بھولے ہوئے تشہد کی قضا
اگر کوئی شخص ، نماز میں تشہد بھول جائے ، کیاتشہد کی قضا بجالانے کے بعد، سلام پڑھے؟
جواب:۔ احتیاط یہ ہے کہ سلام بھی پڑھے ، اور اس کے بعد سجدہٴ سہو بھی کرے ۔
جواب:۔ احتیاط یہ ہے کہ سلام بھی پڑھے ، اور اس کے بعد سجدہٴ سہو بھی کرے ۔
اگر دوا اپنی نوعیت میں منحصر بفرد ہو اور اس کا فایدہ نقصان سے زیادہ ہو اور ڈاکٹر نے اس کے بارے میں مریض کو بتا دیا ہو تو ڈاکٹر کے لیے تجویز کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
جواب: اس طرح کی مار پیٹ کا حکم، دیت اور ارش ہے؛ اور ماں باپ اور دوسروں میں کوئی فرق نہیں ہے۔
جواب:۔ کوئی ممانعت نہیں ہے ۔
اس کی نیابت میں کوئی حرج نہیں ہے اور دوبارہ احرام کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔
حاکم شرع اولیاء دم کو حاضر کرے گا اور ان کو اسلام کی دعوت دے گا، اگر قبول کرلیا تو قاتل کا اختیار ان کے سپرد کردے گا کہ وہ قصاص کریں یا دیت لے لیں اور اگر اسلام کو قبول نہ کریں تو حاکم شرع دیت لے گا اور بیت المال کو دے دےگا۔
جواب :۔ اس کے لئے باقی حاجیوں سے ملحق ہونا واجب ہے نیز تمام اعمال انجام دے م قربانی کرے اس صورت میں اس کا حج صحیح ہے ۔
جو اعلانیہ طور پر شراب پیتا ہے، اس پر لعنت کرنا جائز ہے اور اس کی حد (سزا) ۸۰ کوڑے ہیں ۔
مذکورہ چیز کی قیمت لگارکر سہم سادات سے حساب کرسکتا ہے؟
جواب: الف وب: اس صورت میں جبکہ ضرر فقط عضو کو پہنچا ہو تو اسی نسبت سے ارش کا حساب ہوگا اور اگر بالفرض عضو کی کارکردگی کو تو کوئی نقصان نہ پہنچا ہو لیکن ایک کلی نقصان بدن کو پہنچا ہو تو ارش کا حساب کامل دیت کی نسبت سے کرنا چاہیے؛ چاہے عضو کی دیت سے زیادہ ہی کیوں نہ ہوجائے۔
جواب:۔ اگر کھیتی سے حصہ وصول کرنا ، کھیتی کے تمام کاموں کے مقابلے میں ہے (جیسا کہ ہمارے ملک میں مالک اور رعایہ کے درمیان معمول ہے ) تو ان کے حصہ پر بھی زکات ہے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ ان کا حصہ وہ نصاب کی مقدار میں ہو، البتہ اگر ( کھیتی کے بعض کام جیسے ) کاٹنے وغیرہ کے بدلے حصہ وصول کرے ( یعنی زکات واجب ہونے کے بعد) تو اس صورت میں ، مزدور پر کچھ نہیں ہے ۔
جواب: صرف اس صورت میں اس راز کو فاش کر سکتا ہے جس میں معاشرہ کی مصلحت خطرے میں پڑتی ہو اور حکومت کے نمایندوں تک بات پہچا سکتا ہے ۔
جواب:اس کی نذر اس کی عمر کے لحاظ سے صحیح نہیں ہے ۔
