جدید دیہات والوں کا قدیم دیہات کے کنویں سے فایدہ اٹھانا
بیس سال پہلے گاوں والوں نے اپنی ضرورت کے مطابق چند کنویں کھودے تھے، اب آبادی کے بہت زیادہ بڑھ جانے اور زمین کی کمی کی وجہ سے ان لوگوں نے وہاں سے چند کیلو میٹر دور ایک دوسرا گاوں آباد کیا ہے، نئے گاوں والوں کے لیے اس پرانے گاوں سے پاءپ لاءن کے لیے ان کنووں سے پانی حاصل کرنے کا کیا حکم ہے؟ قدیم گاوں والے اس بات پر راضی نہیں ہیں، مہربانی کرکے حکم شرعی بیان فرمائیں؟
اگر لوگوں نے ایک دوسرے کی مدد سے کنویں کھودے تھے اور اب وہ راضی نہیں ہیں تو ان کے لیے جایز نہیں ہے۔ البتہ اب منافع عمومی حکومت کے ہاتھ میں ہے لہذا حکومت اس بات کا ٖفیصلہ کر سکتی ہے۔
ہبہ معوّضہ (وہ ہبہ جس کے بدلے کچھ لیا جائے) میں، فسخ کرنے کا اختیار
کوئی شخص اپنی زمین کو، عوض کی شرط پر ہبہ کردیتا ہے یعنی اس شرط کے ساتھ ہبہ کرتا ہے کہ دوسرا شخص بھی اس کو کوئی چیز ہبہ کرے، لیکن جس کے لئے ہبہ کیا ہے وہ شخص اس کے عوض کوئی چیز نہیں دیتا، یہاں تک کہ ہبہ کرنے والے شخص کا انتقال ہوجاتا ہے، کیا اس کے وارث اس ہبہ کو فسخ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں یا نہیں؟
جواب: جی ہاں انھیں فسخ کرنے کا اختیار ہے۔
میت کے مال کے تیسرے حصّہ کو مصرف کرنے کیلئے بہتریں راستہ وطریقہ
ایک شخص نے وصیت کی ہے: میرا ایک تہائی مال ایسی جگہ پر خرچ کیا جائے جو قرآن اور سنت کی نظر میں سب سے بہتر ہو اور اس سے کوئی چیز بہتر نہ ہو، اس سلسلہ میں آپ اپنا مبارک نظریہ بیان فرمائیں؟
جواب: دینی مدارس اور ان باتقویٰ اشخاص پر، خرچ کریں، جو ان مدارس میں تعلیم دینے، تمام خلائق کو تبلیغ اور راہنمائی کرنے نیز امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے فریضوں میں مصروف ہیں، اس لئے کہ حدیث میں وارد ہوا ہے: ''وما اعمال البر کلّہا والجہاد فی سبیل اﷲ، عند الامر بالمعروف والنہی عن المنکر، الّا کنفثہ فی بحر لجّی؛تمام نیک اعمال یہاں تک کہ راہ خدا میں جہاد کرنا، امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے مقابلہ میں ایسا ہے، جیسے دریا کے مقالہ میں منھ کا پانی
نقد قیمت سے زیادہ قیمت پر ادھار میں فروخت کرنا
اگر کسی چیز کی قیمت معین ہے ادھار کی صورت میں کیا اس چیز کی معین قیمت سے زیادہ میں فروخت کیا جائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
جواب۔عام طور سے جنس(چیز)کی قیمت میں نقد اور ادھار کی صورت فروخت کرنے میںفرق ہوتا ہے اس فرق میں شرعاً کوئی اشکال نہیں ہے اور رومال اور ماچس یا اسی طرح کی دوسری چیزوں کو اس کے ساتھ ملاکر بیچنا لازم نہیں ہے
ایسے قتل کے حادثہ کی دیت جو دواشخاص کی طرف منسوب ہو
ایک مینی بس قانونی رفتار سے زیادہ ایک سڑک پر جارہی تھی ، اسی وقت ایک موٹر سائیکل سوار ذیلی سڑک سے اصلی سڑک پر وارد ہوا جس کی وجہ سے حادثہ رونما ہوگیا،جس میں موٹر سائیکل سوار فوت ہوجاتا ہے ، فنی ماہر نے نظر دی ہے کہ ذیلی سڑک سے اصلی سڑک پر موٹر سائیکل سوار کا وارد ہونا حادثہ کا سب ہوا ہے لیکن مینی بس کی رفتار بھی زیادہ ہونے کی وجہ سے حادثہ میں شدت پیدا ہوگئی ہے، کیا پوری دیت کو مینی بس کا ڈرائیور ادا کرے گا یا دیت کے کچھ حصہ کو ، یا کوئی ذمہ داری اس پر عائد نہیں ہوتی؟
