روزه
مسئلہ ۱۳۱۴ : ہر سال تمام مکلف افراد پر رمضان المبارک کے مہینے کے روزے واجب ہیں۔
مسئلہ ۱۳۱۴ : ہر سال تمام مکلف افراد پر رمضان المبارک کے مہینے کے روزے واجب ہیں۔
مسئلہ ۱۴۷۴: خمس سا ت چیزوں پر واجب ہوتا ہے۔۱۔۔۔کار روبار کے منافع۔۲۔۔معادن (کا نیں)۔۳۔۔ خزانے۔۴۔۔ حلال مال جو حرام مال میں مخلوط ہوجائے۔۵۔۔۔در یا میں غوطہ خوری کے ذریعہ حاصل ہونے وا لے جواہرات ۔۶۔۔۔ جنگ کا مال غنیمت۔۷۔۔۔ جوز مین مسلمان سے کا فرذ می خریدے (بناء بر احتیاط واجب)
1586: نو (9) چيزوں ميں زکوة واجب ہے .1گہوں .2جو .3خرما .4انگور .5سونا.6چاندي .7بھيڑ .8گائے (بھينس )9اونٹ .اگر کوئي شخص ان نو چيزوں ميں سے کسي ايک کا مالک ہے تو بعد ميں بيان کئے جانے والے شرائط کے ساتھ ايک معين مقدار (اتندہ بيان کئے جانے والے مسائل ميں ) ان مصارف ميں خرچ کرے جوبيان کئے جائيں گے ليکن مستحب ہے کہ سرمايہ کار وبار ملازمت اور تجارت سے بھي ہر سال زکوة ديں اسي طرح (گيہو ں ،جَو ،کھجور،کشمش کے علاوہ ) تمام غلوں زکوة مستحب ہے.
مسئلہ 1733: حج کا مطلب خانہ ي خدا کي زيارت اور ايسے اعمال کے بجالانے کا نام ہے جس کو (مناسک حج) کہاجا تا ہے تمام ان لوگوں پر جو درج ذيل شرائط کے مالک ہوں عمر ميں ايک مرتبہ حج کرنا واجب ہے.1 بالغ ہوں2 عاقل ہوں3 حج کرنے سے کوئي ايسا عمل نہ ترک ہو رہاہو جو حج سے زيادہ اہم ہو يا ايسے حرام کام ارتکاب نہ ہو رہا ہو جس کي اہميت شريعت کي نظر ميں زيادہ ہو.4 مستطيع ہوں.1. ر استے کا خرچ اور جن چيزوں کي حج کے سفر ميں ضرورت ہوتي ہو اس کا مالک ہواس طرح سواري جس کي ضرورت ہو يا اتنا مال ہو جس کے ذريعہ ان چيزوں کو حاصل کرسکتا ہو.2. راستہ ميں کوئي مانع نہ ہو کوئي خطرہ نہ ہو اپنے مال و ابرو و جان کے لئے ضرر نہ ہو اس لئے اگر راہ بند ہو يا کوئي خطرہ ہو تو حج واجب نہ ہوگا ليکن اگر دوسرا راستہ ہوچاہے دور کاہو تو اس سے حج بجالانے کي جسماني طاقت ہو.3 مناسک حج بجالانے کي جسماني طاقت ہو 4 مکہ مکرمہ پہونچنے اور اعمال حج بجالانے کے لئے کافي وقت ہو.5 جن لوگوں کا شرعا يا عرفا خرچ لازم ہو ان کے مصارف رکھتا ہو.6 مال يا تجارت يا کوئي بھي ايسا ذريعہ رکھتا ہو جس سے واپسي کے بعد اپني زندگي بسر کرسکے.
مسئلہ 170: نجس برتن کو قلیل پانی میں تین مرتبہ دھونا چاہئے لیکن کر یا جاری پانی میں صرف ایک مرتبہ دھونا کافی ہے۔ اگرچہ تین مرتبہ دھونا بہتر ہے۔ (نل کا پانی جاری پانی کے حکم میں ہے)
مسئلہ 171 : اگر کتا کسی برتن کو چاٹ لے یااس سے پانی یا کوئی دوسری سیال چیزپی لے تو پہلے اس کو پاک مٹی سے جس میں تھوڑا پانی ملا ہو، مانجھنا چاہئے اس کے بعد دو مرتبہ قلیل پانی سے یا ایک مرتبہ کر یا جاری پانی سے دھوئیں اور اگر کتے کالعاب دہن کسی برتن میں گر گیا ہو تب بھی احتیاط مستحب یہی ہے کہ اسی طرح پاک کریں۔ لیکن اگر کتے کے بدن کا کوئی اور حصہ رطوبت کے ساتھ کسی برتن سے لگ جائے تو مٹی سے مانجھنا واجب نہیں ہے۔ بلکہ قلیل پانی سے تین مرتبہ اور کر یا جاری سے ایک مرتبہ دھو لینا چاہئے۔
مسئلہ 175 : نجس مٹی سے بنے ہوئے کوزے کو یااگر کسی کوزے میں نجس پانی سرایت کرگیا ہو تواس کو جاری یا کرپانی میں رکھ دیں تو اگر پانی اس کے اندرونی حصے میں پہنچ کر باہر نکل جائے تو وہ پاک ہوجاتاہے۔ لیکن اگر پانی اندر نہیں پہنچتا تو صرف ظاہری حصہ پاک ہوگا اور ظاہری حصے کو قلیل پانی سے بھی پاک کیا جاسکتا ہے۔
مسئلہ 178 : نجس دھات کو دھونے سے اس کا ظاہری حصہ پاک ہوجاتاہے خواہ پگھلاتے وقت اس کے اندرونی حصے نجس ہوگئے ہوں۔
مسئلہ 179: نجس تنور کو پاک کرنے کے لئے اگر اوپر سے اس میں اس طرح پانی ڈالیں کہ ہر جگہ پہنچ جائے تو کافی ہے۔ ہاں اگر پیشاب سے نجس ہواہے توایسا دو مرتبہ کرنا چاہئے او ربہتر ہے کہ اس کے نیچے ایک گڑھا کھود دیں تاکہ پانی اس میں جمع ہوجائے پھر پانی کو نکال کر دوبارہ گڑھے کو پاک مٹی سے بھردیں۔
مسئلہ 180 : اگر نجس چیز کو کر، جاری یا نل کے پانی سے دھوئیں تاکہ عین نجاست دور ہوجائے یا عین نجاست کو دور کرنے کے بعد جاری یا کر پانی میں ڈبو دیں تو پاک ہوجائے گا۔ لیکن فرش یا لباس وغیرہ کو نچوڑ نا یا جھٹکنا ضروری ہے تاکہ اس کا پانی نکل جائے۔
مسئلہ 181 : نجس چيز کوپاک کرنے کے لئے ايک مرتبه دھونا کافي هے چاهے پيشاب سے نجس هوئي هو يا اسکے علاوه کسی اور چيز سے ، چاهے کُر پاني سے پاک کريں يا قليل پاني سے ليکن اگر پيشاب سے نجس هوئي هے تو بهترهے که قليل پاني سے دو مرتبه دھوئيں۔
مسئلہ 183 : اگر کوئی چیز ایسے دودھ پیتے بچہ یابچی کے پیشاب سے نجس ہوجائے جوابھی کھانا نہیں کھاتا تو اس پر ایک مرتبہ پانی ڈالنے سے وہ چیز پاک ہوجائے گی اور اگر لباس اور بچھونے وغیرہ ہو تو اسکو نچوڑنا ضروری نہیں ہے۔ لیکن احتیاط مستحب ہے کہ دو مرتبہ پانی ڈالیں۔