سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس:حروف الفباشماره مسئله
مسئله شماره 2415امر بالمعروف و نہي از منکر کے مسائل (2414)

بدعتوں کے مقابلے ميں اعتراض کرنا واجب ہے

مسئلہ 2415: اگر اسلام ميں کوئي بدعت شروع ہوجائے، جيسے وہ برائياں جس کو غير صالح حکومتيں اسلام کے نام سے رواج ديتي ہيں تو تمام مسلمانوں پر خصوصا علمائے کرام پر واجب ہے کہ حق کا اظہار کريں اور باطل کا انکار کريں او اگر علمائے ديں کي خاموشي مقام علم کي توہين يا علمائے اسلام سے بدگماني کا سبب ہو تو پھر حق کا اظہار جس طرح بھي ممکن ہو واجب ہے چاہے معلوم ہو کہ اس کا کوئي اثر نہيں ہوگا.

مسئله شماره 2416امر بالمعروف و نہي از منکر کے مسائل (2414)

اگر خاموشي کي وجہ سے ظالم کي تقويت يا تائيد ہوتي ہو تو خاموشي حرام ہے

مسئلہ 2416:اگر صحيح احتمال ہوکہ علماء کي خاموشي سے منکر کے معروف اور معروف کے منکر ہوجانے کا انديشہ ہے تو تمام مسلمانوں پر عموما اور علمائے کرام پر خصوصا حق کا اظہار و اعلام کرنا واجب ہے اور خاموشي جائز نہيں ہے.

مسئله شماره 2418امر بالمعروف و نہي از منکر کے مسائل (2414)

اگر ظالمين کي حکومت ميں عہدہ قبول کر کے مفاسد و منکرات کي روک تھام ہو سکتي ہو

مسئلہ 2418:اگر بعض مومنين يا علمائے اسلام کے ظالمين کے حکومت ميں کسي عہدہ کے قبول کرنے سے مفاسد و منکر ات کي روک تھام ہوسکتي ہو تو واجب ہے کہ اس عہدے کو قبول کرليں ليکن اگر اس کے قبول کرنے سے اس سے بڑا مفسدہ ہو مثلا عالم دين کا اس عہدے کا قبول کرنا لوگوں کے عقائد کي کمزوري يا علماء پرسے اعتماد اٹھ جانے کا سبب ہو تو پھر اس عہدے کو قبول کرنا جائز نہيں ہے.

مسئله شماره 2419امر بالمعروف و نہي از منکر کے مسائل (2414)

امر بالمعروف و نہي عن المنکر کے مراتب ہيں

مسئلہ 2419:امر بالمعروف و نہي از منکر کے مراتب ہيں، بعض صورتوں ميں حاکم شرع کے اجازت کي ضرورت ہے بعض صورتوں ميں اجازت کي ضرورت نہيں ہے جن صورتوں ميں اجازت کي ضرورت نہيں ہے وہ دل و زبان سے امر بالمعروف کرنا اور نصيحت کرنا ہے يا اس کے ساتھ بے رخي و بے اعتنائے برتنا يا اس سے تعلقات توڑلينا ہے اور اگر اس سے بھي فائدہ نہ ہو تو ايسے سخت و سست کلمات کہہ سکتاہے جس ميں گناہ نہ ہو يا ايسي صورت اختيار کرنا جس سے گنہگار کو گناہ سے روکاجاسکے يا گناہ کے ذرائع کو اس کے اختيار سے ختم کياجاسکے ليکن اگر امر بالمعروف و نہي از منکر کے لئے مارنے پيٹنے يا زخمي کرنے، مال تلف کرنے يا اس سے زيادہ کي ضرورت ہو تو پھر کوئي بھي شخص حاکم شرع (قاضي) کي اجازت کے بغير يہ سب کام انجام نہيں دے سکتا بلکہ اصل کام مقدار ، اور اس کا طريقہ کار اسلامي حکم کے مطابق حاکم شرع کي اجازت سے معين کئے جائيں.

مسئله شماره 2420جديد مسائل جو ہمارے زمانے ميں زياده ضروري ہيں (2420)

بينکي معاملات اور قرض حسنہ

مسئلہ 2420:لوگ جو ر قوم کرنٹ اکاونٹ کے حساب سے بينکوں ميں رکھتے ہيں جو قرض الحسنہ کي صورت ميں ہوتي ہے کہ جب چاہيں اس کو نکال ليں اگر اس رقم کے مقابلہ ميں رودکي قرارداد ہو تو حرام ہے اور قرض بھي باطل ہے اور بينک اس رقم ميں تصرف کرنے کا حق نہيں رکھتا.

مسئله شماره 2429جديد مسائل جو ہمارے زمانے ميں زياده ضروري ہيں (2420)

سفتہ

مسئلہ 2429: سفتہ (پرونوٹ) کاغذ کے اس ورقہ کو کہتے ہيں جو رقم نہيں ہوتي ليکن قرض کي سند ہوتي ہے اسي لئے معاملہ اس کاغذ پر نہيں ہوتا پرونوٹ کي دوقسميں ہيں1 حقيقي: مقروض شخص اپنے قرضہ کے مقابلہ ميں قرض خواہ کو يہ کاغذ ديتاہے2 دوستانہ: کوئي بھي شخص کسي کو يہ کاغذ دے سکتاہے مگر اس کا مقروض نہيں ہو تا اور اس کاغذ کے دينے کا مقصد صرف يہ ہوتاہے کہ يہ شخص کسي تيسرے شخص تيسرے شخص کو يہ کاغذ دے کر (کاغذ پر لکھي ہوئي رقم) سے کچھ کم کرکے باقي رقم اس تيسرے ا?دمي سے نقد لے لے

مسئله شماره 2433جديد مسائل جو ہمارے زمانے ميں زياده ضروري ہيں (2420)

پگڑي کے احکام

مسئلہ 2433: پگڑي وہ حق اولويت (ترجيحي) ہے جو کہ کرايہ دار کو مکان يا دو کان کرايہ پر ليتے وقت پہلي مرتبہ رقم دينے پر پيدا ہوجاتاہے اور جس کرايہ دار نے پگڑي دي ہے اس کو دوسروں کے مقابلہ ميں ترجيحي بنياد پر حاصل ہوجاتي ہے پگڑي کا وجود پہلے نہيں تھا ليکن اجکل عقلائے اہل عرف کے در ميان اس کا وجود ہے اور درج ذيل شرائط کے ساتھ پگري صحيح ہے.1 پگڑي کي مقدار معلوم ہو.2 دونوں (پگڑي دينے والا اور لينے والا) رضامندي اور ارادہ سے معاملہ انجام ديں.3 دونوں بالغ و عاقل ورشيد ہوں.4 پگڑي کے مفہوم اور اس کے لوازمات کو جانتے ہوں.

مسئله شماره 2438جديد مسائل جو ہمارے زمانے ميں زياده ضروري ہيں (2420)

بيمہ کے احکام

مسئلہ 2438:بيمہ ايک قرارداد ہوتي ہے جو بيمہ کرانے والے اور بيمہ کي کمپني اکے در ميان ہو اور اس کي بنيادي چيز يہ ہے کہ انسان جو رقم بيمہ کمپني يا بيمہ کرنيوالے شخص کو ديتاہے اس کے بدلے ميں خود انسان کو يا جس چيز کو بيمہ کيا گياہے اس کو جو نقصان پہنچے اس نقصان کو پورا کرنے کي ذمہ داري بيمہ کمپني يا بيمہ کرنيوالے شخص کے اوپر ہے بيمہ ايک مستقل قرارداد ہے اور ايندہ بيان کئے جانے والے شرائط کے ساتھ بيمہ صحيح ہے ہر اس چيز کا بيمہ ہوسکتاہے جو عرف عقلاء کي مطابق ہو مثلا تجارتي اموال، مکانات، کاريں، کشتياں ہوائي جہاز، زندگي و غيرہ.

مسئله شماره 2444جديد مسائل جو ہمارے زمانے ميں زياده ضروري ہيں (2420)

پوسٹمارٹم اور سرجري کے احکام

مسئلہ 2444:دل ، گروہ اور ديگر اعضاء کي سرجري جائز ہے خواہ وہ عضو زندہ شخص سے لياگيا ہو يا مردہ سے اور ميت خواہ مسلمان کي ہو يا غير مسلمان ک ليکن مسلمان ميت کا کوئي عضو کاٹ کر دوسرے مسلماني کے جسم ميں اس وقت لگايا جاسکتا ہے جب مسلمان کي جان اسي پر موقوف ہو اسي طرح کوئي اہم عضر مثلا انکھ اگر اسي بات پر موقوف ہو تو جائزہے بہر حال احتياط يہ ہے کہ مسلمان ميت کے کسي عضو کے کاٹنے والے کو اس عضو کي وہ ديت بھي ديني ہوگي جو اس عضو کے لئے فقہ کي مفصل کتابوں ميں تحرير ہے.

مسئله شماره 2421بينکي معاملات اور قرض حسنہ (وغيرہ) (2420)

بينکوں ميں رکھي جانے والي رقم

مسئلہ 2421:بينکوں ميں رکھي جانے والي رقوم چاہے تھوڑي مدت کے لئے رکھي گئي ہوں يا زيادہ مدت کے لئے ان سے ملنے والا سود اسي صورت ميں حلال ہے جبکہ شرعي اصول کے مطابق ہو اور عقود اسلامي و قرارداد (معاہدہ) اسلام کے مطابق ہو جيسے مضاربہ و شرکت و غيرہ اور رقم رکھنے والے کو يقين ہو يا کم از کم قابل ملاحظہ احتمال ہو کہ بينک اس کي وکالت ميں ان قراردادوں کو شرعي طريقہ سے انجام دے گا ليکن اگر يہ يقين ہو کہ يہ تو صرف دکھادے کے لئے اور کاغذي صورت ميں ہے تو پھر سود حرام ہے.

قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت