پوسٹمارٹم اور سرجري کے احکام
مسئلہ 2444:دل ، گروہ اور ديگر اعضاء کي سرجري جائز ہے خواہ وہ عضو زندہ شخص سے لياگيا ہو يا مردہ سے اور ميت خواہ مسلمان کي ہو يا غير مسلمان ک ليکن مسلمان ميت کا کوئي عضو کاٹ کر دوسرے مسلماني کے جسم ميں اس وقت لگايا جاسکتا ہے جب مسلمان کي جان اسي پر موقوف ہو اسي طرح کوئي اہم عضر مثلا انکھ اگر اسي بات پر موقوف ہو تو جائزہے بہر حال احتياط يہ ہے کہ مسلمان ميت کے کسي عضو کے کاٹنے والے کو اس عضو کي وہ ديت بھي ديني ہوگي جو اس عضو کے لئے فقہ کي مفصل کتابوں ميں تحرير ہے.
مضاربہ
null
بينکوں ميں رکھي جانے والي رقم
مسئلہ 2421:بينکوں ميں رکھي جانے والي رقوم چاہے تھوڑي مدت کے لئے رکھي گئي ہوں يا زيادہ مدت کے لئے ان سے ملنے والا سود اسي صورت ميں حلال ہے جبکہ شرعي اصول کے مطابق ہو اور عقود اسلامي و قرارداد (معاہدہ) اسلام کے مطابق ہو جيسے مضاربہ و شرکت و غيرہ اور رقم رکھنے والے کو يقين ہو يا کم از کم قابل ملاحظہ احتمال ہو کہ بينک اس کي وکالت ميں ان قراردادوں کو شرعي طريقہ سے انجام دے گا ليکن اگر يہ يقين ہو کہ يہ تو صرف دکھادے کے لئے اور کاغذي صورت ميں ہے تو پھر سود حرام ہے.
بينکوں سے قرض لينے والي رقم
مسئلہ 2422: لوگ بينکوں سے بعنوان قرض حسنہ يا کسي اور عنوان سے جو رقم ليتے ہيں اور کچھ اضافہ کے ساتھ بينک کو واپس کرتے ہيں وہ اسي صورت ميں حلال ہے کہ معاملہ شرعي طريقہ سے انجام دياگيا ہو اور اس ميں سود کا پہلو نہ رہاہو.
تنخواہ
مسئلہ 2427: صندوق ہائے قرض الحسنہ (قرض الحسنہ فنڈ) مزدوري و حق الزحمت کے عنوان سے حساب اور دلئے ہوتے قرضوں کي حفاظت و ديکھ بھال و غيرہ کے سلسلہ ميں جو ليتے ہيں اس ميں کوئي اشکال نہيں ہے ليکن احتياط واجب يہ ہے کہ يہ رقم بينک کي زحمتوں کے مقابلہ ميں بطور متناسب ہو نہ يہ کہ اس سودي رقم کو مزدوري کے نام سے ليں.
پرونوٹ کي خريد و فروخت
مسئلہ 2430:اگر کسي نے مثلا ايک ہزار روپے قرض لئے ہيں کہ تين ماہ کے اندر ادا کردے گااب وہي شخص نو سو پرونوٹ کا کاغذ کسي کودے کہ نقد (فلاں جگہ يا شخص سے) وصول کر لو يعني نو سوپر معاملہ کرے تو صحيح ہے چونکہ در حقيقت ايک ہزار تومان جو مقروض کے ذمہ ہيں اس کو نو سو تومان نقد کے بدلے ميں فروخت کردياہے اور اس کو پرونوٹ کي قيمت گرنا کہتے ہيں ليکن دوستانہ پرونوٹ ميں ايسا کرنا خالي از اشکال نہيں ہے کيونکہ وہاں واقعي قرض نہيں ہے اور اس کے جوازکے لئے جو صورتيں ذکر کي گئي ہيں وہ بھي اشکال سے خالي نہيں ہيں.
