سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

اس شخص کا حج جس کی ختنہ ، ناقص طور پر ہوئی ہیں

جس شخص کی ناقص طور پر ختنہ ہوئی ہیں اور اسی حالت میں حج کرلے ، اس کا وظیفہ کیا ہے ؟

جواب :۔ اگر ناقص طور پر ختنہ ہوئی ہیں تو احتیاط واجب یہ ہے کہ صحیح طرح سے ختنہ کرانے کے بعد طواف اور نماز طواف کو دوبارہ بجا لائے اور احتیاط یہ ہے کہ سعی کو بھی طواف عمرہ اور طواف حج کے بعد دوبارہ اعادہ کرے اور اگر مکہ مکرمہ جانے پر قادر نہیں ہے تو کسی کو نائب بنائے ۔

دسته‌ها: مختلف مسائل

دھوکاد ھڑی اور زور ربردستی سے اقرار لینا

ایک شخص ایک پر جمعیت عمومی جگہ پر ، یا حکومت کے کارکنان کے کام کرنے کی جگہ پر ، بمب گذاری یا دہشت گردی کے عملیات کے جرم میں ملزِم ہے یا اغوا اور فساد فی الارض کے جرم میں ملوث ہے، جب بھی وہ شواہد وقرائن کہ جو قاضی کی فائل میں موجود ہیں، قاضی کے لئے علم آور ہوں، یا ملزم اقرار کرلے اور نتیجةً جرم ثابت ہوجائے، لیکن اس کے باوجود یہ مذکورہ شخص بمب گذاری کے نقشہ کے فاش کرنے ، زمان ومکان کے دقیقاً بتانے اور شرکاء کے نام لینے سے خودداری کرے ، کیا قاضی ،ملزِم سے ان مہم اطلاعات کو حاصل کرنے کے لئے اور دہشتگردی کے عملیات کا سدباب کرنے کے لئے کہ اگر یہ عملیات محقق ہوجائیں تو بہت زیادہ نقصان کا باعث بنیں گے، ان جیسے استدلال ”دفع افسد بہ فاسد“ افسد کو فاسد سے دفع کرنا، ”ترجیح اہم برمہم “ مہم پر اہم کو ترجیح دینا ”الضرورات تبیح المحذورات“ ضرورتیں، ممنوعہ کام کو مباح کردیتی ہیں، ”اوجب بودن حفظ نظام“ نظام کی حفاظت کرنا زیادہ واجب ہے، کے ذریعہ ملزِم کو شکنجہ کرنے کا حکم دے سکتا ہے تاکہ اس قضیہ کی فوریت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کم سے کم وقت میں اقرار کرلے؟ کیا ایسا اقرار حجت ہے؟

جواب: شکنجہ کرنا جائز نہیں ہے۔

دسته‌ها: اقرار کے احکام

رات میں چھت والی گاڑی میں سوار ہونا

کیا رات کے وقت چھت والی گاڑی میں سوار ہونے سے ، حج یا عمرہ میں نقص ، ہوجا تاہے اور کیا اس پر کفارہ ہے ؟

جواب :۔ایسا کرنے سے حج یا عمرہ باطل نہیں ہوتا اور اگر عام راتیں ہوں تو کفارہ بھی نہیں ہے لیکن ٹھنڈی اوربارانی راتوں میں کفارہ ہے ۔

دسته‌ها: احرام کے میقات

شکار کئے ہوئے حیوانات کا گوشت کھانا

جیسا کہ حضور کے علم میں ہے کہ حال حاضر میں شکار کرنا ملک کے بعض علاقوں جیسے شمال کے حصّے دریائے جنوب کے مضافات کے علاوہ روزی حاصل کرنے کے لئے نہیں رہ گیا ہے اور تقریباً اکثر جو شکار ہوتے ہیں ان کو مالدار کرنے متمول افراد تفریح، فنکاری اور خوشگذرانی کے طور پر کرتے ہیں، مذکورہ فرض کے تحت وحشی جانوروں کے شکار کرنے کا حکم شرعی کیا ہے؟

اگر زندگی کی ضروریات کو پورا کرنے یا آمدنی اور کام کی غرض سے قوانین وضوابط کے تحت شکار کیا جائے تو شرعاً جائز ہے لیکن اگر تفریح اور خوشگذرانی کے لئے ہو۔ ہرچند کہ اس کے گوشت کو استعمال کیا جائے ۔ شرعاً حرام ہے، لہٰذا اس طرح کے سفر میں حرام سفر ہونے کی وجہ سے نماز وروزہ قصر نہیں ہوگا ۔

غریب لوگوں کیلئے (مکان وغیرہ کے ) کرایہ میں تخفیف (چھوٹ) دینا

وقف کی آمدنی و استعمال کرنے والے بعض لوگ تو بے بضاعت اور صاحب اولاد غریب لوگ ہیں اور بعض حضرات، شہیدوں کے وارث اور ایثار وقربانی پیش کرنے والے حضرات ہیں، کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ اس سلسلہ میں ادارہ اوقاف واقف کے نظریہ کے علاوہ، موقوفہ کے کرایہ کی رقم میں کچھ تخفیف کا قائل ہوجائے ؟

جواب: فقط دوصورتوں میں جائز ہے:الف) جب کہ مذکورہ کرایہ دار، موقوفہ کے ہی مصرفوں میں سے ہوں (یعنی جن کے لئے وقف کیا ہے وہ کرایہ دار بھی انھی لوگوں میں شامل ہوں)۔ب)جبکہ دوسرے وقف جو اُن کے شامل حال ہوسکتے ہوں، سے آمدنی حاصل کی جائے اور مذکورہ وقف کے مصرفوں میں استعمال کی جائے۔

دسته‌ها: وقف کے احکام

میراث کا حصّہ بخش دینے کے بارے میں شک کرنا

کشمیر کے ایک علاقہ میں مسلمانوں کے یہاں یہ دستور ہے کہ بیٹے اپنے والدین کے ساتھ ایک گھر میں رہتے ہیں اور جب والد کا انتقال ہوجاتا ہے تو ن کی تمام میراث بیٹوں کے اختیار میں آجاتی ہے، لیکن بیٹیاں جو اپنے شوہروں کے گھر میں رہتی ہیں،اپنے بھائیوں سے، باپ کی میراث کا مطالبہ نہیں کرتی ہیں بلکہ اکثر اوقات اپنا حصہ بھائیوں کو بخش دیتی ہیں، بعض بہنیں جب تک زندہ رہتی ہیں اپنا حصہ اپنی خوشی سے بھائیوں کے اختیار میں دیتی ہیں لیکن بھائی بہنوں کے انتقال کے بعد، بہنوں کی اولاد بھائیوں کی اولاد سے یہ کہتے ہوئے اپنی الدہ کے حصہ کا مطالبہ کرتی ہیں کہ ہماری ماں نے اپنے والد کی میراث میں اپنا حصہ آپ کے والد کو نہیں بخشا تھا بلکہ ان کے لئے مباح کردیا تھا، جبکہ بھائیوں کی اولاد کو بھی یہ معلوم نہیں ہے کہ ان کی پھوپھیوں نے ان کے والد کو اپنا حصہ بخشدیا تھا یا ان کے لئے مباح قرار دیا تھا، اس صورت میں بھائیوں کی اولاد کا کیا وظیفہ ہے؟

جواب: اگر اس مال ودولت کا بھائیوں کے لئے، بخش دینا، ثابت نہ ہوسکے تو بہنوں کا حصہ اُن کے وارثوں کوضرور دینا چاہیے ۔

دسته‌ها: مختلف مسایل
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت