سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

آزمایشگاہ میں رشد شدہ نطفہ کا ضایع کرنا

ڈاکٹر حضرات آزمایشگاہ میں مرد اور عورت کی منی کو مشین میں رکھ کر اسے رشد دیتے ہیں، اس مقدمہ کے ضمن میں درج ذیل سوالوں کے جواب عنایت کریں:الف: اس مشین میں رشد شدہ نطفہ کو پھینکنے کا کیا حکم ہے؟ یا وہ سقط جنین کے حکم میں آ جائے گا اور اس کے طفل کامل (ذی روح) ہونے تک اس کی محافظت ضروری ہے؟ب: اگر اس کا پھینکنا جائز نہ ہو تو کیا اس کے بدلہ سقط جنین کی دیت دینا واجب ہے، واجب ہونے کی صورت میں دیت کس کے ذمہ ہوگی؟ج: جنین (بچہ) کے سقط کرنے میں روح پڑنے یا نہ پڑنے کے سلسلے میں کوئی فرق پایا جاتا ہے؟د: مذکورہ بالا سوال کی روشنی میں کیا اجبنی مرد اور عورت کی منی کو ایک دوسرے کے ساتھ جمع کرنا اور مشین میں رشد دینا جائز ہے؟ھ: اگر منی اجنبی مرد اور عورت کی ہو تو اس صورت میں اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: الف۔ اس کی حفاظت واجب نہیں ہے۔ب۔ گزشتہ جواب سے واضح ہو گیا کہ دیت واجب نہیں ہے۔ج: جب تک زندہ انسان کی صورت میں نہ ہو جائے، اس کی حفاظت پر دلیل موجود نہیں ہے۔د: ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ھ: اشکال سے خالی نہیں ہے۔

بالغ ہونے سے پہلے ، ولی کا شادی کردینا

ایک لڑکی کی نو سال (بالغ) ہونے سے پہلے ایک شخص کے حبالہ عقد میں آجاتی ہے ، حالانکہ لڑکی کو اس بات کی خبر نہیں تھی لیکن اس کے باپ نے نکاح کر دیا تھا یاد رہے کہ ان دونوں ( میاں بیوی ) میں عمر کا بھی بہت زیادہ فرق ہے تو تقریبا ً پچیس سال کا فرق ہے نیز اس مرد کے دوسری بیوی بھی موجود ہے یہاں تک کہ اس کی بیٹی ، اس دوسری بیوی کی ہم عمر ہے جب یہ لڑکی ( دوسری بیوی ) بالغ ہوتی ہے تو اس شادی سے اپنی نامرضی کا اظہار کر دیتی ہے کہ وہ اس شادی پر راضی نہیں ہے اور اس بات پر صرار کرتی ہے کہ یہ شادی اس کی مصلحت اور فائدہ میں نہیں ہے اور یہ کہ میں طلاق لینا چاہتی ہوں ،لیکن مرد طلاق دینے پر راضی نہیں ہوتا ، کیا یہ نکاح صحیح ہے اور اس نکاح کا لحاظ کرنا لازم ہے ، کیا یہ وہ لڑکی کسی دوسرے مرد سے شادی کر سکتی ہے توجہ رہے کہ لڑکی کی عمر اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ اس کو شادی کرنے کی ضرورت ہے ؟

چنانچہ یہ عقد لڑکی کی مصلحت میں نہیں تھا، تو عقد نکاح باطل ہے اور لڑکی طلاق کے بغیر ،شادی کر سکتی ہے لیکن اگر اس لڑکی نے بالغ ہونے کے بعد رضایت دے دی تھی تو اس نکاح کو فسخ نہیں کرسکتی ۔

ناقابل استعمال مساجد کا حکم

کیا کسی کو کوئی چیز ہبہ کرنا یا بخش دینا، اس طرح کے کام مسجد میں جائز ہیں ؟اگر جائز ہوں توکیا حاکم شرع سے اجازت لینا ضروری ہے ؟

جواب :اس طرح کے کام مسجد میں انجام دینا ،حرام نہیں ہے اور حاکم شرع سے اجازت لینے کی ضرورت بھی نہیں ہے ،البتہ دنیاوی کاموں کو مسجد میں انجام دینا مکروہ ہے اور اگر یہ کام نماز پڑھنے والوں کے لئے اذیت کا باعث ہو تو حرام ہے ۔

دسته‌ها: مسجد کے احکام
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت