ّپاني کا رنگ بو ذائقه بدل جائے
مسئلہ ۵۹ : جس پانی کا رنگ، بو یا ذائقہ نجاست کی وجہ سے بدلا ہو اگر اس کا رنگ ، بو یا ذائقہ خود بخود ختم ہوجائے تو وہ پانی پاک نہیں ہوگا ہاں اگر کُر ، جاری یا بارش کے پانی سے مخلوط ہوجائے توپاک ہوجائے گا۔
مسئلہ ۵۹ : جس پانی کا رنگ، بو یا ذائقہ نجاست کی وجہ سے بدلا ہو اگر اس کا رنگ ، بو یا ذائقہ خود بخود ختم ہوجائے تو وہ پانی پاک نہیں ہوگا ہاں اگر کُر ، جاری یا بارش کے پانی سے مخلوط ہوجائے توپاک ہوجائے گا۔
مسئلہ۵۸: اگرعین نجس کے قریب ہونے کی وجہ سے پانی میں اس نجاست کی بوآجائے تووہ پانی نجس نہیں ہوگا۔ (ہاں اگرعین نجس پانی میں گرجائے تو نجس ہوجائے گا،پهر بهی اس سے اجتناب بهتر هے،
مسئلہ۵۶:جوپانی مطلق تھااب اگرشک ہوجائے کہ مضاف ہوگیاہے یانہیں؟ جیسے سیلاب کا پانی کہ معلوم نہیں کہ اس کوپانی کہتے ہیں یا نہیں؟تووہ مطلق پانی کاحکم رکھتاہے،یعنی اس سے نجس چیزوں کو پاک کیاجاسکتاہے اوراس سے وضووغسل بھی کیاجاسکتاہے،اسی طرح اگرمضاف پانی کے بارے میں شک ہوجائے کہ مطلق پانی ہوا ہے کہ نہیں تووہ مضاف پانی کے حکم میں ہے ۔
مسئلہ ۵۷ : جس پانی کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ مطلق ہے یا مضاف اور پہلے کی حالت بھی معلوم نہ ہو تو وہ نجس چیز کو پاک نہیں کرسکتا اور اس سے وضو و غسل بھی باطل ہے۔ لیکن اگر کوئی نجس چیز اس سے متصل ہوجائے تووہ پانی نجس نہیں ہوگا۔
مسئلہ64: شرمگاه كوہرچيزسےچھپاياجاياسكتاہےيہاں تك كہ ہاتھ اورمٹیالے پانی سے بھی سے بهى چھپانا صحيح ہے.
مسئلہ66: پيشاب و پاخانہ کےمقام کو دھوتے وقت اور استبراء کرتے وقت روبہ قبلہ ياپشت بہ قبلہ ہونےميں کوئى حرج نهيں ہے,ليکن استبراء کرتے وقت احتياط واجب ہےکہ روبہ قبلہ ياپشت بہ قبلہ نہ ہو.
مسئلہ67 : احتياط واجب ہےكہ بڑےلوگ پيشاب ياپاخانہ كےلئے بچوں كوروبہ قبلہ ياپشت بہ قبله نہ بٹھائيں,ليكن اگربچہ خودہى بيٹه جائیں تورركنا واجب نهيں ہے.مگر بہتر ہے۔
مسئلہ 68: جن گھروں ميں کھڈياں يا فلش رو بقبلہ يا پشت بقبلہ بنے ہوں خواہ جان بوجھ کر بنائے ہوں يا غلطي سے يا مسئلہ نہ جاننے کي وجہ سے ہو اس پر رفع حاجت کے لئے اس طرح بيٹھنا چاہئے کہ رو بقبلہ يا پشت بقبلہ نہ ہوں ورنہ حرام ہے.
مسئلہ 69 : اگر قبلہ معلوم نہ ہو تو معلوم کرنا چاہئے اور اگر معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں تو اگر صبر کرسکتا ہے تو صبر کرنا چاہئے لیکن اگر بہت ضروری ہے تو جس طرف بھی بیٹھے کوئی حرج نہیں ہے۔ ریلوں اور ہوائی جہازوں میں بھی اسی قاعدے پر عمل کرنا چاہئے۔
مسئلہ 72 : جن صورتوں ميں پاني کے علاوہ دوسري چيزوں سے پاخانے کے مقام کو صاف کيا جاسکتا ہے ان صورتوں ميں بھي پاني سے دھونا بہتر ہے.
مسئلہ 74 : پيشاب و پاخانہ کے مقام کو دھونے ميں فطري وغير فطري مقام ميں کوئي فرق نہيں ہے البتہ پيشاب و پاخانے کے غير فطري مقام ميں صرف پاني ہي سے طہارت کي جاسکتي ہے.
مسئلہ 75 : اگر پاخانے کے مقام کو پتھر کے تين ٹکڑوں يا کاغذ وغيرہ سے صاف کريں اور اس ميں ايسے چھوٹے چھوٹے ذرات موجود ہوں جو عادتا پاني کے علاوہ کسي اور چيز سے دور نہيں ہوتے تو کوئي حرج نہيں ہے اس سے نماز پڑھي جاسکتي ہے.