دل سے ايمان لانا
مسئلہ 227۔ کافر اگر زبان سے کلمہ نہ پڑھے لیکن دل سے اس کے معنی پر ایمان رکھتا ہو تو مسلمان ہے لیکن اگر زبان سے تو کلمہ پڑھے مگر معلوم ہو کہ یہ دل سے ایمان نہیں رکھتا تو بناء بر احتیاط واجب اس سے اجتناب کرنا چاہئے۔
مسئلہ 227۔ کافر اگر زبان سے کلمہ نہ پڑھے لیکن دل سے اس کے معنی پر ایمان رکھتا ہو تو مسلمان ہے لیکن اگر زبان سے تو کلمہ پڑھے مگر معلوم ہو کہ یہ دل سے ایمان نہیں رکھتا تو بناء بر احتیاط واجب اس سے اجتناب کرنا چاہئے۔
مسئلہ 229 : اگر شراب سرکہ بن جائے توجہاں تک شراب یا انگور جوش کھاتے ہوئے برتن میں لگا ہے وہ بھی ضمنا پاک ہوجائے گا اور اگر ڈھکّن تک رطوبت پہونچی ہے تو سرکہ بننے کے بعد وہ ڈھکّن بھی پاک ہوجائے گا۔ لیکن اگر جوش کھاتے وقت برتن سے نکل کر اس کی پشت پر لگ جائے تو سرکہ ہونے کے بعد برتن کی پشت پاک نہیں ہوگی۔
مسئلہ 230 : کفار کے نابالغ بچے اپنے باپ کے مسلمان ہوتے ہي پاک ہوجاتے ہيں.
مسئلہ 235 : اگر انسان کے جسم کا اندرونی حصہ(جیسے منہ کا یا ناک اندرونی حصہ)نجس ہوجائے تو نجاست کے دور ہوتے ہی وہ پاک ہوجاتا ہے مثلا اگر مسوڑھے سے خون آجائے اور لعاب دہن میں مل کرختم ہوجائے یا خون باہر تھوک دے تو منہ کے اندرونی حصے کاپاک کرنا ضروری نہیں ہے اور منھ و غيره کے اندر نجاست مل جانے سے کوئی چیز نجس نهيں هوتی اس بنا پر اگر منہ میں مصنوعی دانت لگے ہوں تو ان کوپاک کرنا ضروری نہیں ہے۔
مسئلہ 236 : اگر منہ يا دانتوں ميں غذا باقي رہ جائے اور منہ کے اندر خون آجائے اور يہ معلوم نہ ہو کہ غذا ميں خون لگا ہے کہ نہيں تو وہ غذا پاک ہے اور خون غذا کو لگ جائے تو نجس ہے اور اس غذا کا کھانا حرام ہے.
مسئلہ 238 : اگر بدن، لباس، فروش یا اسی طرح کی کسی چیز پرنجس گردو غبار بیٹھ جائے او ردونوں خشک ہوں تو نجس نہیں ہوں گے صرف ان کو جھاڑ دینا کافی ہے اسی طرح اگر رطوبت سرایت کرنے والی نہ ہو لیکن اگر ان میں سے کوئی ایک تر ہو تونجس ہوجائے گااور اگر گردو غبار کی نجاست یا رطوبت کی جگہ میں شک ہو توپاک ہے ۔
مسئلہ 243 : اگر دو عادل يا ايک شخص کسي نجس چيز کے پاک ہوجانے کي خبر ديں تو ان کي گواہي مان ليني چاہئے اسي طرح اگرصاحب يد پاک ہونے کي خبر دے تو اس کو بھي قبول کرلينا چاہئے يا يہ تو معلوم ہو کہ مسلمان نے اس کو پاک کيا ہے ليکن پتہ نہيں درست پاک کيا ہے کہ نہيں تب بھي پاک ہے.
مسئلہ 244 : اگر انسان اپنا لباس مسلمان لانڈری میں دے کر کہے کہ اس کو دھو دیجئے اور پاک کردیجئے تو لانڈری والے کا قول قبول کرلینا چاہئے[یعنی اگر وہ کہے کہ پاک کر دیا ہے تو اسکی بات کو مان لینا چاہئے ]۔
مسئلہ 245 : جو لوگ وسوسہ کرتے ہيں اور کسي بھي چيز کے نجس ہونے کا جلدي سے يقين کرليتے ہيں يا کپڑا دھوتے وقت اس کے پاک ہونے کا جلدي سے يقين نہيں کرتے ان کے يقين کا اعتبار نہيں ہے ان کو دوسروں کے طريقہ يقين پر قناعت کرلينا کافي ہے.
مسئلہ ۲۴۶ : مردار یا نجس العین (جیسے کتا، سور)کی کھال سے بنایا جانے والا برتن یا مشک کا استعمال کھانے، پینے یا وضو، غسل کرنے میں جائز نہیں ہے۔ لیکن جن کاموں میں طہارت شرط نہیں ہے ” جیسے کھیتوں کی سینچائی، جانوروں کو پانی پلانا وغیرہ میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لیکن احتیاط مستحب ہے کہ کسی قسم کا استعمال نہ کیا جائے۔
مسئلہ ۲۴۷ : سونے، چاندی کے برتن میں کھانا، پینا یا ان کا استعمال کرنا حرام ہے بلکہ ان چیزوں سے کمروں کو سجانا یا اور کوئی استفادہ کرنا بھی(بناء بر احتیاط واجب) جائز نہیں ہے۔
مسئلہ 250 : جس برتن پر سونے يا چاندي کے پاني کي ملمع کاري ہو اس (کے استعمال) ميں کوئي حرج نہيں ہے.