اس مسئلہ کی چند صورتیں ہیں:الف) اگر زخم کی لمبائی، چوڑائی اور گہرائی کا لحاظ کرنا، کمزور ہونے کی وجہ سے اس مجرم کے لئے یقینی خطرہ یہاں تک کہ جان کا خوف ہو، تب یقیناً قصاص کا حکم دیت میں بدل جائے گا اس لئے کہ قصاص کی دلیلوں کا اطلاق اس صورت کو شامل نہیں ہیں یا دوسرے الفاظ میں، لوگوں کی نظر میں دونوں میں مماثلث اور مشابہت نہیں پائی جاتی اور اس کے علاوہ وہ دلیلیں جو کہتی ہیں جائفہ(۱)، منقلہ(۲) اور مامومہ(۳)،میں قصاص نہیں ہے کیونکہ خطرے کا باعث ہے، وہ بھی مفروض مسئلہ کو شامل ہیں یعنی ان سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس صورت میں قصاص نہیں ہے ۔ب) اگر دوسرے فریق کے لئے خطرہ نہ ہو لیکن دونوں کے جسموں میں اس قدر فرق ہو کہ ایک کے بدن میں ایک سینٹی میٹر کی گہرائی، دوسرے کے بدن میں تین سینٹی میٹر گہرائی کے برابر ہو، اس صورت میں زخم کی گہرائی کا لحاظ نہیں کرنا چاہیے، اس لئے کہ عام لوگوں کی نظر میں دونوں کا برابر ہونا، جو قصاص کی دلیلوں کی بنیاد ہے، مذکورہ صورت میں حاصل نہیں ہے چونکہ مثال کے طور پر، تین سینٹی میٹر گہرا زخم، دبلے آدمی کی ہڈی تک پہنچ جائے گا جبکہ اُسے ایک فربہ اور موٹے شخص کے لئے ایک معمولی زخم سمجھا جائے گا، لہٰذا اس بناپر قصاص کی دلیلوں میں بیان شدہ، مساوات کو شامل نہیں ہے اور وہ مخصوص روایات جو زخم کی گہرائی میں مساوات اور برابر ہونے پر دلالت کرتی ہیں، وہ بھی موجود نہیں ہیں، دوسرے یہ کہ سجاج(۴)--- یا مطلقہ زخم کے بارے میں آنے والی روایات کے مطابق، زخم کی گہرائی کا معیار، (جائفہ، دامیہ(۵)، باضعہ(۶)، سمحاق(۷) ناموں میں سے کسی ایک نام کا صادق آنا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ دبلے اور موٹے شخص پر، زخم کی گہرائی کے لحاظ سے مذکورہ ناموں کا صادق آنا برابر نہیں ہے ۔ج) یہ مسئلہ زخم کی لمبائی اور چوڑائی کے لحاظ سے بھی قابل غور ہے ، بالفرض اگر کسی کے بازو چھوٹے ہیں یا ان کی لمبائی اور چوڑائی بہت ہی کم ہے، اس کے برخلاف دوسرے فریق کے بازو کی لمبائی اور چوڑائی اس کے بازووٴں سے کئی گُنا زیادہ ہے، اب اگر موٹے آدمی کے بازو پر زخم آجائے جو اس کے آدھے بازو کو شامل ہو، یعنی آدھا بازو زخمی ہوجائے جبکہ لمبائی کے لحاظ سے یہ زخم دوسرے فریق (مجرم) کے کامل بازو کے برابر ہو، اس صورت میں بھی ، لمبائی اور چوڑائی کے لحاظ سے دونوں کے زخموں کےبرابر ہونے پر کوئی قانع کرنے والی دلیل نہیں ہے، بلکہ قصاص کے مفہوم کا تقاضا اور سورہٴ بقرہ کی آیہٴ کریمہ میں، مثل کا اطلاق، دونوں نسبی ہیں (جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ہے یعنی آیت میں لمبائی اور چوڑائی میںبرابری کو بیان نہیں کیا گیا ہے کہ جو کبھی کبھی ایک شخص کے کامل بازو کو شامل ہو جاتی ہے)۱۔ بدن کا گہرا زخم جس پر قصاص نہیں فقط دیت ہے-۲۔ ہڈی کا ٹوٹ کر اپنی جگہ سے ہٹ جان-۳۔ وہ زخم جو ہڈی سے گذر کر مغز تک پہنچ جائے-۴۔ سور صورت کا زخم جس قصاص کیا جاسگتا ہے-۵۔ معمولی زخم جو گوشت تک پہنچ جائے اور خون جاری ہوجائے-۶۔ دامیہ سے کچھ زیادہ گہرا زخم-۷۔ وہ زخم جو ہڈی کی جھلّی تک پہنچ جائے-قسّامہ (قسم اور قسم کھانے والوں کی تعداد نیز مخصوص طریقہ سے قسم کھانے کے ذریعہ، قتل کے دعوے کو ثابت کرنا)