جواب: چنانچہ قتل کے وقوع کو دونوں کی طرف منسوب کرسکتے ہوں ، ان میں سے ہر ایک ، وقوع قتل میں جتنی تاثیر رکھتے ہوں گے اسی کی مناسبت سے دیت کے ضامن ہوں گے، اس بنا پر وقوع حادثہ میں ذمہ داری کا معیار سببیت ہے اورجب بھی حادثہ دو یا دو سے زیادہ افراد کی طرف منسوب ہو، ہر ایک اپنی تاثیر کی مقدار بھر ضامن ہے۔
پیر ٹوٹنا یا وسیلہ سفر (گاڑی وغیرہ ) کا خراب ہو جانا
اگر حصر اور صد کے علاوہ کوئی مانع پیش آجائے ( جیسے اس کا پیر ٹوٹ جائے یاگاڑی وغیرہ خراب ہو جائے ، یا راستہ بھٹک جائے کیا اس پر مصدود اور محصور کے احکام جاری ہوں گے ؟
جواب :۔ اس شخص کی بہ نسبت جس کا پیر ٹوٹ گیا ہے ، محصور کے احکام اورباقی موانع جیسے گاڑی کا خراب ہونا یا دیگر مانع کے لئے ، مصدود کے احکام جاری ہوں گے ۔
نا جائز تعلقات کے بارے میں قاضی کا فحص اور جستجو کرنا
کبھی کبھی لڑکی اور لڑکے کے نا جائز تعلقات کی گزارش آتی ہے ،لیکن فائل بننے کے بعد طرفین ہر قسم کے تعلقات کا انکار کر دیتے ہیں یا جسمانی روابط کاعتراف کر تے ہیں اورمقاربت سے انکار کر دیتے ہیں اس صورت میں موضوع کی وضاحت کے لئے قاضی لڑکی کو قانونی ڈاکٹر کے پاس بھیج دیتے ہیں اور ڈاکٹر اس لڑکی کا آگے اور پیچھے سے معائنہ کرتا ہے ،سوال یہ ہے کہالف) کیا لڑکی کو ڈاکٹر (مرد یا عورت ) کے پاس معائنہ کے لئے بھیجنا ضروری ہے یا نہیں ؟اور اگر لڑکی کے گھر والے نگران ہوں اور معائنہ کی درخواست دیں تو کیا حکم ہے ؟ب) کیا ڈاکٹر کا نظریہ حکم میں تاثیر رکھتا ہے ؟چنانچہ قانونی ڈاکٹر گزارش دے کہ کوئی سخت چیز لڑکی کے آگے یا پیچھے کے حصے میں لگی ہے لیکن صراحت کے ساتھ تشخیص نہ دے تو کیا حکم ہے ؟
جواب الف : اس طرح کے مسائل میں قاضی تحقیق کرنے پر ماٴمور نہیں ہے (یعنی یہ اسکی ذمہ داری میں شامل نہیں ہے )اور معائنہ کرنا جائز نہیں ہے مگر یہ کہ کوئی ضرورت پیش آجائے جو ایسا کرنے کاباعث ہوجواب ب: مزکورہ فرض میں فقط قانونی ڈاکٹر کا نظریہ کافی نہیں ہے
مسح کی جگہ کو خشک کئے بغیر سر اور پیر کا دوبارہ مسح کرنا
مسح کی جگہ کو خشک کئے بغیر عمدا یا سہوا سر اور پیروں کا دوبارہ مسح کرنے سے کیا وضو باطل ہوجاتا ہے ؟
سر کا مسح کرنے میں اشکال ہے لیکن پیروں کا دوبارہ مسح کرنے سے وضو باطل نہیں ہوتا ۔
ان لوگوں کا اعتکاف میں بیٹھنا جن کے لئے روزہ نقصان دہ ہے
اگر روزہ کسی کے لئے نقصاندہ ہو تو کیا حکم ہے؟
اُن لوگوں کا اعتکاف باطل ہےجن کے لئے روزہ نقصان دہ ہوتا ہے ۔
طالب علم کی بدنی تنبیه
اُن زخموں یا طمانچوں کی دیت جو استاد اپنے شاگرد کو مقام تنبیہ میں لگاتا ہے ، نیچے دی گئی فروع میں کس طرح ہے؟الف) جب کہ شاگرد نابالغ ہو۔ب) جب کہ شاگرد بالغ ہو۔ج) ولی کی اجازت سے ہو۔ھ) ولی کی بغیر اجزات کے ہو۔
جواب: حتی الامکان بدنی تنبیہ سے پرہیز کیا جائے، ضروری ہونے کی صورت میں ولی کی اجازت سے ہونا چاہیے، البتہ وہ بھی اس قدر کہ زخمی ہوجانے یا سرخ ہوجانے یا ینل پڑجانے کی حد تک نہ ہو۔
