بارش کا پاني
مسئلہ ۴۱ : بارش کا پانی بھی جاری پانی کے حکم میں ہے اور وہ جس نجس پر پڑے گااس کو پاک کردے گا چاہے وہ زمین ہو، بدن ہو یا فرش، یا کوئی اور چیز ہو بشرطیکہ اس میں عین نجاست نہ ہو اور اس کا دھوون جدا ہوجائے۔
مسئلہ ۴۱ : بارش کا پانی بھی جاری پانی کے حکم میں ہے اور وہ جس نجس پر پڑے گااس کو پاک کردے گا چاہے وہ زمین ہو، بدن ہو یا فرش، یا کوئی اور چیز ہو بشرطیکہ اس میں عین نجاست نہ ہو اور اس کا دھوون جدا ہوجائے۔
مسئلہ ۴۹ : کنویں کا پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کردیتا ہے خواہ کُرسے کم ہو اگر کوئی نجس چیز کہ جس میں عین نجاست نہ ہو کنویں کے پانی سے دھوئی جائے تو وہ پاک ہوجاتی ہے۔ البتہ اگر عین کی وجہ سے اس (کنویں کے پانی) کا رنگ، بو یا ذائقہ بدل گیا ہو تب پاک نہیں کرسکتا۔
مسئلہ ۵۱ : بہت گہرے یا نیم گہرے یا معمولی کنویں کہ جن سے پانی موٹر یا ہینڈ پمپ کے ذریعہ کھنیچا جاتا ہے تو جو پانی اس سے کھینچا گیا ہے اگر وہ کُر بھر ہے تو وہ (نجس چیز کو) پاک کرسکتا ہے اور اگر کر بھر سے کم ہے تو جب تک پانی مسلسل جاری ہے تب تک کنویں کے پانی کے حکم میں ہے یعنی نجاست کے ملنے سے نجس نہیں ہوگا۔
مسئلہ 50 : کنويں ميں اگر کوئي نجس چيز گرجائے تو کنويں کا پاني نجس نہيں ہوتا ليکن مستحب ہے کہ ہر نجس چيز کے لئے کچھ پاني نکال کر پھينک ديں(جس کي تفصيل فقہ کي بڑي کتابوں ميں موجود ہے).
مسئلہ۵۳:مضاف پانی [جیسے گلاب جل اور پھلوں کا جوس]نجس چیز کو پاک نہیں کرتاہے اور اس سے وضو و غسل بھی صحیح نہیں ہے۔
مسئلہ۶۱:نجس حیوانات(جیسے کتا،سور)کاجھوٹاپانی نجس ہے لیکن حرام گوشت جانورجیسے بلی اور درندے کا جھوٹا پانی پاک تو ہے مگر اس کا پینا مکروہ ہے
مسئلہ ۶۲ : پینے کے پانی کا مکمل طور سے صاف ہونا مستحب ہے۔ ایسے آلودہ پانی کا پینا جو بیماری کا سبب ہو حرام ہے۔ ہاتھ منہ اور لباس دھونے کا پانی بھی صاف ہونا چاہئے بدبو دار اور آلودہ پانی سے حتی الامکان اجتناب کرنا چاہئے۔
مسئلہ53 مضاف پاني جس کا مفہوم شروع ميں بيان کردياگياہے نجس چيز کو پاک نہيں کرتاہے اور اس سے وضو و غسل بھي صحيح نہيں ہے.
مسئلہ۵۴:مضاف پانی اگر کسی نجس چیزسے ملے گا تو فورا نجس ہوجائےگا صرف تین صورتوں میں نجس نہیں ہوگا۔۱۔ اوپرسے نیچے ڈالنے میں مثلاگلاب دان سے نجس ہاتھ پرعرق ڈالاجائے تووہ عرق جوگلاب دان میں ہے وہ نجس نہیں ہوگا۔۲۔ جومضاف پانی فوارے کی طرح نیچے سے اوپرجارہاہوتواوپرکاجتناحصہ نجاست سے ملے گاوہی نجس ہوگا،نیچے کاحصہ پاک رہے گا۔۳۔ مضاف پانی اتنا زیادہ ہو کہ یہ کہا جاسکے کہ اس میں نجاست نے سرایت نہیں کی ہے، جیسے مضاف پانی کا بہت بڑا تالاب ہو اور نجاست اس کے کسی ایک گوشے میں گرجائے، یا تیل کا بہت ہی لمبا پائپ ہو اور نجاست اس کے ایک طرف جا پڑے تو ایسی صورت میں باقی نجس نہیں ہوگا۔
مسئلہ۵۵: اگرنجس مضاف پانی،جاری یاکرپانی سے اس طرح مل جائے کہ اب اس کومضاف پانی نہ کہیں توپاک ہوجاتاہے۔
مسئلہ 168: جو چیزیں نجس کو پاک کرتی ہیں ان کو ”مطہرات“ کہتے ہیں اور وہ بارہ ہیں :۱۔ پانی ۲۔ زمین ۳۔ آفتاب ۴۔ استحالہ۔ ۵۔ انقلاب ۶۔ دو تہائی ہوجانا ۷۔ انتقال ۸۔ اسلام 9۔ تبعیت ۔ ۱۰۔ عین نجاست کا دور ہونا 11- نجاست کھانے والے حیوان کا استبراء 12-مسلمان کاغائب ہونا۔
مسئلہ63 :ہرانسان کےلئےواجب ہےکہ دوسروں سےاپنی شرم گاه کوچھپائے, چاہے بیت الخلاء میں ہو یا كهيں اورخواه ديكھنے والا اس كامحرم ہى ہو,جيسے ماں,بہن يانامحرم, بالغ ہو یا نا بالغ يہاں تك كہ مميز (سمجھدار) بچوں سےبهى چھپاناواجب ہے البتہ مياں بيوى كےليے ضرورى نهيں ہےكہ وه ايك دوسرےسے اپنی شرم گاه کو چھپائيں.