نسبندی کے لیے عورت و مرد میں اولویت
اگر نس بندی کرانے کا حکم دے دیا جائے تو عورت و مرد میں سے کون اس امر میں مقدم ہوگا؟
جواب: اگر دونوں کے لیے حالات ایک سے ہوں تو بعید نہیں ہے کہ مرد اس کے لیے مقدم ہو۔
جواب: اگر دونوں کے لیے حالات ایک سے ہوں تو بعید نہیں ہے کہ مرد اس کے لیے مقدم ہو۔
اگر یقینی طور پر زمین غصبی ہو تو ان میں سے کوئی بھی تصرف جائز نہیں ہے ۔
ایک سے آخر تک: کسی شخص کے لئے بھی جائز نہیں ہے کہ وہ خود اپنے مال کو ضائع کرے یا دوسرے کو ضائع کرنے کی اجازت دے، اسی طرح مفت، یا اصل قیمت سے کم قیمت پر کئے گئے معاملات بھی جو قرض خواہوں کا حق ضائع ہونے کا باعث ہوتے ہیں، جائز نہیں ہیں، یہاں تک کہ اس صورت میں تو معاملہ کا صحیح ہونا بھی محل اشکال ہے، اسی طرح ظاہری طور پر معاملہ کرنا بھی یقیناً صحیح نہیں ہے اور مستوعب دَین یعنی جس قدر اس کا مال ہے اس مقدار میں قرض ہونا، حالیہ اور آئندہ دونوں قسم کے قرضوں کو شامل ہے، ممنوع التصرف شخص کے کاروربار کی آمدنی، ضروری اخراجات نکال کر، احتیاط واجب کی بناپر قرض خواہوں کو دی جائے گی۔
جب بھی کوئی امام جماعت کسی بھی وجہ سے مسجد کو چھوڑدے، اور وہاں پر نماز جماعت کرانے کے لئے آمادہ نہ ہو، تو اس صورت میں دوسرے جامع الشرائط امام جماعت کے ذریعہ نماز جماعت برپا کرنے میں اس کی رضایت شرط نہیں ہے ۔ امام جماعت تنخواہ کا مطالبہ بھی نہیں کرسکتا، لیکن سزاوار ہے کہ مومنین اس کا انتظام کریں، بہرحال بہتر ہے کہ اختلافات کو مصالحت سے دور کرلیا جائے ۔
جب بھی اس بات کا خوف ہو کہ مجرم فرار ہوجائے گا اور ہر گز دیت کی رقم ادا نہیں کرے گا نیز ضمانت اور کفالت کے ذریعہ بھی یہ مشکل حل نہ ہوسکے گی تواس کوگرفتار کیا جاسکتا ہے ۔
جواب:نہ حد رکھتی اور نہ تعذیر ، مگر یہ کہ یہاں پر عناوین ثانویہ آجائیں ۔
دیت کو اس کے مال سے لے سکتے ہیں۔
آپ کے والد نے جو کچھ بھی کیا ہو اب وہ اس دنیا مین نہیں ہیں اور وہ بے بس و لاچار ہیں۔ چونکہ مسلمان اور شیعہ تھے لہذا وہ رحم کے حقدار ہیں۔ خداوند کریم سے ان کی بخشش کی دعا کریں اور یہ سمجھ لیں کہ اگر آپ کے والد فاسق بھی تھے تب بھی آپ کی گردن پر ان کے لیے حق ہے۔ امید ہے کہ خدا ہم سب کو معاف کرے۔
ایک موٴثق شخص خبر کو نقل کرے تو کافی ہے، لیکن احتیاط یہ ہے کہ مہم خبروں میں ایک شخص پر قناعت نہ کرے ۔
جواب: اس سے مراد یہ ہے کہ مقتول کے وارثین قاتل سے سمجھو تاکریں کہ وہ قصاص کی جگہ دیت لے لیں گے ؛ اس صورت میں میاں اور بیوی دونوں شریک ہونگے۔
جواب۔ مفروضہ مسئلہ میں شرط کی مخالفت کرنے کی صورت میں بیچنے والے نے معاملہ کو فسخ کرنے کا حق اپنے لئے محفوظ رکھا ہے لہٰذا فسخ کرنے کا حق ہے لیکن اگر نتیجہ کی شرط کی صورت میں کہا ہے تو ان علماء کے نظریہ کے مطابق جو نجتیجہ کی شرط کو صحیح جانتے ہیں معاملہ خود بخود فسخ ہو جائے گا اور چونکہ ہم نتیجہ کی شرط کے بارے میں احتیاط کے قائل ہیں لہٰذا احوط(زیادہ احتیاط)یہ ہے کہ اس مقام پر آپس میں مصالحت کریں
اس کی کوئی صحت نہیں ہے، لیکن کہتے ہیں: ”اسفند کی دھونی فضا کو بکٹیریا سے پاک وصاف کرتی ہے اور مفید ہے“۔
عضو بدن کو زخمی کرنے کے بارے میں بھی قسم ثابت ہے لیکن قسم کے ذریعہ دیت ثابت ہوتی ہے قصاص نہیں ۔
مالک کی مرضی کے بغیر کرایہ دار کا تصرف کرنا جائز نہیں ہے ، مگر ضرورت اور اضطرار کے موقع پراور وہ بھی ضرورت اور اضطرار کی مقدار میں۔