خمس اور زکات کے مال کے منافع ميں خمس ہے
مسئلہ 1480: اگر اصل مال سے خمس ادا نہ کيا ہو اور کوئي چيز خريد ے تو خمس کي مقدار کے برابر معاملہ باطل ہے البتہ اگر حاکم شرع اجازت ديدے تو اس خريدي ہوئي چيز کا 5/1 حاکم شرع کودے.
مسئلہ 1480: اگر اصل مال سے خمس ادا نہ کيا ہو اور کوئي چيز خريد ے تو خمس کي مقدار کے برابر معاملہ باطل ہے البتہ اگر حاکم شرع اجازت ديدے تو اس خريدي ہوئي چيز کا 5/1 حاکم شرع کودے.
مسئلہ 1482:اگر کوئي ايسا مال خريدے جس کا خمس نہ ديا ہو تو خمس کي مقدار کے برابر معاملہ باطل ہے البتہ اگر حاکم شرع اجازت ديدے تو صحيح ہے اور ايسي صورت ميں معاملہ والي رقم کا خمس حاکم شرع کو دينا ہوگا اور اگر بچنے والے کو دياہے تو اس سے لے کر حاکم شرع کودے.
مسئلہ 1481:اگر کسي چيزي کو ذمہ خريدے ليکن اس کي قيمت معاملہ کے بعد اس رقم سے ادا کرے جس کا خمس نہيں دياگيا ہے تو معاملہ صحيح ہے او اس چيز ميں تمام تصرفات بھي صحيح ہيں ليکن چونکہ قيمت اس رقم سے دي تھي جس کا خمس ادا نہيں کياتھا اس لئے بمقدار خمس رقم کار مقروض رہے گا اور اگر اتني رقم بچنے والے کے پاس موجود، ہو تو حاکم شرع اس رقم کولے لے گا اور گروہ رقم باقي نہيں ہے تو حاکم شرع خريدار يا بچنے والے سے (کسي سے بھي) مطالبہ کرسکتا ہے.
مسئلہ 1483: جس چيز کا خمس نہ ديا ہو اگر کسي کو کوئي بخش دے تو اس چيز کے خمس کا مالک وہ نہيں ہوگا.
مسئلہ 1484: کافر يا ايسے شخص سے جو خمس کا عقيدہ نہيں رکھتا کوئي مال تجارت و غيرہ سے،، کسي کے پاس اے تو اس کا خمس وجب نہيں ہے ليکن اگر خمس کا عقيدہ تو رکھتا ہو مگر خمس نہ ديا ہو و اس کا خمس دينا واجب ہے.
مسئلہ 1485: اگر کسي کے بارے ميں اجمالا معلوم ہو کہ خمس کا عقيدہ رکھتا ہے مگر خمس نہيں ديتا ليکن يہ نہ معلوم ہو کہ جو مال ہم کوديا ہے اس سے خمس متعلق ہوا ہے يا نہيں مثلا ميراث سے اس کو کچھ مال ملا ہو يا قرض ليا ہو اور احتمال بھي ہو کہ ہوسکتا ہے يہ مال انھيں اموال ميں سے ہو جس کا خمس نہيں ديا گيا پھر بھي اس مال ميں تصرف کرنا جائز ہے اور اس کا خمس واجب نہيں ہے اسي طرح ايسے لوگوں کي طرف سے دعوت قبول کرنا اور ان کے گھر ميں نماز پڑھنا بھي جائز ہے البتہ اگر علم ہو کہ جو کھانا ہم کو پيش کيا جارہا ہے يا اس کا گھر اس مال سے تيار کيا گياہے کہ جس کا خمس ادا نہيں کيا ہے تو پھر اس ميں تصرف جائز نہيں ہے.
مسئلہ 1486: ہر شخص کا خمس کے لئے اغاز سال وہي ہے جب اسکو امدني حاصل ہو وہي اس کے خمس کا اول سال ہے ابتدا ئے سال کو قصد و نيت کے ذريعہ مقدم يا موخر نہيں کياجا سکتا اور اگر کوئي اول سال کو مقدم ہي کرنا چاہتا ہے تو اس کا طريقہ يہ ہے کہ اپنے سال کا حساب وقت معين سے پہلے کرے اور اس کا خمس ديدے تو وہي اول سال ہوجائے گا.
مسئلہ 1487: انسان کو سال کے در ميان جب نفع حاصل ہو تو اس وقت بھي خمس دے سکتاہے اور اخر سال تک موخر بھي کرسکتا ہے تا کہ جن اخراجات کا احتمال ہو وہ بھي اس سے وضع کرسکے.
مسئلہ 1488: خمس دينے کے لئے شمسي يا قمري سال معين کرسکتا ہے.
مسئلہ 1489: جس کے پاس اضافي امدني نہ ہو اس کے لئے خمس کا سال معين کرتابھي لازم نہيں ہے.
مسئلہ 1490: اگر کوئي خمس دينے کے لئے سال کي مدت معين کرے اور سال کے دوران مرجائے تو مرتے وقت تک کے اخراجات کو اس کي امدني سے کم کرکے باقي ماندہ کا خمس ديد يا جائے.
مسئلہ 1491: اگر تجارت کے لئے خريدي ہوئي چيز کي قيمت چڑھ جائے اور وہ تجارتي اور امدني کے اعتبار سے اس چيز کو نہ بيچے اور پھر سال کے در ميان اسي چيز کي قيمت گرجائے تو جتني قيمت چڑھ گئے تھي اس چڑھي ہوئي قيمت کي مقدار کا خمس واجب نہ ہوگا ليکن اگر چڑھي ہوئي قيمت اخر سال تک اسي طرح رہے تو اسل کے شروع ميں اس کا خمس نکال دے چاہے سال گزر نے کے بعد اس چيز کي قيمت گرجائے اور يہ اس صورت ميں ہے جب اس کے فروخت کا وقت اخر سال ہو اور اپني خواہش سے اس کو محفو ظ رکھا ہو.