تعلیمی نماز
کیاواجب نمازوں کو تعلیم دینے کی صورت میں پڑھا جاسکتا ہے ؟
جواب:۔ جب بھی قصد قربت کے ساتھ پڑھی جائے کوئی حرج نہیں ہے ۔
جواب:۔ جب بھی قصد قربت کے ساتھ پڑھی جائے کوئی حرج نہیں ہے ۔
جلانا جایز نہیں ہے، اسے کسی دور پاک جگہ پر دفن کیا جا سکتا ہے یا کسی دریا کے حوالہ کر سکتا ہے البتہ وہ دریا کسی نامناسب جگہ پر نہ گرتا ہو، اور اگر کسی نے جلایا ہے تو اسے اس بات کی تاکید کریں کہ وہ آءندہ ایسا نہ کرے اور اپنے اس کام سے توبہ کرے۔
جواب:نہ حد رکھتی اور نہ تعذیر ، مگر یہ کہ یہاں پر عناوین ثانویہ آجائیں ۔
زوجہ کو اس سے جدا ہوجانا چاہیے، اس پر شوہر حرام ہے اور طلاق کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔
جہاں پر ضرورت ہو اور اس کے بغیر ضرورت برطرف بھی نہ ہوتی ہو تو ایسی جگہوں میں گناہ کو آشکار کیا جاسکتا ہے ۔
بعض مواقع پر، دوسروں کو گالیاں دینے کی تعزیری سزا ہوتی ہے اور بعض صورتوں میں اس کی سزا حد قذف (۸۰کوڑے) ہوتی ہے جو حاکم شرع کے ذریعہ دی جاتی ہے ۔
جواب: الف سے د تک:اس صورت میں جب کہ شراب کا خریدار ، الکحل کی مقدار کی زیادتی کا علم رکھتا تھا اور اس کے استعمال کے نتائج سے بھی آگاہ تھا، کوئی بھی اس کے قتل کا ذمہ دار نہیں ہے اوراگر آگاہ نہیں تھا لیکن بیچنے والا ان مسائل سے آگاہ تھا اور جانتا تھا کہ ایسا ہونا غالبا قتل یا نقص اعضاء کا سبب ہوسکتا ہے، جنایت عمدی کا مصداق ہے،اور اگر باخبر نہیں تھا ، وہ ذمہ دار نہیں ہے،لیکن اگر شراب کا بنانے والا باخبر تھا، یا اس نے سہل اںگاری کی ہے، وہ ہی ذمہ دار ہے اور اگر کوئی بھی آگاہ نہیں تھا اور سہل اںگاری بھی نہیں کی ہے اور اچانک یہ مسئلہ پیش آگیا ہے، کوئی ایک بھی زمہ دار نہیں ہے، اس مسئلہ کے حکم کا جاننا یا نہ جاننا کوئی اثر نہیں رکھتاہے، لیکن شراب پینے کی حد اور اس کی سزا میں موثر ہے اور یقینا یہ معاملات باطل اور حرام ہیں۔
جواب : ایسے شخص پر نماز نہیں ہے ، جب تک کہ اس کی لاش نہ ملے ، لیکن علماء کی تحریروں میں ، نماز غرقیٰ کے نام سے ایک نماز کا تذکرہ ہو اہے اور یہ ان لوگوں کی یومیہ نماز ہے ، جو غرق ہو رہے ہیں ،اور تکبیر اور کچھ اشاروں کے سوا کچھ نہیں کرسکتے ہیں۔
جواب :۔ چنانچہ مسئلہ نہ جانے کی وجہ سے ایسا کیا ہو تو سعی از سرنو بجالائے اور اگر سہواور بھول جانے کی وجہ سے ایسا کیا ہو تو بعید نہیں ہے کہ ایک دور( چکر) صفا سے مروہ تک بجالانا کافی ہو لیکن احتیاط یہ ہے کہ سات دور مافی الذمہ کی نیت سے بجالائے ۔
جواب : ان کی نماز صحیح ہے اور اعاد ہ لازم نہیں ہے ۔
ب: اس کی حد ایک سال ہے۔ج: اگر کشادہ دست ہو تو خود اس کے ذمہ ہے اور اگر تنگدست ہو تو بےت المال کے ذمہ ہے۔
جواب: الف۔ اگر ایسا ہونا قطعی اور یقینی ہو تو نہ صرف یہ کہ ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ ایسا کرنا ہی مطابق احتیاط ہے ۔ب: دونوں صورتوں میں کوئی فرق نہیں پایا جاتا ہے ۔
اگر پیسہ کا مالک کسی رقم کو صدقہ یا خمس کے عنوان سے الگ کردے، اس میں تصرف کرسکتا ہے؛ لیکن اسے کسی کی امانت میں تصرف کا حق نہیں ہے ۔
اپنی تشخیص پر عمل کرسکتا ہے ۔
ہر طرح کا وہ عمل جو حیوانات کی نسل کے خاتمہ کا سبب ہو، اور اس سے معاشرے کو ضرریا نقصان پہنچے، جائز نہیں ہے۔