گلے يا ناک سے نکلنے والا بلغم اگر خون کے ساته مخلوط هو
مسئلہ ۱۵۰ : گلے یا ناک سے جو سودا، بلغم، صفرا باہر آتے ہیں اگر وہ غلیظ ہوں اور اس میں کسی جگہ ذرا سا خون بھی ہو تو وہی جگہ نجس ہے اور اگر وہ بہنے والا ہو تو سب نجس ہے۔
مسئلہ ۱۵۰ : گلے یا ناک سے جو سودا، بلغم، صفرا باہر آتے ہیں اگر وہ غلیظ ہوں اور اس میں کسی جگہ ذرا سا خون بھی ہو تو وہی جگہ نجس ہے اور اگر وہ بہنے والا ہو تو سب نجس ہے۔
مسئلہ ۱۵۱ : اگر کسی ایسے برتن کو جس کے نیچے سوراخ ہو نجس زمین پر رکھ دیں تو اگر پانی تیزی کے ساتھ اس سے نکل رہا ہو تو برتن کا اندرونی حصہ نجس نہیں ہوگا۔
مسئلہ ۱۵۲ : اگر کوئي چيز جيسے سوئي بدن کے اندر کسي نجاست (جيسے خون) سے لگ جائے تو اگر باهر نکالتے وقت خون سے سني هوئي نه هو تو نجس نهيں هے. اسي طرح سے بلغم يا تھوک اگر منھ يا ناک کے اندر خون سے مل جائے تو نجس نهيں هونگے۔
مسئلہ 153 : اگر کوئي چيز نجس ہوجائے مثلاہاتھ پر پيشاب لگ جائے تو اگر گيلے ہاتھ سے کسي پاک چيز کو پکڑيں تو وہ چيز بھي نجس ہوجائے گي.
مسئلہ 155 :نجس چيز بيچنے ياعارية (ادھار) دينے ميں کوئي حرج نہيں ہے اور اطلاع دينا بھي ضروري نہيں ہے ليکن اگر يہ معلوم ہو کہ خريدار اس کو کھانے پينے نماز يااس جيسي چيزوں ميں استعمال کرے گا تو ايسي صورت ميں احتياط واجب يہ ہے کہ مطلع کردے اسي طرح اگر ادھار لينے والے کے يہاں نجس ہوجائے تو پلٹاتے وقت ايسي صورت ہي ميں بتانا ضروري ہے.
مسئلہ 157 : اگر ميزبان کھاتے وقت متوجہ ہوجائے کہ کھانا نجس ہے تو بناء بر احتياط مہمانوں کو بتا دينا چاہئے ليکن اگر کوئي ايک مہمان اس بات کي طرف متوجہ ہوجائے تواس کے لئے ضروري نہيں ہے کہ دوسروں کو بتائے بلکہ صرف خود اس کواجتناب کرنا چاہئے.
مسئلہ ۱۶۱ : کافر کے ہاتھ میں قرآن دینا اگر بے احترامی کا باعث ہو تو حرام ہے اور اگر اس کی ہدایت یا اسلام کی تبلیغ کے لئے ہو تو جائز ہے بلکہ کبھی واجب ہے۔
مسئلہ 163 : قرآن کے ورق کا پاک کرنا صرف اسي شخص کافريضہ نہيں ہے جس نےاس کو نجس کيا ہے بلکہ جس کے بھي علم ميں ہو اسي کا فريضہ ہے کہ پاک کرے اور اگر ايک شخص بھي اس فريضہ کو انجام ديدے تودوسروں سے ساقط ہوجائے گا? ليکن اگر قرآن دوسرے کي ملکيت ہے اور دھونے سے ختم ہوجائے گا يا خراب ہوجائے گا تو جس نے اس کو نجس کيا ہے اس کو چاہئے کہ مالک کے خسارہ کو ادا کرے.
مسئلہ 172 : اگر کتے نے کسي ايسے برتن ميں منہ مارا ہو کہ جس کا دہانہ چھوٹا ہو اور اسے مٹي سے مانجھا نہ جا سکتا ہو تو يک لکڑي پہ کپڑا لپيٹ کر اس ميں مٹي اور پاني ملا کر اس سے مليں اور اگر يہ بھي ممکن نہ ہو تو اس برتن ميں تھوڑي سي مٹي اور تھوڑا سا پاني ڈال کر ہلائيں اس کے بعد جيسا کہ اوپر کہاگيا ہے اسي طرح پاک کريں.
مسئلہ 174 : جو برتن شراب سے نجس ہو گیا ہے چاہئے کہ اسے تین مرتبہ قلیل پانی سے دھوئیں اور ہاتھ سے بھی ملیں اور سات مرتبہ دھونا مستحب ہے ليکن اگر کر، جاري پاني يا نل سے دھليں تو ايک مرتبه کافي هے اور هاتھ سے ملنا بھي ضرورت نهيں هے۔
مسئلہ 176 : قلیل پانی سے برتن پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کو تین مرتبہ قلیل پانی سےبھر کر خالی کردیں یا ہر مرتبہ اس میں تھوڑا سا پانی ڈال کر اس طرح ہلائیں کہ پانی ہر نجس جگہ تک پہنچ جائے پھر اس کو پھینک دیں۔
مسئلہ 177 : دیگ اور بڑے پتیلوں کوتین مرتبہ پانی سے بھر کر خالی کردینے سے یہ برتن پاک ہوجاتے ہیں اور سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ اوپر سے چاروں طرف اس طرح پانی ڈالیں کہ پانی ہر طرف پہنچ جائے پھر جو پانی اسکی تہہ میں جمع ہو گیا ہے اس کو پھینک دیں۔ (اسی طرح تین دفعہ کریں) اور جس برتن سے پانی نکال کر باہر پھینکا گیا ہے اس کو ہر مرتبہ دھولیا کریں۔