سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

سفر کی شرعی مسافت میں شک

اگر کسی شخص کے گھر ( سکونت کامقام)اور جائداد ( مثلاً زمین ) کے درمیان ، مشخص فاصلہ نہیں ہے ، اور سنگ میل بھی نہیں لگے ہیں کہ جو مشخص ہو جائے لیکن عام طور پر دو گھنٹے کا راستہ ہے ،اس صورت میں ، نماز کے سلسلہ میں اس کا اور اس کے بچوں کا کیا وظیفہ ہے ؟

جواب:۔ اگر تحقیق کرنا ممکن ہو تو تحقیق کرے اور اگر تحقیق کرنے کی کوئی راہ نہیں ہے ، اور درمیانی فاصلہ بھی مشکوک ہے ( یعنی پتہ نہیں کہ شرعی مسافت کے برابر ہے یا کم تو اس صورت میں نماز کو کامل بجا لائے۔

کسی شخص کا دوسرے کے کنویں میں داخل ہوکر مرجانا

ایک شخص اپنی زمین میں کنواں کھودتا ہے، ۱۵ میٹر کی گہرائی میں ایک پتھر پاتا ہے اس پتھر کو بارود کے ذریعہ توڑتا ہے، دھماکہ کے بعد ایک گذرنے والا کنویں کے پاس پہنچتا ہے اور اس پتھر کی وضیعت کو جاننے کے لئے کنویں میں داخل ہوجاتا ہے، بارود کی گیس پھیلنے کی وجہ سے فوت ہوجاتا ہے اور یہ بھی کہ کنویں کے مالک نے متوفّیٰ کو کنویں میں داخل ہونے سے منع بھی نہیں کیا تھا اور شہود کی شہادت کی بنیاد پر جس وقت سے متوفّیٰ کنویں میں داخل ہوا مزدور جتنا بھی اصرار کرتے تھے کہ بستی والوں کو مطلع کردیاجائے کنویں کا مالک مانع ہوتا تھا، ڈیڑھ گھنٹہ گذرنے کے بعد بستی والے باخبر ہوتے ہیں اور متوفّیٰ کو کنویں سے نکال لیتے ہیں، کیا کنویں کا مالک جس نے متوفی کو گیس کے پھیلنے کے خطرہ سے آگاہ نہیں کیا تھا اور بستی والوں کو بھی خبر نہیں کیا تھا کہ فلاں شخص کنویں میں گرگیا ہے، مقصر اور دیت کا ضامن ہے؟

جواب:اس صورت میں جب کہ گذرنے والا اپنی مرضی سے کنویں میں داخل ہوا تھا ، کوئی بھی اس کی دیت کا ذمہ دار نہیں اور اگر کنویں کا مالک اس کی نجات کی کوشش کرسکتا تھا لیکن کوتاہی کی ہے تو تعذیر کا مستحق ہے؛ لیکن اس کے اوپر دیت نہیں ہے اور اگر کنویں کے مالک نے اسے بلایا تھا کہ کنویں میں داخل ہوجائے اور وہ خطرات سے بے خبر اور کنویں کا مالک باخبر تھا اور اس کو مطّلع نہیں کیا تھا تو مالک ذمہ دار ہے۔

دسته‌ها: ضمانت کے اسباب

دو شخصوں کا مقتول کے سر پر دو وار کرنا

پہلا شخص پتھر سے مقتول کے سر پر وار کرتا ہے اور اس کو زمین پر گرادیتا ہے مضروب جاں کنی کی حالت میں تھا کہ وہ شخص دوبارہ پتھر اٹھاتا ہے تاکہ اس کو مارے لیکن دوسرا شخص پتھر کو پہلے شخص سے چھین لیتا ہے اور دونوں ہاتھ مضروب کے سر پر دے مارتا ہے ، مذکورہ شخص سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے مرجاتا ہے اولیاء دم کے وکیل نے دوسرے وار کے مورد میں بحث کرتے وقت کہا : ”دوسرے وار نے متوفیٰ کی آخری رمق حیات کو سلب کیا ہے“ اگر بالفرض دونوں وار سر کے ایک ہی نقطہ وارد ہوئے ہوں تو آپ فرمائیں :۱۔ کیا یہ قتل عمد ہے یا شبہ عمد ہے اور قاتل کون ہے؟۲۔ تعذیرات اسلامی کے قانون کی دفعہ ۲۱۷یہ ہے : ”جب بھی پہلا شخص کوئی جراحت وارد کرکے مجروح کو مردے کے حکم میں پہنچا دے اور فقط حیا ت کی آخری رمق اس میں باقی رہ جائے ، اس حالت میں دوسرا شخص کوئی ایسا کام انجام دے کہ اس کی زندگی کا خاتمہ ہوجائے ، پہلے شخص سے قصاص ہوگا اور دوسراشخص مردے پر جنایت کرنے کی وجہ سے دیت ادا کرے گا “ کیا یہ قانون ہمارے اس مسئلہ میں صادق آتا ہے؟

جواب : یہ دونوں وار چاہے سر کے ایک نقطہ پر وارد ہوئے ہوں یا دونقطوں پر، قتل عمد ہے اور دونوں مشترکا ًقاتل شمار ہوں گے۔جواب2 : جو آپ نے اوپر ذکر کیا ہے قانون کے اس مادے کو شامل نہیں ہے مگر یہ کہ پہلے شخص نے اس کا کام تمام کردیا ہو۔