ایسے امام جماعت کی اقتداء کرنا جو دوسرے مجتہد کا مقلد ہے
میں ایک مسجد کا امام جماعت ہوں ، برائے مہر بانی میرے لئے ایک اجازہ مرحمت فرمائیے ؟
جواب:۔ اگر مسجد میں جماعت کرانا آپ کی مرادہے تو اجازہ کی ضرورت نہیں ہے اور اگر کوئی دوسری چیز مقصود ہے تو تحریر کریں تاکہ جواب دیا جائے۔
دو مریضوں کی صورت میں ڈاکٹر کا شرعی وظیفہ
اگر دو زخمیوں کو ڈاکٹر کے پاس معالجہ کے لیے لایا جائے اور دونوں کی حالت نازک اور خطرناک ہو اور ان دونوں میں سے ایک کا وہ فیملی ڈاکٹر ہو اور ایک کا علاج دوسرے کو چھوڑ دینے کے مترادف ہو، جس کے نتیجہ میں وہ مر جائے گا، اس حالت میں ڈاکٹر کا کیا شرعی فریضہ ہے وہ ان دونوں میں سے کس کو مقدم کرے اور کس کا علاج کرے، اس بیان کے ضمن میں ذیل الذکر سوالوں کے جواب عنایت کریں:الف۔ اس بات کے مد نظر کہ اس ڈاکٹر نے جن کا وہ فیملی ڈاکٹر ان سے اس نے ایسا کوئی ایگریمینٹ نہ کیا ہو جس کے تحت وہ علاج کے مجبور ہوگا ۔ب۔ اگر ان دونوں میں سے ایک کے گھرانے کے ساتھ اس کا ایگریمینٹ ہو تو اس صورت میں حکم مسئلہ کیا ہوگا؟ج۔ وہ زخمی ڈاکٹر جن کا فیملی ڈاکٹر ہے، اس کی حالت نہایت نازک ہو مگر اس کی موت کا امکان دوسرے سے کمتر ہو تو اس صورت میں اس کا شرعی فریضہ کیا ہے؟
جواب: پہلی اور دوسری صورت میں، اس بات کے پیش نظر کہ دونوں کی حالت ایک جیسی ہے ڈاکٹر کو اختیار ہے جس کا چاہے علاج کرے لیکن اگر اس کا کسی گھرانے سے شرعی معاہدہ ہو تو اسے مقدم کرے گا اور تیسری صورت میں جس کی جان کو زیادہ خطرہ ہو اس کا پہلے علاج کرے گا ۔
شوق دلانے کے لیے نمبر بڑھا دینے کا حکم
میں ایک اسکول میں پڑھاتا ہوں، کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ سالانہ امتحان میں کوئی طالب علم ایک دو نمبر سے پاس ہونے سے رہ جاتا ہے دوبارہ کاپی دیکھنے کے بعد بھی نمبر بڑھانے کی گنجایش نہیں نکلتی مگر ضرورت کے حساب سے، اس بات کے پیش نظر کہ انسان کا وقت بہت قیمتی ہے اور بعض دفعہ طلبہ نہایت غریب گھر کے ہوتے ہیں اگر وہ فیل ہو جائیں تو ان کی زندگی میں اس کا منفی اثر پڑتا ہے، استاد تشخیص دیتا ہے کہ نمبر کا بڑھانا اس کی زندگی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تو کیا ایسے میں میرے لیے ان کے نمبر بڑھا دینا جایز ہے؟
اگر اس حد تک ارفاق اور مروت سے پیش آنا اساتذہ میں معمول ہو تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
ضرورت کے وقت اس مقام کے علاوہ، جہاں کیلئے نذر مانی تھی دوسرے مقام پر نذر کرنا
جس شخص نے یہ نظر مانی ہو کہ ،خانہ کعبہ کی زیارت سے مشرف ہونے کی صورت میں ، خانہ کعبہ کے طلائی ناودان (پرنالہ)کے نیچے ، پورا قرآن ختم کرے گا ،لیکن بیت اللہ کی زیارت سے مشرف ہونے کے بعد ، وہاں پر تعمیر ہونے کی وجہ سے ،اس مقام پر تلاوت کرنا اس کے لئے ممکن نہ ہو تو اس شخص کا کیا وظیفہ ہے ؟
جواب: احتیاط واجب یہ ہے کہ مسجد الحرام (خانہ کعبہ) میں دوسری جگہ جو اس مقام سے قریب ہو ، اپنی نذر بجا لائے۔

