سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

ظالم اور دوسروں کے حق پر ڈانکہ ڈالنے والوں سے مقابلہ میں مسلمانوں کا قتل ہو جانا

ہندوستان سے، برطانیہ کا قبضہ ختم ہونے اور اس کے مسلمان نشین صوبہ ”جمووکشمیر“ میں تقسیم ہونے کے بعد مسلمانوں کے مطالبہ اور تقسیم کے قانون کے برخلاف لشکر کشی، زورگوئی اور طاقت کے زور پر، یہ علاقہ، ہندوستان کے قبضہ میں آگیا، مسلمانوں نے اپنے مذہب، کلچر اور ناموس کی حفاظت اور آزادی کی خاطر، قبضہ کرنے والوں کے خلاف قیام کیا ہے اور اس جدوجہد میں بدترین مصائب منجملہ قتل عام، ٹارچر، قید، لوٹ مار وغیره میں گرفتار ہوئے ہیں، کیا اس قیام اور جد وجہد کی خاطر، قتل ہونے والے مسلمان، شہید کہلائیںگے، نیز کیا یہ تحریک، جہاد شمار ہوگی؟

جب تک مسلمانوں کی جان، مال، ناموس کی حفاظت اور بقائے اسلام اور مذہب اہل بیت علیہم السلام کے لئے دفاع اور کوشش کررہے ہیں، ان کا یہ عمل ،جہاد ہے اور ان میں سے جو لوگ اس راہ میں قتل ہوئے ہیں، وہ شہید ہیں، لیکن کوشش کریں کہ مجتہد یا اس کے نمائندے سے، حکم، ضرور حاصل کریں ۔

دسته‌ها: دفاع

الکحلی مشروبات کا کم مقدار میں استعمال کرنا

طبی نقطہ نظر سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ الکحلی مشروبات کم مقدار میں استعمال کرنا نہ صرف بدن کے لئے مضر ہے بلکہ دوسری مشروبات کی طرح مفید ہے، نیز الکحلی مشروبات خدا کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے، ان باتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے کیا اشکال رکھتا ہے کہ اس کا استعمال مثبت اور مفید پہلو کے لئے دوسری نعمات خداوندی کی طرح شرائط ومعین مقدار کے ساتھ کیا جائے؟اگر کوئی شخص تزکیہٴ نفس کے ذریعہ اپنے نفس پر اس درجہ تسلط حاصل کرلے جو محدود مقدار میں، الکحلی مشروبات کے کم استعمال سے نہ تو اس کا عادی بنے اور نہ مستی کی حد تک پہنچے کیا اس صورت میں اس کے لئے کم اور محدود مقدار میں الکحلی مشروبات کا استعمال جائز ہے؟

جواب: اوّلاً کوئی بھی اس کا قائل نہیں ہے کہ الکحلی مشروبات کم اور محدود مقدار میں استعمال کرنا مضر نہیں ہے بلکہ کم مقدار کا ضرر کم ہوتا ہے، ثانیاً: جب بھی ایسی اجازت لوگوں کو دے دی جائے تو یہ کسی بھی صورت کنٹرول میں نہیں رہے گی اور بہت جلدی پورا معاشرہ اس سے آلودہ ہوجائے گا، اسی وجہ سے شریعت نے اس کو بطور کلی ممنوع قرار دیا ہے، ثالثاً: قانون، عمومی پہلو رکھتا ہے اور یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ مختلف افراد کو مختلف بہانوں کے ذریعہ حکم سے جدا کیا جائے ، سعی کریں کہ انشاء الله ایسے شیطانی وسوسوں کا آپ شکار نہ ہوں۔

قضا روزوں کی تعداد میں شک

اس وقت میری عمر تقریبا ً ۲۲ / سال ہے اور قریب چار سال سے اپنے تمام روز ے رکھ رہاہوں لیکن اس سے پہلے کے چند روزے بعض وجوہات کی بناپر نہیں رکھے ہیں اور مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ ان روزوں کی تعدادکیا ہے ، اس سلسلہ میں میرا کیا وظیفہ ہے؟

جواب:۔ جس تعدا میں روزے نہ رکھنے کا یقین ہے اسی تعداد میں روزے کی قضاکرےںاور اگر عمداً روزے نہیں رکھے تھے تو کفارہ بھی واجب ہے ، البتہ اگر روزے کے مسائل سے آگاہ نہیں تھے تو کفارہ واجب نہیں ہے ۔

روزے کا کفارہ ان اشخاص کو دینا جن کا نفقہ واجب ہے

جس خاتون نے اپنے بالغ ہونے کے پہلے سال ، روزے نہیں رکھے ، اس کا کیا وظیفہ ہے اور اگر قضا کرے تو کیسے ؟

جواب:۔ اس صورت میں اس پر کفارہ نہیں ہے ، خواہ جاہل مقصر تھی یاجاہل قاصر ، لیکن اگر عمداً او رجانتے ہوئے روزے نہیں رکھے تو کفارہ ہے ، نیز مسئلہ کی تمام صورتوں میں روزوں کی قضا لازم ہے ۔

قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت