انجکشن لگانے والے کا بچّہ ساقط کرانے کی دوا سے آگاہ نہ ہونا
اگر انجکشن لگانے والا جنین کے ساقط ہوجانے والی دوا کے اثر سے بے خبر ہو تو دیت کس کی گردن پر ہوگی ؟
جواب: جو شخص اس کو حکم دے رہا ہے اس کی گردن پر ہے ۔
جواب: جو شخص اس کو حکم دے رہا ہے اس کی گردن پر ہے ۔
اگر عقلاء کے عرف کے مطابق ایسا کرنے میں اس قاری کا حق بنتا ہے تو جو اسے ریکارڈ کرنا چاہتا ہے اسے اس سے اجازت لینا ضروری ہے۔
اس طرح کے ذرّات یہاں تک کہ اگر ان کے باقی رہنے کا علم بھی ہو غصبکے احکام میں نہیں ہیں بلکہتلف کے حکم میں ہیں ۔
جواب: دینی مدارس اور ان باتقویٰ اشخاص پر، خرچ کریں، جو ان مدارس میں تعلیم دینے، تمام خلائق کو تبلیغ اور راہنمائی کرنے نیز امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے فریضوں میں مصروف ہیں، اس لئے کہ حدیث میں وارد ہوا ہے: ''وما اعمال البر کلّہا والجہاد فی سبیل اﷲ، عند الامر بالمعروف والنہی عن المنکر، الّا کنفثہ فی بحر لجّی؛تمام نیک اعمال یہاں تک کہ راہ خدا میں جہاد کرنا، امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے مقابلہ میں ایسا ہے، جیسے دریا کے مقالہ میں منھ کا پانی
جواب:اس کو چاہئے کہ میّت کی تقلید پر باقی رہنے کے مسئلے میں ، زندہ مجتہد کی تقلید کرے لہٰذا ایسی صورت میں اگر اسکے زندہ مرجع کا فتوا میت کی بقا کے جواز پر ہو تو اسکے گذشتہ اعمال صحیح ہیں۔
اس سوال کے دو جواب ہیں:۱۔ ان سے مراد لوگوں کی تشویق اور تعلیم ہو؛ یعنی اگر لوگ گناہوں کے مرتکب ہوں اور رحمت الٰہی قطع ہوجائے تو راہ چارہ کیا ہے ۔۲۔ ترک اولیٰ کی طرف اشارہ ہو، البتہ ترک اولیٰ اس معنی میں نہیں ہے کہ کار حرام یا مکروہ انجام ہوا ہو، بلکہ ترک اولیٰ ممکن ہے مستحب ہو، کہ جو اپنے بڑے مسحتب کی نسبت ترک اولیٰ کا عنوان پیدا کرلے، اس مسئلہ کی شرح کو ہم نے ”پیام قرآن“ کی ساتویں جلد کے صفحہ ۱۰۳ پر تحریر کیا ہے ۔
واط کے سلسلے میں، محصن اور غیر محصن میں کوئی فرق نہیں ہے ۔
جواب:۔ احتیاط یہ ہے کہ ” ماَلِکِ یوم الدّین “ کہے۔
جواب:۔ موجودہ حالات میں ان کی شرکت بہتر اور بعض اوقات لازم ہے ۔
جواب:۔ اگر قابل اطمنان ہے تو اس کی رائے قابل قبول ہے ۔
جواب: چنانچہ اگر یہ کام عمدی (جان بوجھ کر) نہیں تھا تو اجارہ کی سند تیار کی جائے اور اس کی درآمد مسجد کی تعمیرات میں صرف کی جائے۔
جواب : مجلس یا فاتحہ خوانی کے سلسلے میں دی گئی رقم کو ،متولی یا امام جماعت (جوبھی اس کام پر مامور ہو )کی زیر نگرانی ،مسجد کے فائدہ کے لئے خرچ کیا جائے خادم ان کی زیر نگرانی ،جس قدر عام طور پر معمول ہے خرچ کر سکتا ہے ،لیکن توجہ رہے کہ مسجد کو استعمال (مجلس وغیرہ کے لئے )کرنے کے عوض کوئی رقم نہیں لی جاسکتی ِالبتہ اگر کوئی اپنی مرضی سے دیدے یا جو انکے کام انجام دئے گئے ہیں ،اس کے عوض کوئی رقم دیدیں تو لی جاسکتی ہے
جواب: فقاہت میں مساوی (برابر) دو مجتہد کے طریقہ احتیاط کو حاصل کرنے سے اس کی پیروی کرنا منظور ہو تو کوئی مانع نہیں ہے۔