سہم امام (ع )کا مصرف زیارتوں میں
سہم امام کو زیارتوں پر خرچ کرنا کیسا ہے؟
جواب: اگر اس کی شان کا حصہ ہے اور اسراف بھی نہیں ہے تو جائز ہے۔
جواب: اگر اس کی شان کا حصہ ہے اور اسراف بھی نہیں ہے تو جائز ہے۔
جواب: اگر اس دل کے مریض کی جان کو خطرہ لاحق ہو اور ان دس مریضوں کی جان کو خطرہ لاحق نہ ہو تو جس کی جان کو خطرہ ہے وہ مقدم کیا جائے گا ۔
ہم جانتے ہیں کہ موجودہ حالات میں، بہائی گری، فقط ایک مذہبی مسئلہ نہیں ہے بلکہ زیادہ تر سیاسی حیثیت کا حامل ہے اور بہت زیادہ قرائن وشواہد موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ غیروں اور دیگر ممالک کے فائدے کے لئے کام کرتے ہیں، بعض مغبی ممالک کے پارلیمنٹ کی طرف سے شدّت سے، ان کا دفاع کرنا، منجملہ ایک قرینہ اور شاہد ہے ، لہٰذا ان حالات میں ان کو ایک ایسے گروہ کی نظر سے نہیں دیکھا جاسکتا جو مسالمت آمیز زندگی کا خواہاں ہو،حقیقت میں یہ لوگ محارب ہیں، (یعنی کافر حربی اور حالت جنگ میں ہیں
حقیقت میںمسافر کی نماز اور روزہ قصر ہونا سفر کی مشکلات کے مقابلہ میںایک الٰہی طلف ہے اور مشکلات سفر کا معیار نوع بشر ہے نہ ا ن کی فرد فرد۔
جواب :۔ اگر تدریجی طور پر صحیح کرسکتا ہے تو اس پر واجب ہے کہ آہستہ آہستہ قرائت صحیح کرے وگر نہ جس قدر قدرت رکھتا ہے اسی مقدار میں نماز پڑھے اور نائب بنا نا لازم نہیں ہے یا جماعت کے ساتھ بجالائے ۔
جواب :۔ مصدر او رمحصور کے اعمال کو انجام دینا واجب ہے اور پھر اس کے بعد آئندہ سال حج بجالائے ۔
جواب: اگر انھوں نے ایک تہائی مال کی وصیت کی ہو اور وصیت کا کوئی مصرف معیّن نہ کیا ہو مذکورہ مصرف کے خلاف ہو تو کوئی ممانعت نہیں ہے ۔
ان بزرگوں میں سے کوئی ایک بھی وحدت وجود کے جو مذکورہ بالا جواب میں تیسرے معنی بیان ہوئے ہیں، قائل نہیں ہیں اور جو کوئی بھی ان بزرگوںکی طرف ایسی نسبت دیتا ہے وہ جسارت کرتا ہے۔
شک کی صورت میں، قاضی کو چاہیے کہ معتبر ضمانت لے کر اُسے رہا کردے اور تحقیق کرنے کے بعد اگر معلوم ہوجائے کہ وہ تنگدست نہیں ہے تو اُسے قید کرسکتا ہے ۔
جواب: یہ وصیت نامہ کوئی اعتبار نہیں رکھتا اور ایسی زیارتگاہیں بنانے سے پرہیز کیا جائے۔
جواب: سرقت تو شمار نہیں ہوتی لیکن ےہ ایک طریقہ کی خیانت اور حرام ہے اور عورت کو اس کی تلافی کرنا چاہئے ۔