شب عید فطر بے ہوش رہنے والے شخص کا فطرہ
اگر کو ئی شخص عید الفطر کی شب ، غروب کے وقت بیہوش ہوجائے ، کیا اس سے زکات فطرہ ،ساقط ہے ؟
جواب:۔ بیہوش ہونا زکاة فطرہ کے ساقط ہونے کا باعث نہیں ہوتا۔
جواب:۔ بیہوش ہونا زکاة فطرہ کے ساقط ہونے کا باعث نہیں ہوتا۔
جواب:۔ اس مورد میں جو آپ نے تحریر کیا ہے اپنی آواز کو آہستہ کریں اور یا ترنم میں نہ پڑھیں.
زوجہ کو اس سے جدا ہوجانا چاہیے، اس پر شوہر حرام ہے اور طلاق کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔
جہاں پر ضرورت ہو اور اس کے بغیر ضرورت برطرف بھی نہ ہوتی ہو تو ایسی جگہوں میں گناہ کو آشکار کیا جاسکتا ہے ۔
جواب: الف سے د تک:اس صورت میں جب کہ شراب کا خریدار ، الکحل کی مقدار کی زیادتی کا علم رکھتا تھا اور اس کے استعمال کے نتائج سے بھی آگاہ تھا، کوئی بھی اس کے قتل کا ذمہ دار نہیں ہے اوراگر آگاہ نہیں تھا لیکن بیچنے والا ان مسائل سے آگاہ تھا اور جانتا تھا کہ ایسا ہونا غالبا قتل یا نقص اعضاء کا سبب ہوسکتا ہے، جنایت عمدی کا مصداق ہے،اور اگر باخبر نہیں تھا ، وہ ذمہ دار نہیں ہے،لیکن اگر شراب کا بنانے والا باخبر تھا، یا اس نے سہل اںگاری کی ہے، وہ ہی ذمہ دار ہے اور اگر کوئی بھی آگاہ نہیں تھا اور سہل اںگاری بھی نہیں کی ہے اور اچانک یہ مسئلہ پیش آگیا ہے، کوئی ایک بھی زمہ دار نہیں ہے، اس مسئلہ کے حکم کا جاننا یا نہ جاننا کوئی اثر نہیں رکھتاہے، لیکن شراب پینے کی حد اور اس کی سزا میں موثر ہے اور یقینا یہ معاملات باطل اور حرام ہیں۔
جواب : ایسے شخص پر نماز نہیں ہے ، جب تک کہ اس کی لاش نہ ملے ، لیکن علماء کی تحریروں میں ، نماز غرقیٰ کے نام سے ایک نماز کا تذکرہ ہو اہے اور یہ ان لوگوں کی یومیہ نماز ہے ، جو غرق ہو رہے ہیں ،اور تکبیر اور کچھ اشاروں کے سوا کچھ نہیں کرسکتے ہیں۔
بعض مواقع پر، دوسروں کو گالیاں دینے کی تعزیری سزا ہوتی ہے اور بعض صورتوں میں اس کی سزا حد قذف (۸۰کوڑے) ہوتی ہے جو حاکم شرع کے ذریعہ دی جاتی ہے ۔
ب: اس کی حد ایک سال ہے۔ج: اگر کشادہ دست ہو تو خود اس کے ذمہ ہے اور اگر تنگدست ہو تو بےت المال کے ذمہ ہے۔
جواب:نہ حد رکھتی اور نہ تعذیر ، مگر یہ کہ یہاں پر عناوین ثانویہ آجائیں ۔
جواب: اگر مقصود خنثیٰ ہے تو لازم ہے کہ ا س کے محرم غسل دیںاور اگر محرم نہ ہوں تو عورت یا مرد دونوں اس کو غسل دے سکتے ہیں ۔ اور نماز میں احتیاط کے مطابق عمل کریں ۔
ہر طرح کا وہ عمل جو حیوانات کی نسل کے خاتمہ کا سبب ہو، اور اس سے معاشرے کو ضرریا نقصان پہنچے، جائز نہیں ہے۔
اگر پیسہ کا مالک کسی رقم کو صدقہ یا خمس کے عنوان سے الگ کردے، اس میں تصرف کرسکتا ہے؛ لیکن اسے کسی کی امانت میں تصرف کا حق نہیں ہے ۔
اپنی تشخیص پر عمل کرسکتا ہے ۔
جواب: الف۔ اگر ایسا ہونا قطعی اور یقینی ہو تو نہ صرف یہ کہ ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ ایسا کرنا ہی مطابق احتیاط ہے ۔ب: دونوں صورتوں میں کوئی فرق نہیں پایا جاتا ہے ۔
جواب: الف۔ اگر ایسا ہونا قطعی اور یقینی ہو تو نہ صرف یہ کہ ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ ایسا کرنا ہی مطابق احتیاط ہے۔ب: دونوں صورتوں میں کوئی فرق نہیں پایا جاتا ہے۔