممنوع التصرف کا حکم صادر ہونے کے بعد، قرض خواہوں سے مربوط ہے ۔
مفروضہ سوال میں ایسے سامان کوبیچنا اور اس کے بدلے ضرورت کا سامان لینے میں کوئی ممانعت نہیں ہے؛ لیکن اولویت مشابہ سامان کو ہے (جیسے پُرانے فرش کی جگہ نیا فرش خریدنا) ۔
جواب :اگر اس شہر میں کوئی جامع الشرائط مجتہد نہ ہو تو اس صورت میں ایسے باعلم حضرات سے جو قضاوت اور حقوقی مسائل سے (خواہ تقلید ہی کے ذریعہ ) آشنا ہوں استفادہ کیا جائے
جواب: اگر عاریہ کے قصد سے یعنی وقتی طور سے اس کو دیاگیا تھا تو شوہر واپس لے سکتا ہے، لیکن اگر ہبہ کی نیت تھی اور اس کے عوض کچھ لیا بھی نہیں تھا تب بھی واپسی کا حق رکھتا ہے، لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ معمولاً شوہر حضرات عموماً ہبہ کے قصد سے دیتے ہیں، اگر سونے کے عوض کچھ لیا بھی تھا، واپس لینے کا حق نہیں رکھتا، ایسے ہی شوہر واپس لینے کا حق نہیں رکھتا جب دونوں ایک دوسرے کے رشتہ دار بھی ہوں۔
جواب: کوئی اشکال نہیں ہے ۔
اس پر توجہ رکھتے ہوئے کہ نظام، اسلام کی بنیاد پر استوار ہے لہٰذا ایسا تضاد متصوّر نہیں ہے، مگر ان لوگوں کے لئے جن کی یا تو مسائل اسلامی کی طرف توجہ نہیں ہے یا وہ مصالح نظام سے بے خبر ہیں ۔
ایک خبر نگار امر ابالمعروف کے قوانین کے مطابق عمل کرسکتا ہے؛ وہ جگہ جہاں پر تاثیر کا احتمال ہو اور اُس پر کوئی ضرر بھی مترتب نہ ہو اور اس کام کا منکر ہونا بھی مسلّم ہو، تو وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل کرے، مگر یہ کہ اس کا کام (کہ جو واجب کفائی کے عنوان سے ہے) کو خطرہ ہو؛ اس صورت میں اس کام کو باواسطہ انجام دے؛ یعنی دوسروں کے ذریعہ۔
جواب: سال جاری کی قیمت سے ادا ہونا چاہےے ۔
جی ہاں، ممکن ہے کوئی خبر پچاس فیصد یا اس سے کم سچّی ہو، لہٰذا صدق وکذب میں درجہ بندی پائی جاتی ہے ۔