حج کا احرام مکہ کے نئے محلوں سے (نئی آبادی سے)
کیامکہ کے قدیم محلوں کی طرح نئے محلوں سے ، حج کا احرام باندھنا جائز ہے ؟
جواب :۔ کوئی ممانعت نہیں ہے لیکن احتیاط واجب یہ ہے کہ مسجد تنعیم سے باہر کے علاقہ سے جو حرم سے باہر ہیں احرام نہ باندھے۔
جواب :۔ کوئی ممانعت نہیں ہے لیکن احتیاط واجب یہ ہے کہ مسجد تنعیم سے باہر کے علاقہ سے جو حرم سے باہر ہیں احرام نہ باندھے۔
اس طرح کا عرق نجس نہیں ہے لیکن کھانے اور اسکے بیچنے میں اشکال ہے ۔اور اس کو آگ کے ذریعہ دو تہائی کرنا ضروری ہے ۔ یہ چیز استحالہ کے حکم میں نہیں ہے ۔
جواب: یہ بات پیش نظر رکھتے ہوئے کہ اس طرح کے کام اگر دقّت اور احتیاط سے کئے جائیں تو اچھے کاموں میں شمار کئے جاتے ہیں، لہٰذا ان اوقاف سے کہ جن کا مصرف، عام ہے، استفادہ کیا جاسکتا ہے مگراس شرط کے ساتھ کہ ادارہ اوقاف کے ذمہ دار حضرات، اپنے وظیفہ پر دقت کے ساتھ عمل کریں۔
جواب: اگر بچہ ابتدائی منزلوں میں ہو اور انسانی شکل میں پوری طرح سے نہ ہوا ہو اور اس کا اس حالت میں باقی رہنا والدین کے لیے شدید عسر و حرج کا باعث ہو تو ان شرائط کے ساتھ اسے سقط کیا جا سکتا ہے، البتہ احتیاط کے طور پر دیت ادا کی جائے گی۔
جواب:۔کسی بھی مورد میں دوبارہ استخارہ کرنا جائز نہیں ہے مگر یہ کہ کافی عرصہ گذر جائے یا جس کام کیلئے استخارہ کرایا ہے، اس کے حالات و شرائط بدل جائیں
جواب :۔ ضرورت کے وقت سایہ میں جانا جائز ہے ، لیکن کفارہ ہے اوراس کا کفارہ ہر احرام کے لئے ایک بھیڑ( بکری) ہے یعنی مکمل عمرہ کے احرام کے لئے ایک بھیڑ اور مکمل حج کے احرام کے لئے بھی ایک بھیڑ کافی ہے ۔
جواب: جو مال انسان اپنی زندگی میں اپنے وارثوں کو بخشدیتا ہے، وہ مال ترکہ میں سے ان کے محروم ہونے کا باعث نہیں ہوگا ۔
جواب:۔ وہ لڑکی جس نے اپنی چچی کا دودھ پیا ہے، اپنی چچی کی تمام اولاد کے ساتھ محرم ہوجا ئے گی، لیکن ان دونوں بھائیوں کی دیگر تمام اولادیں آپس میں شادی کرسکتی ہیں .
آپ ان کے پیسے کو استعمال کرسکتے ہیں بشرطیکہ اس کے خمس کو ادا کریں ۔باپ کا محتاج ہونا کوئی مہم نہیں بات ہے، کوشش کریں کہ اچھے اخلاق اور مودّبانہ طریقے سے اپنے والد کو راہ راست پرلے آئیں ۔کوشش کریں کہ آہستہ آہستہ تواضع، انکساری، بردباری اور خوش زبانی سے ان کے دل میں جگہ بنائیں اور ہرگز مایوس نہ ہوں، دھیان رہے کہ اُن کو خلوت میں تذکر دیں ، نہ کہ سب کے سامنے، اور یہ کام خیراندیشی کی صورت میں ہو نہ کہ تنقید اور دشمنی کی صورت میں ، یہ بھی جان لیں کہ فروع دین پر عمل کرنے میں لاپرواہی کرنا ہمیشہ اصول دین پر عدم ایمان کی دلیل نہیں ہوتا ۔
جواب:۔شوہر اس کو روک نہیں سکتا مگر یہ کہ کلی طور پر لذّت حاصل کرنا ، ختم ہوجائے، اس صورت میں چونکہ شوہر کے حق سے ٹکراؤ ہوگیا ہے لہذا زوجہ شوہر کی اجازت کے بغیر (مستحب) عمل نہیں کرسکتی .
جواب:۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ ختنہ کرانے کے بعد طواف اور اس کی نماز کو دوبارہ پڑھے اور اسی طرح سعی کا بھی اعادہ کرے اس طرح کے مسائل میں شرم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے خفیہ طور پر آگاہ ڈاکٹر کے پاس جاکر ختنہ کراسکتا ہے لیکن اس حالت میں طلاق دینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
جواب: جبکہ دفاع، اجنبی شخص کے قتل سے کم ، ممکن نہ تھا، تو اس کا خون ہدر (رائگان) ہے اور اس کی کوئی دیت نہیں ہے۔
جواب:۔ اگر اس زمین کے موقوفہ ہونے پر کوئی سند موجود نہیں ہے نیز امام باڑہ بنانا، نبش قبر کا باعث نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے ۔
جواب :۔ دونوں صورتوں میں صحیح ہے انشاء اللہ ۔