میراث کے حصّہ پر ہبہ کا اثر نہیں ہوتا
کیا حالت حیات میں، ہبہ کردینا، میراث سے محروم ہونے کا باعث ہوگا؟
جواب: جو مال انسان اپنی زندگی میں اپنے وارثوں کو بخشدیتا ہے، وہ مال ترکہ میں سے ان کے محروم ہونے کا باعث نہیں ہوگا ۔
جواب: جو مال انسان اپنی زندگی میں اپنے وارثوں کو بخشدیتا ہے، وہ مال ترکہ میں سے ان کے محروم ہونے کا باعث نہیں ہوگا ۔
جواب: یہ بات پیش نظر رکھتے ہوئے کہ اس طرح کے کام اگر دقّت اور احتیاط سے کئے جائیں تو اچھے کاموں میں شمار کئے جاتے ہیں، لہٰذا ان اوقاف سے کہ جن کا مصرف، عام ہے، استفادہ کیا جاسکتا ہے مگراس شرط کے ساتھ کہ ادارہ اوقاف کے ذمہ دار حضرات، اپنے وظیفہ پر دقت کے ساتھ عمل کریں۔
اس طرح کا عرق نجس نہیں ہے لیکن کھانے اور اسکے بیچنے میں اشکال ہے ۔اور اس کو آگ کے ذریعہ دو تہائی کرنا ضروری ہے ۔ یہ چیز استحالہ کے حکم میں نہیں ہے ۔
جواب: ایسا کرنے میں اشکال ہے ،لیکن ایک مسجد سے دوسری مسجد میں دروازہ کھول سکتے ہیں ۔
درخت کے مالک کی ہے ، لیکن زمین کا مالک یاتو اس کی اجرت لے سکتا ہے ، اور یا یہ کہ صاحب درخت کو اطلاع دے کہ وہ اس کو کاٹ دے۔
جواب :۔ ضرورت کے وقت سایہ میں جانا جائز ہے ، لیکن کفارہ ہے اوراس کا کفارہ ہر احرام کے لئے ایک بھیڑ( بکری) ہے یعنی مکمل عمرہ کے احرام کے لئے ایک بھیڑ اور مکمل حج کے احرام کے لئے بھی ایک بھیڑ کافی ہے ۔
جواب:۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ ختنہ کرانے کے بعد طواف اور اس کی نماز کو دوبارہ پڑھے اور اسی طرح سعی کا بھی اعادہ کرے اس طرح کے مسائل میں شرم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے خفیہ طور پر آگاہ ڈاکٹر کے پاس جاکر ختنہ کراسکتا ہے لیکن اس حالت میں طلاق دینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
جواب:۔کسی کو بھی دوسرے کی توہین کرنے کا حق نہیں ہے یہاں تک شوہر و زوجہ کو بھی نہیں .
جواب: اگر بچہ ابتدائی منزلوں میں ہو اور انسانی شکل میں پوری طرح سے نہ ہوا ہو اور اس کا اس حالت میں باقی رہنا والدین کے لیے شدید عسر و حرج کا باعث ہو تو ان شرائط کے ساتھ اسے سقط کیا جا سکتا ہے، البتہ احتیاط کے طور پر دیت ادا کی جائے گی۔
جواب:۔ اگر خاص مفسدہ (گناہ )کا باعث ہو تو حرام ہے .
جواب:۔شوہر اس کو روک نہیں سکتا مگر یہ کہ کلی طور پر لذّت حاصل کرنا ، ختم ہوجائے، اس صورت میں چونکہ شوہر کے حق سے ٹکراؤ ہوگیا ہے لہذا زوجہ شوہر کی اجازت کے بغیر (مستحب) عمل نہیں کرسکتی .
جواب :۔ دونوں صورتوں میں صحیح ہے انشاء اللہ ۔
آپ ان کے پیسے کو استعمال کرسکتے ہیں بشرطیکہ اس کے خمس کو ادا کریں ۔باپ کا محتاج ہونا کوئی مہم نہیں بات ہے، کوشش کریں کہ اچھے اخلاق اور مودّبانہ طریقے سے اپنے والد کو راہ راست پرلے آئیں ۔کوشش کریں کہ آہستہ آہستہ تواضع، انکساری، بردباری اور خوش زبانی سے ان کے دل میں جگہ بنائیں اور ہرگز مایوس نہ ہوں، دھیان رہے کہ اُن کو خلوت میں تذکر دیں ، نہ کہ سب کے سامنے، اور یہ کام خیراندیشی کی صورت میں ہو نہ کہ تنقید اور دشمنی کی صورت میں ، یہ بھی جان لیں کہ فروع دین پر عمل کرنے میں لاپرواہی کرنا ہمیشہ اصول دین پر عدم ایمان کی دلیل نہیں ہوتا ۔
جواب:۔ وہ لڑکی جس نے اپنی چچی کا دودھ پیا ہے، اپنی چچی کی تمام اولاد کے ساتھ محرم ہوجا ئے گی، لیکن ان دونوں بھائیوں کی دیگر تمام اولادیں آپس میں شادی کرسکتی ہیں .