بندہٴ ناچیز ذاتی گھر نہ ہونے کی وجہ سے ( رنج و مقشت میں گرفتار ہے اور بینک ( یا کسی شخص ) سے قرض لئے بغیر ، گھر خریدنے کی ، قدرت نہیں ہے لہٰذا بینک (یا کسی شخص)سے قرض، لیکر میں نے ایک گھر خریدا ہے اس صورت حال میں پہلے تو یہ کہ میرا خمسی سال آنے پر میرے پاس ضروریات کے بعد جو باقی کچھ بچے گا کیا اس پر خمس واجب ہے ؟ اور دوسرے یہ کہ بینک یا شخصی ، قسطیں ، جمع کرتے وقت کیا آپ ان قسطوں کی رقم پرخمس کو واجب جانتے ہیں ؟
جواب:۔ قسطوں پر خمس واجب نہیں ہے ، ہاں اگر تمہارے پاس قسطوں کے علاوہ مزید کچھ باقی ہو تو اس پر خمس واجب ہے ۔
مدرسہ کے امکانات سے ذاتی فایدہ اٹھانا
مدرسہ کے امکانات سے تحصیلی امور کے لیے پرنسپل کی اجازت سے ذاتی فایدہ اٹھانے کا کیا حکم ہے؟ کسی چیز کا نقصان ہونے کی صورت میں اس کے پیسے ادا کر دینے سے ذمہ بری ہو جائے گا؟
اگر اسکول کا پرنسپل قانون کے مطابق اجازت دے تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر وہ کہے کہ یہ قانون کے مطابق ہے تو اس کا یہ کہنا کافی ہے۔
اُس پیسے پر خمس جو بیمہ کمپنی میں جمع کیا گیاہے
وہ رقم جو چند سالوں کے اندر بیمہ شدہ شخص بیمہ کمپنی کو ادا کرتا ہے اور بعد میں تدریجاً اُسے وہ رقم ماہانہ تنخواہ کے عنوان سے دی جاتی ہے، کیا اس پر خمس ہے؟
اس پر خمس نہیں ہے؛ مگریہ کہ کچھ رقم اس کے سال بھر کے خرج سے بچ جائے ۔
ایسا لباس پہننا جس پر اللہ لکھا ہو
آج کل ایسے لباس بازار میں آ گئے ہیں جن پر اسم جلالہ اللہ لکھا ہوا ہے، اس لباس کے پہننے کا کیا حکم ہے؟ اسے پہننے والے کا وظیفہ کیا ہے؟
اگر وہ ایسی جگہ نہ لکھا ہو جہاں لکھنا بے احترامی کا باعث ہو تو کویء حرج نہیں ہے۔ البتہ اسے اس بات کا خیال رکھنا پڑے گا کہ بغیر وضو اس جگہ کو نہ چھوئے اور اسے نجس نہ کرے۔
مقروض کا جیل میں بند ہونے کی وجہ سے، اپنا نقصان وصول کرنا
چنانچہ ، مقروض آدمی ،دیوالیہ ہوجانے کی وجہ سے راضی ہوجائیں یہاں تک کہ اپنا رہائیشی مکان اور اپنے کارو بار کی جگہ ( دکان وغیرہ کو بھی) موجود ہ قیمت میں اپنے قرض خواہوں کو دے دیں ، لیکن قرض خواہان فقط نقد پیسہ لینا چاہتے ہوں اور مقروض کو جیل بھجوا دیں ، آیا اس مدت میں کہ جس میں وہ قید تھا ، اور اس کا وقت برباد ہوا ہے ، اس وجہ سے کیا اس کوقرض خواہوں پر کچھ حق حاصل ہوجاتا ہے کہ اس صورت میں کیا وہ ان لوگوں کے قرض میں سے کچھ کم کرسکتا ہے ؟
مسئلہ کے فرض میں ، وہ شریعت کی رو سے اپنے نقصان کو قرض خواہوں سے نہیں لے سکتا۔
مقتول کو واجب القتل ہونے کے اعتقاد کی وجہ سے قتل کرنا
اگر کوئی شخص اس اعتقاد کے ساتھ کہ ایک شخص بعض اعمال کے ارتکاب یا بعض عقائد کے رکھنے کی وجہ سے واجب القتل ہے اس کے قتل کا اقدام کرے حالانکہ شرعا ایسے اعمال یا عقائد مجوّزِ قتل نہیں ہوتے تو حضور فرمائیں واقع شدہ قتل کس نوع کا قتل ہے؟
جواب : سوال کے فرضمیں یہ قتل شبہ عمد شمار ہوگا۔
جس باغ کو مخمس مال سے خریدا گیاہے
اگر اس رقم سے جس کا خمس ادا کردیا گیا ہو، باغ خرید لیا گیا ہو تو کیا اس باغ پر بھی خمس واجب ہے ؟