پرونوٹ پر جس کے دستخط ہوں اس سے مطالبہ کا حق ہے
مسئلہ 2431:پرونوٹ پر جس کے دستخط ہوں اس سے مطالبہ کرنے کا حق ہے يعني اگر پرونوٹ دينے والا اپنے کو وقت معين پر ادا نہ کرے تو قرض خواہ کو حق ہے کہ جس شخص نے پرونوٹ کے کاغذ پر دستخط کےاہے اس سے اپنا قرض وصول کرے کيونکہ در حقيقت پرونوٹ پر دستخط کرنے والا مقروض کا ضامن ہوتاہے کہ اگر مقروض نے نہ ديا تو يہ دستخط کرنيوالا دے گا اس قسم کي ضمانت کو ضم ذمہ بہ ذمہ کہاجاتاہے اور يہ صحيح ہے جيسا کہ ہم نے ضمانت کے احکام ميں بيان کياہے.
سکوں کي خريد و فروخت
مسئلہ 2432: سکوں خريد و فروخت جائز ہے يعني ايراني پيسے کو شامي ليرہ يا سعودي ريال يا مارک يا ڈالر سے خريد اور بيچا جاسکتا ہے اور اس ميں کمي و زيادتي سے کوئي اشکال پيدا نہيں ہوتا ليکن اگر کوئي کسي کو کوئي رقم بطور قرض دے چاہے وہ ايراني سکہ يا کوئي اور سکہ ہو، تو جتني رقم دي ہے اتني ہي لے سکتاہے اگر اس سے زيادہ لے گا تو سود ہوگا اور حرام ہوگا اور اگر کوئي غير ملکي سکہ مثلا سو مارک دوسرے کو قرض دے اور بعد ميں مجبور ہوجائے کہ اس کے مقابلہ ميں ايراني ريال سے ادائيگي کرے تو پھر بازار کے حساب سے ادا کرے البتہ قرضخواہ کم پر راضي ہوجائے تو کوئي حرج نہيں ہے.
اپني ملکيت کو کرايہ پر دينا
مسئلہ 2434:صاحب ملکيت کو اختيار ہے جس کو چاہے اپنا مکان يا اپني دو کان يا کوئي اور چيز کرايہ پردے اور معين کرايہ کے علاوہ کچھ رقم پگڑي کے نام پر بھي لے سکتاہے ليکن پگڑي لپنے کي صورت ميں جس کو کرايہ پر دياہے اور پگڑي لي ہے اسکے علاوہ دوسرے کو کرايہ پر نہيں دے سکتاہے چاہے کرايہ کي مدت ختم بھي ہوگئي ہے ہاں اگر پگڑي دينے والا پہلا کرايہ دار بھي دوسرے سے پگڑي لے کر اس کو خالي کرسکتاہے اور اس کو يہ بھي اختيار ہے کہ جتني پگڑي مالک کو دي ہے دوسرے کرايہ سے اس سے زيادہ لے يا کم لے.
کرايہ کي مدت کا ختم ہونا
مسئلہ 2435: جس جائيداد پگڑي دي جاچکي ہے جب اس کے کرايہ کي مدت ختم ہوجائے تو مالک کي ذمہ داري ہے کہ اسي پہلے کرايہ دار کو يا اس کي موافقت سے دوسرے کو کرايہ پر ديدے اور اس وقت و زمانہ کے اعتبار سے ماہرين کي رائے سے جو محل اطمينان ہو ايک عادلانہ کرايہ معين کرے.
جس چيز کو پگڑي پر دئيے بغير کرايہ پر ليا ہو
مسئلہ 2436: جس چيز کو پگڑي پر ديئے بغير کرايہ پر ليا ہو اس کي مدت کرايہ ختم ہونے کے بعد کرايہ دار مالک کي اجازت حاصل کئے بغير اس ميں نہيں رہ سکتا اور اگر خالي نہ کرے تو غاصب ہے اور ملک کے ساتھ ساتھ کرايہ مثل کا بھي ضامن ہے خواہ پہلے والے کرايہ کي مدت کم ہو يا طولاني ہو اور خواہ کرايہ کے زمانے ميں ملکيت کي قيمت بڑھ گئي ہو يا نہ بڑھي ہو اور اگر کوئي دوسرا شخص اس کرايہ دار سے اس کو کرايہ پرلے لے تو اس کرايہ پر لينا صحيح نہيں ہے البتہ اگر مالک راضي ہوجائے تو صحيح ہے.

