دیر کرنے کا گھاٹہ کافروں سے وصول کرنا
کیا اس طرح کا خسارہ کافروں سے لینا جائز ہے ؟
ان کافروں کے بارے میں کہ جن کا مال ہمارے لئے حلال ہے ، کوئی ممانعت نہیں ہے ۔
ان کافروں کے بارے میں کہ جن کا مال ہمارے لئے حلال ہے ، کوئی ممانعت نہیں ہے ۔
نشہ آور چیزوں کا استعمال کرنا کسی کے لئے بھی جائز نہیں ہے مگر یہ کہ اگر کئی شخص ترک کرنا چاہے تو اس کی جان خطرے میں پڑ جائے
اس طرح کا خیار شرط صحیح نہیں ہے، لیکن اگر بیعانہ کرتے وقت وہ شخص مغبون تھا تو خیار غبن کو استعمال کرسکتا ہے ۔
جواب:۔ تین سلام جو تین طرف (رخ کرکے) پڑھے جاتے ہیں ان کے لئے کوئی خاص نص موجود نہیں ہے لیکن زیارت کے مطلقہ حکم کی نیت سے کوئی حرج نہیں ہے ۔
ہر وہ کام جو والدین کے آزار واذیت کا باعث ہو، وہ والدین کے عاق کرنے کے معنی میں ہے، مگر اُن موارد میں جہاں حکم شرعی، واجب ہو یا حرام ہو، اور وہ اولاد کو اس کی مخالفت کا حکم دیں ۔
جواب: مہم یہ ہے کہ ڈاکٹر کا قول اور اس کا یقین جج اور قاضی کے لیے اس طرح کے موارد میں حجت نہیں رکھتا اور حتی کے اگر خود قاضی کا یقین جو اس روش سے حاصل ہوتا ہے وہ بھی حجت نہیں رکھتا بلکہ محل اشکال ہے، لہذا ضروری نہیں ہے کہ ڈاکٹر اپنے یقین کو اس طرح کے موارد میں پیش کرے اور نتیجہ کے طور پر بچہ حکم ظاہری کے مطابق اس کے شوہر سے ملحق ہو جائے گا اور اس طرح کے احکام ظاہری سے کوئی مشکل پیدا نہیں ہوتی۔
جواب: جب تک مجبورنہ ہو خون آلودہ لعاب دہن کو حلق سے نہ اتارے، مجبوری اور حرجی صورت میں کوئی مانع نہیں ہے۔
جواب: کوئی حرج نہیں ، غسل کرسکتی ہے ، غسل جنابت کرنے سے جنابت سے وہ پاک ہوجائے گی ، نیز مستحبی غسل بھی کرسکتی ہے ۔
انسان جس قدر بھی خدا کی بندگی، تقوا اور پرہیزگاری اور خودسازی کے راستے کو طے کرے گا تو اتنی ہی اس کی حقیقت بین آنکھیں کھلتی ہیںچلی جائیں گی، اور ایسی ایسی چیز حاصل کرلے گا جو عام انسانوں کے لئے ممکن نہیں ہیں ۔
زوجہ کا قصاص میں کوئی سہم(حصہ) نہیں ہے لیکن اگر دیت میں تبدیل ہوجائے تو حصہ کی حقدار ہے۔
اس کا جواب گذشتہ مسئلہ کی طرح ہے ۔
چنانچہ قاضی کو اس طرح کے امور میں اجازت اور عام معمولی طریقہ سے اُسے اس طرح کے کاموں اور برائیوں کے بارے میں، معلومات حاصل ہوجائے تو انھیں تعزیر اور اپنی صواب دید کے مطابق سزا دینا لازم ہے لیکن اگر اس طرح کے اقدامات دیگر فساد وگناہ کا باعث ہوجائیں تب اس صورت میں پردہ پوشی ضروری ہے اور اگر انھیں بلاکر، دھمکانے ڈپٹنے، راہنمائی کرنے اور ان لوگوں سے ان کاموں سے باز آنے کا وعدہ لینے سے مقصد حال ہوجائے تو اسی مقدار پر اکتفا کی جائے ۔
اگر علاقے کے ماہرین کی نظر میں یہ چیز عیب شمار ہوتی ہو، اوروہ اس کے عوض قیمت کے قائل ہوں تو خریدار حضرات اس عیب کے برابر قیمت واپس لے سکتے ہیں ۔
جرم کو ثابت کرنے لئے ممکن ہے کہ حاکم شرع کو اُن مسائل میں جہاں اس کو ماہرین کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے، ان کی نظروں پر تکیہ کرنا پڑے، اور موضوع کے ثابت ہونے کے بعد حکم صادر کرے ۔
فقہ کے ”قصاص کے باب“ میں یہ مسئلہ مشہور ہے کہ اگر کٹے ہوئے کان کو دوبارہ اس کی پہلی جگہ جوڑدیا جائے اور وہ جُڑ بھی جائے، تو مجنی علیہ (جس کا اس نے کان کاٹا یا نقصان پہنچایا تھا) دوبارہ کاٹ سکتا ہے تاکہ وہ بھی اس کے جیسا ہوجائے، اس سلسلہ میں امام محمد باقر علیہ السلام سے ایک حدیث منقول ہوئی ہے جس کی سند، معتبر ہے یا کم از کم علماء شیعہ نے اس کے مطابق عمل کیا ہے اگرچہ اس کی خصوصیات سے صزف نظر کرتے ہوئے اور باب حدود میں بھی اس کو سرایت دیتے ہوئے (مذکورہ حکم) مشکل ہے لیکن چور کے ہاتھ کاٹنے والی دلیلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کو دوبارہ جوڑنا جائز نہیں ہے، خصوصاً یہ کہ علل وعیون میں امام رضا علیہ السلام سے ایک روایت میں آیا ہے: ”وعلّة قطع الیمین من السارق لانّہ تباشر الاشیاء (غالباً) بیمینہ وھی افضل اعضائہ واٴنفعُھا لَہُ فجعل قطعھا نکالاً وعبرة للخلقِ لئِلّا تبتغوا اٴخذ الاموال من غیر حلّھا ولِانّہ اکثر ما یباشر السرقة بیمینہ“ اور یہ مطلب دوبارہ ہاتھ جُڑوانے سے، مناسب اور سازگار نہیں ہے، دوسری حدیث میں آیا ہے: ”عن النّبی صلی الله علیہ وآلہ: اِنّہ اٴتیٰ بسارق فَاٴَمرَ بہ فقطعت یدہ ثمّ علقت فی رقبتہ“ ۱.۱۔ جواہر، ج۴۱، ص۵۴۲؛ سنن بیہقی، ج۸، ص۲۷۵.