جواب:۔ باغ پر خمس نہیں ہے لیکن اس کے پھلوں پر خمس ہے اور جب باغ کو فروخت کیا جائے تو خرید کی قیمت سے ، اگر زیادہ قیمت میں فروخت ہو جائے تو اضافی رقم پر خمس واجب ہے ۔
شریعت کی نظر میں دکانداری اور پیشہ کا حق دریافت کرنا
دور حاضر میں، دکانداری اور پیشہ کے حق کے نام سے جو حق پیش کیا جاتا ہے اور عدالت بھی اسی عنوان کے تحت کرایہ داروں کے لئے کچھ رقم دینے پر، مالکوں کومجبور کرتی ہے، کیا یہ حق شرعاً جائز ہے؟
اس کے شرعاً جائز ہونے پر کوئی دلیل نہیں ہے اگرچہ بہتر یہ ہے کہ طرفین آپس میں صلح ومصالحت کریں ۔
جو شخص بیماری کی وجہ سے اعمال بجا لانے میں قادرنہیں ہے
اس شخص کا وظیفہ کیا ہے جوبیماری یا سی طرح کی دیگر وجوہات کی بناپر منیٰ کے اعمال یاطواف، سعی اور مکہ کے اعمال بجالانے پر قادر نہیں ہے ؟
جواب :۔ یہ شخص محصور کے حکم میں ہے لیکن اگر کسی کو نائب بنا سکتا ہے تو یہ کام حج کے اعادہ کے لئے کفایت کرے گا آئندہ سال دوبارہ حج کرنا لازم نہیں ہے ۔
خریدار کا فروخت شدہ چیز کا لینے نہ آنا
ایک شخص نے اپنی کوئی چیز فروخت کی اور اس چیز کو الگ کر کے اس کی حفاظت کرتا ہے لیکن ابھی تک خریدار کو کوئی خبر نہیں ہے اب جبکہ اس چیز کو بنانے کی کیفیت میں خاص ظرافت کا لحاظ رکھا گیا ہے اسکے باوجود اس چیز کے سلسلہ میں بیچنے والے کا کیا وظیفہ ہے (اور اگر اس کی قیمت پہلے ہی لے لی ہو تو کیا وظیفہ ہے )؟
جواب۔ جب بھی کوئی خریدار تین دن تک اس جنس کی قیمت نہ لیکر آئے جسکی نقد خریداری کی ہے تو بیچنے والے کو معالہ کے فسخ کرنے کا حق ہے اور اگر اس کی قیمت اداد کر دی ہو تو وہ چیز آپکے پاس امانت ہے
خسارت کو پورا کرنے میں متعدد اسباب کا ضامن ہونا
ضمان کے اسباب کے میزان کے بارے میں نیچے دئےے گئے دوسوالوں کے جواب عنایت فرمائیں:۱۔ جب بھی چند سبب، مختلف فاصلہ زمانی میں کسی شخص پر مالی یا معنوی یا مادی خسارت کا باعث ہوں ، فقہی نقطہ نظر سے اصلی ذمہ دار کو پہچان کرنے اور خسارت پورا کرنے کا کیا را حل ہے؟۲۔ جب بھی چند سبب، ایک ہی فاصلہ زمانی میں کسی شخص پر معنوی یا مادی خسارت کا باعث ہوں، ان میں سے کون ذمہ دار ہوگا اور ذمہ داری ان کے درمیان کس طرح سے تقسیم ہوگی؟
۱۔۲:ہر ایک سبب جس مقدار میں بھی حادثہ کے وجود میں آنے میں موثر واقع ہو ا ہو اسی مقدار ضامن بھی ہے اور اس صورت میں جب تاثیر کی مقدار معین نہ ہوتو پہلے مورد اطمینان ماہر کی طرف رجوع کیا جائے گا، اگر پھر بھی مشخص نہ ہوسکے، خسارت کو ان کے درمیان بطور مساوی تقسیم کیا جائے گا۔
سگریٹ نوشی کا حکم
سگریٹ نوشی شروع کرنے یا پینے والوں کے عادی ہو جانے کا اس بات کے مد نظر کہ اس کا ترک کرنا ان نے لیے آسان یا مشکل ہے، کیا حکم ہے؟
سگریٹ اور تمام نشہ آور مواد کا استعمال حرام ہے، اگر اس بات کے پیش نظر کہ ان کا ترک کرنا تمام عادت کے شکار لوگوں کے لیے ممکن ہے لہذا اس میں اضطرار کا تصور نہیں ہے مگر یہ کہ ماہر اور دانا طبیب کسی کو خاص اس کا حکم دے اور اس مسئلہ میں نئے شروع کرنے والوں اور پرانے پینے والوں میں کوئی حرج نہیں ہے۔

