دوسرے کی جان اور ناموس کی طرف سے دفاع کرنا
نیچے دیے گئے سوالات کے جواب عنایت فرمائیں:۱۔ اگر کسی شخص پر کوئی حملہ کرے اور وہ شخص شرعی دفاع کی طاقت نہ رکھتا ہو اور ہم اس کی مدد کو جائیں لیکن اس کی جان خطرے میں ہونے کے باوجود ہماری مدد کو قبول نہ کرے بلکہ انکار کردے اس صورت میں ہمارا وظیفہ کیا ہے؟۲۔ مفروضہ مسئلہ میں ، اگر ہم اس کی مدد کی خاطر حملہ آور سے بھڑجائیں اور وہ قتل ہوجائے چنانچہ حملہ آور کے خطرے دورکرنا اس کے قتل پر متوقف ہو، کیا محمکہ عدالت میں شرعی دفاع کو دلیل کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں؟۳۔ مذکورہ فرض میں ، یا دوسروں کی عزت وناموس کو خطرے میں دیکھ کر ، اگر شرعی دفاع کی راہ سے کوئی اقدام نہ کرسکیں تواس صورت میں امربالمعروف ونہی عن المنکر کے باب سے کس حد تک مدد اور اقدام کا امکان پاجاتا ہے، اگر حملہ آور کو قتل کرنا پڑجائے، اس فرض کی بنیاد پر کہ دفاع اس کے قتل پر متوقف ہوتو کیا حکم ہے؟
جواب:مسئلہ کے فرض میں اس وقت جبکہ کسی کی جان خطرے میں ہو، مشروع راستے کو اختیار کرنا کوئی مانع نہیں رکھتا۔
پھیپڑوں پرا سپرے کا استعمال
ایک شخص شدیدطورپر سانس ( دمہ) کے مرض میں مبتلاہے ، علاج کے لئے ایک ایسے طبی آلہ سے استفادہ کرتا ہے ، جس کی سوئی کو دبانے سے ،سیال دوا، گیس پوڑدی کی شکل میں منھ کے راستہ ، پھیبھڑوںمیں یہ عمل اس کی تسکین کا باعث ہوتا ہے ( یہ عمل دن کے اوقات میں چند مرتبہ انجام دیا جاتا ہے ) کیا مذکورہ طبی آلہ سے استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ یہ شخص روزہ بھی رکھ سکتا ہے ؟ ملحوظ رہے کہ اس کے بغیر اس کا روزہ رکھنا ، نہ قابل تحمل اورمقشقت کا باعث ہے ؟
جواب:۔ اگر رقیق گیس کی شکل میں ، جسم میں داخل ہو جائے تو کوئی حرج نہیں ہے اس کا روزہ صحیح ہے ، ہم نے اس کے عام معمولی نمونے کو دیکھے ہےں لہٰذا کوئی اشکال نہیں ہے۔
ترکہ کے تیسرے حصّہ کا مستحق کیلئے مصرف
کیا حضرتعالی اجازت دیں گے کہ ہم اپنے والد مرحوم کی میراث میں سے، تیسرے حصّہ کو اپنے ایک عزیز (جو مقروض ہے اور اگر قرض ادا نہ کیا جائے تو اس کو مشکلات کا سامنا ہوگا) کو دیدیں؟
جواب: اگر انھوں نے ایک تہائی مال کی وصیت کی ہو اور وصیت کا کوئی مصرف معیّن نہ کیا ہو مذکورہ مصرف کے خلاف ہو تو کوئی ممانعت نہیں ہے ۔
انسان کے بدن کے سلولی ژن کا تغییر کرنا
دنیائے طب میں یہ بات متداول ہے کہ نہایت باریک موجودات جیسے انسانی و غیر انسانی سلول میں موجود خلیہ اور ژین کے اوپر آزمایشات کی جاتی ہیں جس سے انسان و غیر انسان سب کے جسم کی بناوٹ اور ساخت میں تغیر و تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے، اس تمہید کے ضمن میں درج ذیل سوالوں کے جواب عنایت کریں:الف۔ کیا ایسا کرنا (ان موجودات اوپر آزمایش کرنا) جائز ہے؟ب۔ اگر یہ معالجہ کی غرض سے نہ ہو مگر طبی کشف و ارتقاء کے لیے ہو تو کیا جائز ہے؟ج۔ اگر یہ عمل نطفہ یا حمل پر انجام دیا جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب: الف۔ اگر یہ تغیرات و تبدیلیاں مثبت ہوں تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ب۔ اگر مثبت ہوں تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ج۔ گذشتہ مسئلہ کی طرح ہے ۔
خنثٰی کی شادی
کیا خنثیٰ مشکلہ اور خنثٰی غیر مشکلہ کی شادی جائز ہے ؟
جواب:۔حنثٰی مشکلہ کی شادی جائز نہیں ہے اور خنثٰی غیر مشکلہ اگر اس کی وضعیت روشن اور واضح ہو تو جائز ہے .
قتل کے خوف سے ناجائز بچے کا ساقط کرانا
ایک لڑکی زنا سے حاملہ ہوئی ہے ۔ گھر والوں کے مطلع ہوجانے کی صورت میں لڑکی کے قتل کا خطرہ ہے ۔ کیا وہ سقط جنین کرسکتی ہے ؟ اس کی دیت کیا ہے ؟
جواب: جبکہ واقعاً اس کی جان کو خطرہ ہو اور بچہ بھی چار مہینے سے کم کا ہو تو سقط جنین جائز ہے اور اس کی دیت بیت المال کو ادا کرے گی ۔
نشہ آور چیزوں کی خرید و فروخت (ہیروئن چرس وغیرہ)
کیا ہمارا یہ کہنا صحیح ہے کہ ہیروئن(نشہ آور چیزوں)کی خریدو فروخت شراب کی خرید و فروخت کی طرح ہے یعنی خریدار نشہ آور مادے کا (ہیروئن) کا مالک نہیں بنے گا اور بیچنے والا اس کی قیمت اور رقم کا مالک نہیں ہوگا ؟
جواب ۔جی ہاں صحیح ہے اور اس (نشہ آور مادے)کی خریدو فروخت کا معاملہ باطل ہے
سنگ مر مر اور سیمینٹ پر سجدہ کرنا
کیا سیمنٹ، موزائیک( مارول ) اور سنگ مرمر پر، سجدہ کرناجائز ہے ؟
جواب: ۔ کوئی حرج نہیں ہے ۔
واجب غسلوں سے نماز پڑھنا
غسل جنابت کے بعد کیوں بغیر وضو کئے نماز پڑھی جا سکتی ہے؟لیکن دوسرے غسلوں کے بعد بغیر وضو کئے نماز نہیں پڑھی جا سکتی اور وضو کرنا ضروری ہے۔
جواب:تمام واجب غسل اور وہ غسل جو بطور یقینی مستحب ہیں مثال کے طور پر ”غسل جمعہ کے بعد“ بغیر وضو کئے نماز پڑھ سکتا ہے لیکن مستحب غسلوں کے بعد جورجاء مطلوبیت کی نیت سے انجام دئیے جاتے ہیں وضو کے جانشین نہیں بنتے۔
موٴلف کی اجازت کے بغیر کتاب کو سافٹ ویئر میں تبدیل کرنا
کیا اُس کتاب کو جو بازار سے خریدی گئی ہے بغیر مولِّف کی اجازت کے سافٹ ویئر کی صورت میں کمپوٹر میں ڈالی جاسکتی ہے؟ اگر اس پروگرام کے عوض صارفین سے کوئی پیسہ نہ لیا جائے تو کیا حکم ہے؟
اس کتاب کے مولِّف سے اگر وہ قید حیات میں ہے اور اگر فوت ہوگیا ہے تو اس کے وارثین سے اجازت لینا چاہیے، یہ اس صورت میں ہے جب سافٹ ویئر کو نشر کے لئے بنایا جائے؛ نہ کہ ذاتی استعمال کی خاطر۔
فرقہ ارامنہ(عیسائی)کا مسجد میں آنا اور مرنے والوں کی رسومات ادا کرنا
ایک ایسی زمین پر جو مقامی مسلمان اور عیسائیوں کی مشترک زمین ہے خود انھیں کی اجازت سے مسجد تعمیر کی گئی ہے اور اہل کتاب (عیسائی) اپنے مردوں کے ایصال ثواب کی رسومات مسلمانو ں کی مسجد میں انجام دیتے ہیں مسلمان مقرر اس جلسہ میں تقریر کرتا ہے خود عیسائی بھی جلسہ میں حاضر ہوتے ہیں اسی طرح مسجد میں جب مسلمانوں کی مجالس منعقد ہو تی ہیں تب بھی عیسائی شریک ہو تے ہیں کیا ان کا مسجد میں آنا مسجد کی بے حرمتی کا سبب نہیں ہے ؟
جواب : اگر انکا مسجد میں آنا اسلام سے زیادہ ر غبت و محبت کا سبب بنے تو کوئی حرج نہیں ہے ۔
نماز میں صحیح قرائت سے مقصود کیا ہے
یہ جو کہا جاتا ہے کہ نماز میں ذکر اور قرائت کا صحیح طور پر اداکرنا ضروری ہے ، اس سے کیا مراد ہے ؟
جواب: ۔ اس قدر صحیح تلفظ کرنا کہ عرب حضرات ، اس کو صحیح عربی سمجھیں ،ضروری ہے لیکن علماء تجوید کی سی ، دقتوں کی مراعات کرنا ضروری نہیں ہے ۔
بہن کے ساتھ زنا کا دعوا کرنے والے کا قتل
علی کے ایک بائیس(۲۲) سالہ بہن ہے حسن کئی مرتبہ اس کا رشتہ مانگنے گیا لیکن ہر بار لڑکی کے گھر والوں نے مخالفت کا اظہار کیا، یہاں تک کہ چند مہینے پہلے دوبارہ لڑکی کے گھر رشتہ مانگنے گیا، لیکن پھر بھی انھوں نے رشتہ دینے سے انکار کردیا، اس کے بعد حسن نے یہ دعوا کیا کہ اس نے جبراً علی کی بہن پر تجاوز کیا ہے! علی یہ سن کر غصہ میں آگیا اور غیرت میں آکر گرم اسلحہ (بندوق وغیرہ) سے حسن کو قتل کردیا، یہ پورا قصہ عدالت کی مختلف تاریخوں اور انتظامیہ کے دفتر میں قاتل کی زبان سے بیان ہوا ہے، اس کی بہن نے بھی تھوڑے اختلاف کے ساتھ اسواقع ہ کی تائید کرتے ہوئے حسن کے بیان پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے، اس مسئلہ کا حکم کیا ہے؟
جواب: اگر یہ قتل، عمد کا پہلو رکھتا ہو تو اس صورت میںاس کا حکم، قصاص ہے اور اگر بے اختیاری صورت تھی اور اپنی معمولی حالت سے خارج ہوگیا تھا یا خیال کررہا تھا کہ شرعاً متجاوز کا قتل اس کے لئے جائز ہے، تو قصاص نہیں ہے، لیکن دیت ثابت ہے اور اگر صورتحال مشکوک ہو تب بھی دیت ہے قصاص نہیں ہوگا۔

