سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

مسجد میں نعرے لگانا۔

مسجدوں میں مذہبی جیسے نعرہٴ حیدری لگانا جیسا کہ پاکستان کی بعض مسجدوں میں رائج ہے ، کیا یہ عمل ، مکروہ ہے ؟

جواب: ایسے نعرے لگانے میں کوئی حرج نہیں ، جن کا مضمون صحیح اور مذہبی ہو لیکن شرط یہ ہے کہ نماز یوں کے لئے مزاحمت ایجاد نہ کریں نیزوہ نعر ے ایسی آوازوں پرمشتمل نہ ہوں جن سے مسجدوں کی توہین ہوتی ہے ۔

دسته‌ها: مسجد کے احکام

مصلحت آمیز جھوٹ یا فتنہ انگیز سچ

مصلحت آمیز جھوٹ بہتر ہے یا فتنہ انگیز سچ؟

وہ سچ کہ جو فتنہ پھیلائے یا کوئی مفسدہ ایجاد کرے، اس سے پرہیز کرنا چاہیے؛ چاہے اس کا جھوٹ مصلحت آمیز ہویا بیہودہ اور چونکہ یہ بات اہم اور مہم قاعدہ کے تحت آتی ہے تو جھوٹ کے نقصانات اور فوائد کا آپس میں مقایسہ کرنا چاہیے، قابل ذکر ہے کہ اگر جھوٹ کی جگہ توریہ سے کام لے سکتے ہیں تو توریہ مقدم ہے، توریہ سے مراد وہ بات ہے جس کے دو معنی ہوتے ہیں؛ سننے والا اُس معنی کو سمجھے جو خلاف واقع ہے اور اس پر یقین بھی کرلے اور مصلحت حاصل ہوجائے، لیکن کہنے والا دوسرے معنی کا تصور کرے کہ جو واقع کے مطابق ہے ۔

دسته‌ها: خبر

اس زرتشت (آتش پرست) کی عدّت جو مسلمان ہوگئی ہے

یہ بات مدّنظر رکھتے ہوئے کہ مجھے اسلام قبول کئے ہوئے دوسال ہوگئے ہیں اور اپنے زرتشتی (آتشت پرست) شوہر سے جدا ہوئے بھی چھ مہینہ کا عرصہ گذر گیا ہے، میرے عدّت رکھنے کی کیا کیفیت ہوگی ؟

جواب:۔ چنانچہ آپ کواسلام قبول کئے ہوئے دو سال ہوگئے ہیں، تو آپ کے اسلام قبول کرنے کے وقت سے ہی، آپ کی عدّت شروع ہوگئی ہے اور اگرآپ کے شوہر اس بات سے آگاہ تھے اور آپ کی عدّت کے دوران انہوں نے اسلام کو قبول نہیں کیا ہے، تو آپ کی عدّت ختم اور آپ شوہر سے جدا ہوگئی ہیں اور طلاق کی بھی ضرورت نہیں ہے .

دسته‌ها: عدت کے احکام

جاسوس کی سزا

جو جاسوس، اسلامی ممالک کی فوجی یا غیر فوجی معلومات، جان بوجھ کر دشمن کے حوالے کرتے ہیں اور اس سلسلہ میں انھوں نے کبھی کبھی دوسرے ملکوں میں، ٹریننگ بھی حاصل کی ہے اور معلومات دینے کے بدلے رقم دریافت کرتے ہیں، یا انعام واجرت کے بعد یہ کام انجام دیتے ہیں، ان کا کیا حکم ہے؟ نیز کیا یہ لوگ محارب ہیں؟

جاسوس کو محارب کا عنوان دینا مشکل ہے، اس لئے کہ اس کی تعریف کے متعلق روایات اور فتووں میں کچھ امور کا تذکرہ ہوا ہے، جو جاسوس پر صادق نہیں آتے، البتہ جاسوسی کے بعض موارد پائے جاتے ہیں جو محاربہ سے بھی شدید تر اور بڑھکر ہیں، بہر حال بطور کلی، جاسوسی کو اسی کے مضمون کے لحاظ سے تقسیم کرنا چاہیے، اگر ایسی معلومات اور خبروں سے متعلق ہو جو اسلامی احکام کی بنیاد یا اسلامی حکومت کو ہلاکے رکھ دے یا اس جاسوسی کے ذریعہ مسلمانوں کی جان خطرے میں پڑجائے، تب تو یقینا اس کے اوپر سزائے موت کا حکم لگے گا، اسی طرح اگر اس جاسوس کی دی گئی معلومات، وسیع پیمانے پر فساد کا باعث ہوجائے اور ”مفسد فی الارض“ کا عنوان یقینی طور پر اس کے اوپر صادق آجائے، تب بھی اس کو سزائے موت دی جائے گی، لیکن اگر چھوٹی چیزوں کے بارے میں جاسوسی کی ہو جس سے مذکورہ مسائل ومشکلات نہ ہوں، جیسے غیر مہم اور بے خطر معلومات، غیروں کے حوالہ دینا، اس صورت میں اس کے اوپر تعزیرات کا قانون جاری ہوگا اور تعزیر (سزا) کی مقدار اس کی جاسوسی کی مقدار کے مطابق ہوگی ۔

دسته‌ها: محارب کی حد
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت