جس میت نے وصیت نہ کی ہو
اگر کسی میت نے وصیت نہ کی ہو تو کیا اصل مال میں اسکا کوئی حق ہوتا ہے؟
جواب: میت کے ضروری خرج جیسے کفن و دفن کے علاوہ اور کوئی حق نہیں ہے ۔
جواب: میت کے ضروری خرج جیسے کفن و دفن کے علاوہ اور کوئی حق نہیں ہے ۔
جواب: اگر ان کے منع کرنے سے ضرر کا خوف پیدا ہو جائے تو ان کی بات شرعی جواز کی حیثیت پیدا کر سکتی ہے ۔
جواب :۔ مصدر او رمحصور کے اعمال کو انجام دینا واجب ہے اور پھر اس کے بعد آئندہ سال حج بجالائے ۔
جواب :۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ شب کے دوسرے آدھے حصہ میں بیتوتہ کرنے کے لئے واپس منیٰ میں چلا جائے ۔
شک کی صورت میں، قاضی کو چاہیے کہ معتبر ضمانت لے کر اُسے رہا کردے اور تحقیق کرنے کے بعد اگر معلوم ہوجائے کہ وہ تنگدست نہیں ہے تو اُسے قید کرسکتا ہے ۔
ہم جانتے ہیں کہ موجودہ حالات میں، بہائی گری، فقط ایک مذہبی مسئلہ نہیں ہے بلکہ زیادہ تر سیاسی حیثیت کا حامل ہے اور بہت زیادہ قرائن وشواہد موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ غیروں اور دیگر ممالک کے فائدے کے لئے کام کرتے ہیں، بعض مغبی ممالک کے پارلیمنٹ کی طرف سے شدّت سے، ان کا دفاع کرنا، منجملہ ایک قرینہ اور شاہد ہے ، لہٰذا ان حالات میں ان کو ایک ایسے گروہ کی نظر سے نہیں دیکھا جاسکتا جو مسالمت آمیز زندگی کا خواہاں ہو،حقیقت میں یہ لوگ محارب ہیں، (یعنی کافر حربی اور حالت جنگ میں ہیں
ان کاموں کے برے اثرات و نتایج کے پیش نظر ان سے پرہیز ضروری ہے اور اس بارے میں لوگوں کی باتوں کو توجہ نہیں دینی چاہیے۔
جواب: اگر اس کی شان کا حصہ ہے اور اسراف بھی نہیں ہے تو جائز ہے۔
جواب :۔ اگر تدریجی طور پر صحیح کرسکتا ہے تو اس پر واجب ہے کہ آہستہ آہستہ قرائت صحیح کرے وگر نہ جس قدر قدرت رکھتا ہے اسی مقدار میں نماز پڑھے اور نائب بنا نا لازم نہیں ہے یا جماعت کے ساتھ بجالائے ۔
جواب : جب بھی ثابت ہوجائے کہ اکراہ اس حد تک تھا کہ اس خاتون نے شدیدشکنجے کی وجہ سے خودکشی پر اقدام کیا ، اکراہ کرنے والے قاتل عمد کے حکم میں ہیں۔
حقیقت میںمسافر کی نماز اور روزہ قصر ہونا سفر کی مشکلات کے مقابلہ میںایک الٰہی طلف ہے اور مشکلات سفر کا معیار نوع بشر ہے نہ ا ن کی فرد فرد۔
ماں اور پاب کے ظلم کے مقابل میں احقاق حقوق کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے اور وہ اس قاعدہ سے الگ ہے؛ لیکن جس قدر بھی ہوسکے درگذر کریں یہی بہتر ہے ۔
جواب:۔جائز ہے اور کفارہ نہیں ہے مگر بارانی اور سرد راتوں میں کہ اس صورت میں ایک بھیر بکری ، کفارہ دیں۔
جواب: اگر حج، واجب نہ ہو اور سب کاموں کے لئے ایک تہائی مال کافی نہ ہو تب (وصیت میں بیان شدہ)ترتیب کے مطابق عمل کرنا چاہیے ۔