غلط فکروں کا پھیلانا

کچھ اشخاص ایسے ہیں جن کے افکار واندیشے اکثر فقہائے شیعہ کے نظریات اور اسلامی جمہوریہ پر حاکم فقہ کے مخالف ہیں (جیسے ولایت فقیہ کا نظریہ) کیا ہم اُن نظریات وافکار کو معاشرںے میں منتشر کرسکتے ہیں تاکہ لوگ مختلف اقوال کو سن کر ان میں سے بہترین کا انتخاب کریں؟ جواب کے منفی ہونے کی صورت میں، آیہٴ شریفہ (فَبَشِّر عِبَادِ الَّذِینَ یَستَمِعُون الْقَول فَیَتَّبِعُونَ اٴحْسَنَہ) کی کس طرح تفسیر کریں گے؟

یہ کام اگر بدآموزی کا سبب نہ بنے تو بہت اچھا کام ہے اور عمدتاً یہ مشکل مخالفین کے نظریات کو مناسب طریقے سے بیان کرنے سے حل ہوجاتی ہے، اس طرح کہ ان کے نظریات کو مضر اور مخرّب طریقے سے اور جھوٹ اور تہمت کے ہمراہ بیان نہ کئے جائیں، البتہ توجّہ رکھنا چاہیے کہ مسائل مختلف ہیں؛ کچھ مسائل کو عوام الناس میں بیان کرسکتے ہیں اور کچھ مسائل ایسے ہوتے کہ جن کو فقط حوزہٴ علمیہ، یونیورسٹی اور علمی محافل کی حدود میں رہنا چاہیے؛ کیونکہ اُن مسائل میں تخصصی آگاہی کی ضرورت ہے، یقینا ان دونوں مسائل کا ایک دوسرے سے مشتبہ ہونا معاشرے میں بہت مشکلات کا باعث ہوگا۔

گناہ سے توبہ وبخشش کا سبب ہے

میں ایک بہت بڑا گناہ کار شخص ہوں اور بہت سے وحشتناک گناہوں کا مرتکب ہوا ہوں، میں نے اپنے گذشتہ اعمال سے توبہ کرلی ہے اور پہلی فرصت میں نادم اور شرمسار ہوں، کیا خدا مجھے بخش دے گا؟ کون سے وہ کام ہیں جن کا اجر زیادہ ہے اور ان کو انجام دوں تاکہ سکون قلب حاصل ہوجائے؟

سب سے بڑا عمل عفو وبخشش الٰہی پر اُمیدوار رہنا ہے اور ان کاموں سے پرہیز ہے جن کو خداوندعالم نے قرآن مجید میں اور پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم اور آئمہ طاہرین علیہم السلام نے اپنے ارشادات میں بیان فرمائے ہیں اور علماء اور مجتہدین نے اپنی کتابوں میں لکھے ہیں، کوشش کریں کہ آئندہ میں اچھے کاموں خصوصاً لوگوں کی زبان یا مال کے ذریعہ خدمت کرنے سے گذشتہ اعمال کی تلافی کریں ۔

دسته‌ها: توبہ

ایکسیڈینٹ کے وقت ڈرائیور کا پتہ نہ چلنا

ایک شخص ایک موٹر سائکل سے ایکسیڈینٹ کی وجہ سے زخمی ہوگیااس نے ایک شخص ، مثلا ًزید کے ڈرایئور ہونے کے حوالے سے عدالت میں شکایت کی، لیکن زید کا دعویٰ ہے کہ وہ ڈرایئور نہیں تھابلکہ اس کا دوست مثلاً عمرو (کہ جو موٹر سائکل کا مالک تھا اور موٹر سائکل بھی اس کے اختیار میں تھی)ڈرائیور تھا، دوسر ی طرف سے عمرو کہتا ہے :”صحیح ہے کہ موٹر سائکل اس کے اختیار میں تھی لیکن جیسے ہی میں موٹر سائکل سے اترا زید جلدی سے سوار ہوا اور تیزی سے ڈرائیونگ کرتے ہوئے، مذکورہ شخص سے ٹکرا گیا“ عمرو نے اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لئے چند اشخاص کو بعنوان شاہد پیش کیا اور وہ شہادت دیتے ہیں کہ ایکسیڈینٹ سے پہلے ہم نے زید کو ڈرایئونگ کرتے ہوئے دیکھا ہے تو حضور فرمائیں :۱۔ کیا زید کے لئے یہ مورد لوث کے موراد میں شمار ہوگا، نتیجةً مجروح شخص کی قسم کے ذریعہ مذکورہ شخص کو دیت ادا کرنا ہوگی ؟ یا لوث کے موارد میں شمار نہیں ہوگا؟۲۔ مجروح شخص کے صغیر ہونے کی صورت میں، کیا صغیر قسم کھلانے یا قسم کھانے کی درخواست کا حق رکھتا ہے؟۳۔ جواب کے کے منفی ہونے کی صورت میں ، کیا اس کا قہری ولی اور قیم ایسا کوئی حق رکھتا ہے؟ ۴۔ کیا لازم ہے کہ زید کے دعوے کے مقابل قسم کھائے؟

جواب :اگر معتبر شہود شہادت دیں کہ حادثہ کے وقوع کے وقت زید ڈرائیونگ کررہا تھا، ہر چند کہ انہوں نے ایکسیڈینٹ ہوتے نہ دیکھا ہو تو لوث کے موارد میں سے ہے اور صغیر قسم کا مطالبہ نہیں کرسکتا، بلکہ اس کا ولی یہ کام کرسکتا ہے اور قسم فقط اس کا وظیفہ ہے جس کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا ہو۔

دسته‌ها: لوث اور قسامه
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت