سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

حق المارۃ (راستہ کے درخت سے کھانا) جایز ہے

کیا حق المارہ (راستہ میں پڑنے والے پیڑ سے کھا لینا) جایز ہے؟

ہاں، راستہ میں پڑنے والے درختوں سے ضرورت بھر پھل یا میوہ توڑ کر کھانا جایز ہے۔ اس شرط کے ساتھ کہ اسی کام کی غرض سے گھر سے نہ نکلا ہو اور اپنے کھانے کے ساتھ اپنے ساتھ نہ لے جائے اور اس کا پھل کھانا کسی لڑائی چھگڑے کا سبب بہ بنتا یو اور احتیاط واجب یہ ہے کہ اگر یقین ہو کہ اس کا مالک راضی نہیں ہوگا تو پرھیز کرنا چاہیے۔

دسته‌ها: راه گیر کا حق

ہمارے فقہاء نے بہت سی حدود مثل زنا کی حد، لواط ومساحقہ کی حد کے بارے میں فرمایا ہے: ”اس صورت میں جبکہ جرم اقرار سے ثابت ہوجائے اور مجرم اقرار کرنے کے بعد توبہ کرے ، امام ( حاکم ولی امر) کو اختیار ہے کہ اس کو معاف کردے یا اس پر حد جاری کرے“ اور تعزیرات اسلامی کے قانون میں آیا ہے: ”عدالت ، ولی امر سے معافی کا تقاضا کرسکتی ہے“ ذیل میں اسی سے متعلق کچھ سوال ہوئے ہیں:۱۔ اس چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ فائیل کا قاضی معمولاً غیر مجتہد ہوتا ہے اور تدوین شدہ قوانین کے مطابق حکم کرتا ہے، کیا ایسے موارد میں قاضی کو اثبات جرم اور حکم صادر کرنے سے پہلے معافی کا تقاضا کرنا چاہیے (اس لئے کہ بہت سے معتقد ہیں انشاء یعنی حکم صادر ہونے کی صورت میں ، تاخیر کی گنجائش نہیں ہے او رحد جاری ہونا چاہیے) یا پہلے حکم صادر کرے اور پھر مجرم کے تقاضے کی بنیاد اور اس کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے معافی کا تقاضا کرے؟۲۔ سوال کے فرض میں ، کیا حکم کے صادر ہونے سے پہلے یا حکم کے بعد توبہ کرنے میں کوئی فرق ہے؟ توبہ کا زمانہ کس وقت تک ہے؟ اس بات پر توجہ رکھتے ہوئے کہ بعض روایات میں آیا ہے ،سانس کے گلے تک پہنچ جانے (یعنی دم نکلتے وقت تک) توبہ قبول ہوجاتی ہے، کیا یہا ں بھی ایسا ہی ہے؟ اور یہاں تک کہ اگر حکم کے اجراء کے وقت بھی توبہ کرلے، کیا حاکم کو معافی کا اختیار ہے؟۳۔ کسی شخص کے گناہ سے پاک ہونے کے اور گناہ پر نا دم ہونے کی صورت میں اقرار اور اس اعتراف کے درمیان جو بازپرس کے ذریعہ عمل میں آیا ہے کہ وہ اقرار واعتراف کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ رکھتا ہو، کوئی فرق نہیں پایا جاتا ہے؟ اور کیا پہلی قسم کااقرار جو ظاہراً ندامت کی رو سے تھا، توبہ کے لئے کفایت کرتا ہے، یا صراحت سے توبہ کرنا جواز عفو کی شرط ہے؟۴۔ اس بات پر توجہ رکھتے ہوئے کہ سزایافتہ مجرمکو جرم کی سزا کے علاوہ بعض طبعی سزائیں بھی دی جاتی ہیں (وہ سزائیں جو حد کا نتیجہ ہوتی ہیں) جیسے بعض عہدے اور منصب سے محرومیت منجملہ منصب قضاوت، منصب امامت جمعہ وجماعت وغیرہ ، اب اگر کسی وجہ سے سزا معاف ہوجائے تو کیا احکام اور تبعی سزائیں بھی ختم ہو جائیں گی یا وہ ارتکاب جرم سے متعلق تھیں اور ثابت رہیں گی ؟ اس سلسلہ میں متعلق تائب او ر غیر تائب کے درمیان کوئی فرق ہے؟توبہ اور ملکہ عدالت کے پلٹ آنے سے، برگشت کے قابل ہیں۔

جواب 1: انشاء حکم اور اور عدم انشاء حکم کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔جواب 2: کوئی فرق نہیں ہے۔جواب 3: توبہ ہر صورت میں عفو کا مجوز ہے۔جواب 4: وہ منصب جو عدالت پر مشروط ہیں، توبہ اور ملکہ عدالت کے پلٹ آنے سے، برگشت کے قابل ہیں۔

دسته‌ها: زنا کی حد

زنا کے اقرار سے مہرالمثل کا لازم ہونا

اگر ایک مرد ایک بار زنا کا اقرار کرے کیا اس کو ارش البکارة کے ادا کرنے پر محکوم کرسکتے ہیں (البتہ شرائط کے محقق ہونے کی صورت میں)

جواب: احتیاط واجب یہ ہے کہ اگر زنا بالجبر کا اقرار کرے یا ازالہٴ بکارت کا جبری طور سے اقرار کرے تو مہرالمثل ادا کرے۔

دسته‌ها: زنا

قاتل کے قصاص کیلئے ولی امر کی اجازت

کیا قاتل کا قصاص کرنے کے لئے، ولی فقیہ یا اس کے نمائندے کی اجازت ضروری ہوتی ہے؟ او راگر اجازت نہ دی جائے تو اس صورت میں قاتل کا کیا وظیفہ ہے کیا اجازت ملنے تک خواہ دسیوں سال گذر جائیں قید میں رہے یا یہ کہ فوراً رہا ہوجائے گا، دوسری (رہائی کی) صورت میں کس قسم کی ضمانت لینا چاہیے؟

ولی فقیہ کی اجازت لازم نہیں ہے، قاضی کا حکم کافی ہے اور اگر قاضی تک دسترسی نہ ہو تو حاکم شرع کے بجائے ، عادل مومنین اجازت دے سکتے ہیں اور اگر حاکم شرع نے اجازت دیدی لیکن مقتول کے وارث اور اولیاء راضی نہ ہوئے تب ان سے اتمام حجّت کیا جائے گا کہ یا تو قصاص کریں یا بھر قاتل کے راضی ہونے کی صورت میں، دیت وصول کرلیں، اور اگر دونوں باتوں میں سے کسی پر بھی راضی نہ ہوئے تب کافی حد تک ضمانت لیکر اس وقت تک کے لئے قاتل کو رہا کیا جاسکتا ہے جب تک کہ اس کی صورت حال واضح ہو۔

دسته‌ها: قصاص کے احکام

اس مسجد کو گرانا جس میں نماز پڑھنا ممکن نہ ہو

تقریباً ساٹھ یا ستر سال پہلی کی تعمیر شدہ ایک مسجد ہے لیکن اس کا جائے وقوع ، مناسب نہیں ہے ، یعنی سردیوں میں اس قدر ٹھنڈی رہتی ہے کہ محلہ والوں میں مسجد جانے اور وہاں پر نماز ، پڑھنے کی سکت اور ہمت نہیں ہے مذکورہ مسجد، ایسے شخص کی زمین کے قریب ہے ، جو خود تو دنیا سے گذر گیا ہے لیکن اس کی اولاد کا دعوا ہے کہ مسجد نوابین کے زور پر بنائی گئی تھی جبکہ مسجد اور اس کے آس پاس کی زمین ، ان کی ہے چونکہ انہوں نے اس بنجر زمین کو زراعت کے قابل بنایا اور آباد کیا تھا یہاں تک کہ ان لوگوں نے مسجد کے دروازے تک کھیت بنالیا ہے ، اس وجہ سے بستی والوں نے کچھ مدت سے ، دوسری مناسب جگہ پر مسجد تعمیر کر لی ہے ، جبکہ پہلی مسجد ، کھنڈر میں بدل چکی ہے ، اس سلسلہ میں لوگوں کا وظیفہ کیا ہے ؟ کیا مسجد کو گراکر ، اس جگہ باغ لگا سکتے ہیں تاکہ اس کی در آمدکونئی مسجدمیں خرچ کیاجاسکے، نیز توجہ رہے کہ بستی والوں کی تعداد زیادہ نہیں ہے ، جو دو مسجدوں کی ضرورت پڑے۔

جواب:۔ مسجد کو گرایا نہیں جاسکتا ، لیکن اگر خود بخود گر جائے نیز اس کے ملبہ اور سامان ، کے برباد ہونے کا خطرہ ہو تو اسے دوسری مسجد میں استعمال کیا جاسکتا ہے ، اور اگر مسجد گر جائے اور اس کی زمین بہر کیف استعمال کے لائق نہ ہو تو اس صورت میں اس مسجد کی زمین کو، دوسری مسجد کے فائدے کے لئے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ، اور قریبی زمینوں کے مالکوں کا قول ( دعوا) شرعی سند کے بغیر قابل قبول نہیں ہے ۔

دسته‌ها: مسجد

حج واجب کو چھوڑ دینا

کیا حج واجب کو چھوڑا جاسکتا ہے ؟ اگر حج واجب کو چھوڑا جاسکتا ہے تو کس مرحلہ میں چھوڑا جاسکتا ہے اور اگر نہیں چھوڑا سکتا تو حج کے کس مرحلہ سے نہیں چھوڑا جاسکتا ؟

کسی بھی صورت میں واجب حج کو نہیں چھوڑا جاسکتا ؟ لیکن اگر انسان اس قدر مریض ہوجائے کہ وہ اپنے کام کو جاری نہ رکھ سکتا ہو، یا کوئی شخص اس کے لئے مانع ہوجائے (مثلا کوئی الزام لگا کر اس کو قید کردے) ان شرایط کو مدنظر رکھتے ہوئے احرام کو ترک کیا جاسکتا ہے (اگرمحرم ہو) یہ مسئلہ ہم نے مناسک حج میں لکھا ہے ۔

دسته‌ها: حج تمتع

سبب اور مباشر کے اجتماع میں اقوائیت کا معیار

ایک حادثہ میں سبب ۷۰/ فیصد اور مباشر ۳۰/ فیصد مقصّر جانا گیا، کیا سبب کو ۷۰/ فیصد مقصّر ہوتے مباشر سے اقوی جانا جاسکتا ہے؟

جواب: مسئلہ کی اقوائیت کا معیار، تاثیر ہے اور اقوائیت سے مقصود عقل اور اختیار ہے، اگر سبب عاقل، مختار اور رشید اور مباشر غافل یا مجبور ہو تو اس جگہ سبب اقوی ہے اور حادثہ کی نسبت اس کی ہی طرف دی جائے گی۔

دسته‌ها: ضمانت کے اسباب
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت