جو اخراجات فائدہ حاصل کرنے کيلئے کرے وہ مصارف ميں شمار ہوں گے
مسئلہ 1496: انسان جو اخراجات فائدہ حاصل کرنے کے لئے کرئے مثلا دلالي اور باربرداري و غيرہ کے سلسلے ميں جو کچھ خرچ کرے توان مصارف کو اخراجات ميں شمار کرنا چاہئے.
مسئلہ 1496: انسان جو اخراجات فائدہ حاصل کرنے کے لئے کرئے مثلا دلالي اور باربرداري و غيرہ کے سلسلے ميں جو کچھ خرچ کرے توان مصارف کو اخراجات ميں شمار کرنا چاہئے.
مسئلہ 1497: ضروريات زندگي پر خمس نہيں ہے يعني انسان اپنے سالانہ اخراجات مثلا کھانا، لباس، مکان، گھريلو سامان، شادي بياہ، لڑکے کا جہيز، واجب يا مستحب زيارت، بخشش، عطيہ مہمان داري و غيرہ پر جو امدني خرچ کرتاہے اگر اخراجات ميں فضول خرچي نہ کي ہو تو ان مصارف کا خمس نہيں ہے اخر سال ميں جوبھي بچ جائے صرف اسي بچت کا خمس واجب ہوگا.
مسئلہ 1498: جن اموال انسان نذر، کفارہ و غيرہ ميں خرچ کرتاہے وہ سالانہ اخراجات ميں شمار ہوتے ہيں اسي طرح جو مال دوسروں کو ديتا ہے يا انعام ديتا ہے اگر اس کي شا ن سے زيادہ نہيں ہے تو سالانہ اخراجات ميں شمار ہوگا.
مسئلہ 1499: جس کو گھر کي ضرورت ہو اور وہ ايک رقم سے گھر خريدے تو جتني رقم ميں مکان خريد اہے اس رقم کا خمس نہين ہے ليکن اگر سالانہ امدني ميں مکان خريد نے کي گنجائش نہ ہو اور وہ چند سال پس انداز کرنے پر مجبور ہو تا کہ اس سے گھر خريد سکے تو جس رقم پر سال گزر گيا اس رقم پرخمس ہے ليکن اگر پہلے سال کے وسط ميں مکان کے لئے زمين خريدے اور مکان ميں استعمال کي جانے والي چيزوں کو دوسرے سال کے در ميان خريدے اور مز دوروں کي مزدوري تيسرے سال کے اندر دے توان ميں سے کسي پر خمس نہيں ہے.
مسئلہ 1499: جس کو گھر کي ضرورت ہو اور وہ ايک رقم سے گھر خريدے تو جتني رقم ميں مکان خريد اہے اس رقم کا خمس نہين ہے ليکن اگر سالانہ امدني ميں مکان خريد نے کي گنجائش نہ ہو اور وہ چند سال پس انداز کرنے پر مجبور ہو تا کہ اس سے گھر خريد سکے تو جس رقم پر سال گزر گيا اس رقم پرخمس ہے ليکن اگر پہلے سال کے وسط ميں مکان کے لئے زمين خريدے اور مکان ميں استعمال کي جانے والي چيزوں کو دوسرے سال کے در ميان خريدے اور مز دوروں کي مزدوري تيسرے سال کے اندر دے توان ميں سے کسي پر خمس نہيں ہے.
مسئلہ 1500: بہت سے گھرانوں ميں رسم ہے کہ لڑکي کا جہيز تھوڑا تھوڑا کرکے اکٹھا کرتے ہيں تو اگر اس جہيز پر سال گزرجائے تو اس کا خمس واجب ہوگا سوائے ان شہروں کے جہاں جہيز کو پہلے ہي سے مہيا کرلياجاتا ہے کہ اگر ايسا نہ کريں تو عيب ہے تو ان شہروں ميں جہيز پر خمس نہيں ہے.
مسئلہ 1501: جو لوگ اپنے لئے پہلے سے کفن يا قبر خريد ليتے ہيں سال گزرنے کے بعد اس کا بھي خمس دينا چاہئے.
مسئلہ 1502: جس مال کار ايک مرتبہ خمس ديد يا جائے پھر اس پر خمس واجب نہيں ہوتا ہاں اگر اس ميں اضافہ ہوجائے يا قيمت چڑھ جائے تو خمس واجب ہوگا.
مسئلہ 1503: جيسا کہ پہلے کہا گيا حج يا مستحبي زيارتوں پر جو اخراجات ہوتے ہيں ان پر خمس واجب نہيں ہوتا بشرطيکہ اخراجات اسي سال کي امدني سے کئے گئے ہوں اور اگر چند سال پہلے نام لکھوانے پر مجبرو ہو اور خرچ ديدے تو اسي سال کے اخراجات ميں شمار ہوگا اور خمس واجب نہ ہوگا نہ اس سال اور نہ ہي اس کے بعد کسي سال ميں.
مسئلہ 1504:جو شخص کسي پيشے و تجارت و غيرہ سے امدني حاصل کرے اور اس کے پاس دوسرا ايسا مال بھي ہو کہ جس پر خمس واجب نہيں ہے يا اس کا خمس ديا جا چکاہے تو وہ دونوں مال کو الگ کرکے اپنا سالانہ خرچ ہونے والي امدني سے لے سکتاہے ليکن اگر اپنے اخراجات کو اس مال سے لے لے جس پر خمس واجب نہيں ہے يا جس کا خمس دياجاچکاہے توان اخراجات کو اس سال کي امدني سے کم نہيں کرسکتا.
مسئلہ 1505:اگر کوئي تجارت کے منافع سے سال کے اخراجات کے لئے کوئي چيز خريدے اور اخر سال ميں اس چيزے کچھ اضافي بچ جائے تو اس کا خمس دے اور احتياط يہ ہے کہ کم اہميت والي چيزوں کا بھي حساب کرے (جيسے کھانے پينے کي مختصر سي بچي ہوئي چيزيں) اور اس بات کا خيال رکھے کہ اگر اس کي قيمت دينا چاستي ہے تو اخر سال کي قيمت کا لحاظ کرے چاہے وہ قيمت خريدي ہوئي قيمت سے کم ہو يا زيادہ.
مسئلہ 1506:اگر سال کے در ميان کچھ ضرورت کي چيزيں خريدے تو اس کا خمس نہيں ہے بلکہ اگر اس کي ضرورت بعد ميں نہ رہ جائے جب بھي اس کا خمس دينا لازم نہيں ہے اسي طرح عورتوں کے زيورات جو سن و سال گزرنے کے بعد ان کي ضرورت نہيں دستي اس پر بھي خمس واجب نہيں ہے البتہ احتياط مستحب ہے کہ عورتوں کے ان زيورات اور وہ ضرورت کي خريدي ہوئي چيزيں جو بعد ميں غير ضروري ہوگئيں ہوں ان کا بھي خمس دے.