ان لوگوں کا اعتکاف میں بیٹھنا جن کے لئے روزہ نقصان دہ ہے
اگر روزہ کسی کے لئے نقصاندہ ہو تو کیا حکم ہے؟
اُن لوگوں کا اعتکاف باطل ہےجن کے لئے روزہ نقصان دہ ہوتا ہے ۔
اُن لوگوں کا اعتکاف باطل ہےجن کے لئے روزہ نقصان دہ ہوتا ہے ۔
انہیں مدرسہ بھیجنا جایز بلکہ بعض اوقات لازم ہے، اسی طرح جس طرح والدین کے لیے بچوں کو اسکول بھیجنا ضروری ہے خاص کر لڑکیوں کے لیے کہ انہیں عقاید کی تعلیم دی جائے اور اگر ممکن ہو تو ان کے لیے الگ مدرسے بنائیں جائیں، ایسا کرنا ان کے لیے واجب ہے۔
اگر لوگوں نے ایک دوسرے کی مدد سے کنویں کھودے تھے اور اب وہ راضی نہیں ہیں تو ان کے لیے جایز نہیں ہے۔ البتہ اب منافع عمومی حکومت کے ہاتھ میں ہے لہذا حکومت اس بات کا ٖفیصلہ کر سکتی ہے۔
جواب الف : اس طرح کے مسائل میں قاضی تحقیق کرنے پر ماٴمور نہیں ہے (یعنی یہ اسکی ذمہ داری میں شامل نہیں ہے )اور معائنہ کرنا جائز نہیں ہے مگر یہ کہ کوئی ضرورت پیش آجائے جو ایسا کرنے کاباعث ہوجواب ب: مزکورہ فرض میں فقط قانونی ڈاکٹر کا نظریہ کافی نہیں ہے
جواب : جب بھی ثابت ہوجائے کہ اکراہ اس حد تک تھا کہ اس خاتون نے شدیدشکنجے کی وجہ سے خودکشی پر اقدام کیا ، اکراہ کرنے والے قاتل عمد کے حکم میں ہیں۔
جواب: حتی الامکان بدنی تنبیہ سے پرہیز کیا جائے، ضروری ہونے کی صورت میں ولی کی اجازت سے ہونا چاہیے، البتہ وہ بھی اس قدر کہ زخمی ہوجانے یا سرخ ہوجانے یا ینل پڑجانے کی حد تک نہ ہو۔
سر کا مسح کرنے میں اشکال ہے لیکن پیروں کا دوبارہ مسح کرنے سے وضو باطل نہیں ہوتا ۔
جواب: چنانچہ قتل کے وقوع کو دونوں کی طرف منسوب کرسکتے ہوں ، ان میں سے ہر ایک ، وقوع قتل میں جتنی تاثیر رکھتے ہوں گے اسی کی مناسبت سے دیت کے ضامن ہوں گے، اس بنا پر وقوع حادثہ میں ذمہ داری کا معیار سببیت ہے اورجب بھی حادثہ دو یا دو سے زیادہ افراد کی طرف منسوب ہو، ہر ایک اپنی تاثیر کی مقدار بھر ضامن ہے۔
جواب۔عام طور سے جنس(چیز)کی قیمت میں نقد اور ادھار کی صورت فروخت کرنے میںفرق ہوتا ہے اس فرق میں شرعاً کوئی اشکال نہیں ہے اور رومال اور ماچس یا اسی طرح کی دوسری چیزوں کو اس کے ساتھ ملاکر بیچنا لازم نہیں ہے
جواب:۔ اس کا مصرف فقط اطعام ہے ( یعنی فقط فقیروں کو کھانا کھلانے میں صرف کیا جائے )
جواب :۔ اس شخص کی بہ نسبت جس کا پیر ٹوٹ گیا ہے ، محصور کے احکام اورباقی موانع جیسے گاڑی کا خراب ہونا یا دیگر مانع کے لئے ، مصدود کے احکام جاری ہوں گے ۔
جواب 1:اس صورت میں جب کہ زید کا مقصد اپنے مال کو حاصل کرنا تھا تو اس کی کوئی تقصیر نہیں ہے اور دیت میں سے کوئی چیز اس پر نہیں ہے۔جواب 2: وہ دیت کی ادائیگی پر ذمہ دار نہیں ہے، لیکن اپنے عمل کی خاطر تعذیر کا مستحق ہے۔
جواب:۔ زمینی راستہ معیا ر ہے اور اس مسئلہ کی دلیل مطلق طور پر راستہ کہنا ہے اس لئے کہ مطلق( بغیر قید و شرط کے ) راستہ کہا جائے (یعنی فقط راستہ کہاجائے نہ ہوائی راستہ اور نہ زمینی راستہ ) تومعمولی راستہ مراد ہوتا ہے خصوصاً ہوائی سیدھا راستہ ، عام معمولی راستہ سے جس سے لوگ آمد و رفت کرتے ہیں ، کم ہوتا ہے ، اگر سید ھا راستہ معیار ہوتا تو روایات میں صراحت سے بیان کیا جاتا ( چونکہ بیان نہیں ہوا ہے ، لہٰذا عام اور معمولی راستہ مراد ہے مترجم )
جواب:۔ اگر تیسری رکعت کے پہلے سجدہ میں متوجہ ہو جائے تو اس کو دوسری رکعت قرار دے، تشہد پڑھے اور نماز تمام کرنے کے بعد، بھولے ہوئے سجدے کی قضا بجالائے، اور پھر توضیح المسائل کے دستور کے مطابق ، سجدہ ٴ سہو بجالائے نیز احتیاط کے طور پر نماز کو دوبارہ پڑھے، اور اگر تیسری رکعت کے دوسرے سجدے کے بعد متوجہ ہوتو اس کی نماز باطل ہے ۔
اگر اس حد تک ارفاق اور مروت سے پیش آنا اساتذہ میں معمول ہو تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