مرد کا نامحرم عورت کو سلام کرنا
کیا مرد کا نا محرم عورت کو سلام کرنا مکروہ ہے ؟
جواب:۔مکروہ نہیں ہے لیکن بعض روایات سے استفادہ ہوتا ہے کہ مرد کا جوان عورت کو سلام کرنا مکروہ ہے .
جواب:۔مکروہ نہیں ہے لیکن بعض روایات سے استفادہ ہوتا ہے کہ مرد کا جوان عورت کو سلام کرنا مکروہ ہے .
دلیل ظنی معتبر کو امارہ کہتے ہیں۔ جیسے عادل گواہ کی گواہی، کبھی کبھی دلیل قطعی کو بھی امارات قطعی کیا جاتا ہے۔
احتیاط یہ ہے کہ صیغہ نکاح دوبارہ اس مہر کے ساتھ جاری کریں جس پر دونوں متفق ہیں۔
مسئلہ نمبر ٤٥٢ میں احتیاط واجب ہے اور باقی مسائل میں احتیاط مستحب ہے .
اگر اس کے منحرف ہونے کا خوف نہ ہو تو اس صور ت میں کوئی ممانعت نہیں ہے لیکن اگر عقیدہ میں منحرف ہونے کا امکان ہو تو جائز نہیں ہے ۔
جواب: گمشدہ مال کی طرح ہے اور اسی دستور کے مطابق جو ہماری توضیح المسائل مسئلہ نمبر ٢١٩٣ کے بعد آیا ہے ، عمل کر نا چاہیے ۔
جواب:۔ غیر مسلم عورتوں کے سامنے، مناسب یہ ہے کہ ان کے سامنے اپنے بدن کو برہنہ نہ کریں اگر چہ شرمگاہ کو چھپاکر باقی بدن کو ظاہر کرنا حرام نہیں ہے .
جواب : اگر ان کے مرنے کا یقین ہو جائے تو اس صورت میں شادی کرنا جائز ہے اور اس کے علاوہ اگر اس حال میں رہنا ان کے لئے عسر و حرج اور شدید مشقت کا باعث ہو ، تو حاکم شرع ان کو طلاق دے سکتا ہے اور اس صورت کے علاوہ حاکم شرع کے حکم کے مطابق چار سال تک ان کے بارے میں چھان بین ہونا چاہئے ، اگر تب بھی ان کی کوئی خبر نہ ملے تو حاکم شرع ان کو طلاق دید ے گا۔
جب اس طرح کا کوئی معاملہ کسی علاقہ میں رائج ہوجائے اور عقلاء کے معاملات کا حصّہ بن جائے تو اس معاملہ کے صحیح ہونے کو ان دلیلوں سے جن کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے، ثابتکیا جاسکتا ہے اور زمانے کے لحاظ سے مالکیت کے محدود ہونے سے کوئی مشکل وجود میں نہیں آتی ۔
جواب :۔ عاقلانہ احتمال سے حاصل ہونے والا تنہاوہی کافی ہے ۔
یہ شادی جائز ہے لیکن آہستہ آہستہ اس کو واجبات پر عمل کرنےکی دعوت دینا چاہئے ۔
جواب: اگر اس پر کوئی علامت یا نشانی نہیں ہے تو اس کو اپنی ملکیت بنا سکتاہے اور اگر اس پر کوئی نشانی ہے اور اس کو اس کے اصل مالک تک پہونچانا ممکن ہے تو اسے چاہئیے کہ اس کے مالک کو دیدے لیکن ان ممالک میں جہاں اسلام کے ساتھ جنگ ہو رہی ہے اس چیز کو اپنی ملکیت بنانے میں ہر حال میں کوئی ممانعت نہیں ہے ۔
جواب: اگر تمہارے باپ داد نے، ان زمینوں کو آباد کیا تھا اور اس سے پہلے وہ زمینیں بنجر اور بے آباد تھیں تب تو میراث کے قانون کے مطابق وارثوں کو ملیں گی، اسی طرح اگر انھوں نے خریدا ہو تب بھی لیکن اگر کوئی سند ان زمینوں کے ماضی کے متعلق، موجود نہیں ہے اور کوئی گواہ بھی موجود نہیں ہے تب وہ زمین تمھارے باپ دادا کی ملکیت تھی اور میراث کے قانون کے مطابق تقسیم کرنا چاہیے۔
اس طرح کا عرق نجس نہیں ہے لیکن کھانے اور اسکے بیچنے میں اشکال ہے ۔اور اس کو آگ کے ذریعہ دو تہائی کرنا ضروری ہے ۔ یہ چیز استحالہ کے حکم میں نہیں ہے ۔
وظیفہ واپس کرنا ضروری نہیں ہے، البتہ اسے کوشش کرنی چاہیے جتنا اس نے بیت المال سے استفادہ کیا اس حد تک خدمت انجام دے۔