شراب پینے کی سزا
کیا شراب پینے والے پر لعنت کرنا جائز ہے؟ اس کی حد (سزا ) کتنی ہے؟
جو اعلانیہ طور پر شراب پیتا ہے، اس پر لعنت کرنا جائز ہے اور اس کی حد (سزا) ۸۰ کوڑے ہیں ۔
جو اعلانیہ طور پر شراب پیتا ہے، اس پر لعنت کرنا جائز ہے اور اس کی حد (سزا) ۸۰ کوڑے ہیں ۔
جواب :۔ مضطربہ عورت کا جو وظیفہ نماز میں (بیا ن ہوا )ہے اسی دستور کے مطابق عمل کرے اور وہ اس طرح سے ہے : مضطربہ یعنی وہ خاتون جو چند مہینوں سے حیض دیکھ رہی ہے لیکن اس کی عادت معین نہیں ہوئی ہے ، اگر دس دن یااس سے کم خون دیکھے ، سب کا سب حیض ہے اور اگر دس دن سے زیادہ خون آئے چنانچہ اگر حیض کی بعض علامتیں پائی جاتی ہوں البتہ تین دن سے کم اور دس دن سے زیادہ نہ آئے توحیض شمار ہو گا ، اور گر سب ایک طرح کا ہو تو اپنے رشتہ داروں کی طرح عمل کرے ( اگر اس کی رشتہ دار خواتین میں سب کی یا اکثر کی عادت یکساں ہو)لیکن اگر ان کی ماہانہ عادت ، مختلف ہو تو احتیاط یہ ہے کہ اپنی عادت ، سات دن قرار دے ۔
جب یہ شرط لگائیں شرط پر عمل کرنا لازم ہے ، اور اگر شرط کے خلاف عمل کرے تو اس صورت میں ، بیوی ان کاموں کا خرچ ( اجرت ) ادا کرے ۔
جواب : اگر اس کے موثق اور معتمد نہ ہونے کو ثابت کر سکتا ہے تو اس کی جرح قبول ہے وگر نہ محض دعوا کرنا قبول نہیں ہے
جواب:۔چنانچہ فرار ہو گیا ہے اور اس کے واپس آنے کی بھی امید نہیں ہے اور زوجہ شدید عسر وحرج اور مشقت میں ہے نیز ایسے شخص کے ساتھ زندگی گذارنا اس کیلئے مقدور ، ممکن نہیں ہے، تو حاکم شرع اس کو طلاق دے سکتا ہے، لیکن اگر صبر کرسکتی ہو اور اس کے واپس آنے کا امکان نیز اس کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا امکان پایا جاتا ہو تو اس کا حکم طلاق نہیں ہے .
اگر قربةً الی الله کی نیت سے ہو، قرعہ اندازی میں شریک ہونے کی غرض سے نہیں تب کوئی اشکال نہیں ہے ۔
جواب:۔جس عورت کا شوہر لاپتہ ہوگیا ہو اس کی چند حالت ہیں :الف)اگر صبر کرے تاکہ اس کی کوئی خبر مل جائے تو کوئی ممانعت نہیں ہے، اس صورت میں اس کا نفقہ شوہر کے مال سے ادا کرنا چاہیےٴ .ب) اگر کوئی نفقہ دینے والا مل جائے، ولی ہو یا غیر ولی ہو، تو صبر کرے مگر یہ کہ شدید عسر و حرج یا مہم ضرر ونقصان ہوجائے، اس صورت میں حاکم شرع اس کو طلاق دے سکتا ہے .ج)ان دو صورتوں کے علاوہ، بات ، حاکم شرع تک جائے گی اور حاکم شرع، چار سال تک، اس کے لاپتہ ہونے کے مقام کے آس پاس کے علاقوں میں، تفتیش کرائے گا، اگر پھر بھی پتہ نہ چلے تو پہلے اس کے ولی کو طلاق دینے کی پیشکش کرے گا، اور اگر اس نے طلاق نہ دی تو خود طلاق دیدے گا، اس کے بعد عدّت وفات رکھے گی،(اگر چہ طلاق رجعی کی عدّت کافی ہونا بھی، قوی ہے، لیکن حتی الامکان احتیاط ترک نہیں ہونا چاہیےٴ) تب شادی کرے گی، اور اگر عدّت کے دوران ، پہلا شوہر آجائے تو وہی بہتر ہے، اور اگر عدّت کے ختم ہونے کے بعد (یہاں تک کہ دوسری شادی کرنے کے بعد بھی) پہلا شوہر آجائے تو بھی طلاق نافذ ہے،، اور فقط دونوں کی رضایت اور دوبارہ نکاح کے ذریعہ واپسی کا امکان ہے
کسی بھی طرح مالک کی مرضی کو ثابت کریں۔
جواب : اگر لہو وفساد کی نشستوں ہی کی طرح سے ہو تو حرام ہے
جواب۔غیر اسلامی بینک اور کافروں سے سود لینا جائز ہے لیکن انہیں سود دیناجائز نہیں ہےمگر ضرورت کی ضرورت کی صورت میں جبان سے قرض لینا باعث عسر و حرج یا اس طرح کے ممالک میں مسلمانوں کی کمزوری اور ذلّت کا سبب ہو جائے۔
اصل قاعدہ یہ ہے کہ معاملہ کے تمام ہونے کے بعد،فروختہ شدہ چیز خریدار کی ملکیت میں آجاتی ہے اور اگر بیچنے والے شخص نے اس چیز کی حفاظت کرنے میں کوتاہی نہیں کی ہے تو ایک امانت دار کی حیثیت سے وہ اس چیز کے تلف ہونے کا ضامن نہیں ہے لہٰذا مالک (خریدار) کا مال تلف ہوگا، لیکن مقدس شارع نے یہاں پر اصل قاعدہ کو توڑدیا اور بیچنے والے کو ضامن شمار کیا ہے ۔
جواب:۔اگر ایک بار ماہواری ہوئی ہے تو اس کو مزید دومہینہ عدّت رکھنا چاہئے اور اگر دومرتبہ حائض ہوئی ہے تو ایک مہینہ اور ، عدّت رکھے .
عام طور پر دونوں ایک ہی معبا میں استعمال ہوتے ہیں، ہاں کبھی کبھی لازم ایک وسیع مفہوم مین استعمال ہوتا ہے اور اس کا اطلاق احکام تکلیفی کے علاوہ پر بھی ہوتا ہے۔