اگر وارث صرف دادا يا صرف دادي يا صرف نانا يا ناني ہو
مسئلہ 2373:اگر وارث صرف دادا يا صرف دادي يا صرف نانا يا صرف ناني ہو تو پورا مال اسي کو ملے گا اور دادا کے ہوتے ہوئے پر دادا کو ميراث نہيں ملے گي.
مسئلہ 2373:اگر وارث صرف دادا يا صرف دادي يا صرف نانا يا صرف ناني ہو تو پورا مال اسي کو ملے گا اور دادا کے ہوتے ہوئے پر دادا کو ميراث نہيں ملے گي.
مسئلہ 2374:اگرميت کے ورثہ صرف دادا اور دادي ہوں تو مال کے تين حصے کرکے ايک دادي کو اور دو دادا کو دياجائے گا ليکن اگر ميت کے وارث صرف نانا اور ناني ہوں تو انہيں مال برابر برابر تقسيم ہوگا.
مسئلہ 2375:اگر ميت کا ورثہ صرف دادا (يا دادي) اور نانا (يا ناني) ہو تو مال کے تين حصہ کرکے دو دادا يا دادي اور ايک حصہ نانا يا ناني کو ديديا جائے گا.
مسئلہ 2376: اگر ميت کے وارث دادا، نانا ، ناني ہوں ہوں تو مال کے تين حصے کرکے دو حصے دادا، دادي کو دياجائے گا جواپس ميں اس طرح تقسيم کريں گے کہ دادا کو دوگنا اور دادي کو ايک حصہ ملے گا اور ايک حصہ نانا، ناني کو ملے گا جس کو يہ لوگ اپس ميں برابر تقسيم کريں گے.
مسئلہ 2377:اگر ميت کے وارث شوہر (يا بيوي) اور دادا، دادي اور نانا، ناني ہوں تو ايندہ تفصيل کے مطابق شوہر يا بيوي اپنا حصہ ليں گے اور اصل ترکہ کا ايک تہائي مال نانا، ناني کو کوملے گا جس کو يہ لوگ اپس ميں برابر برابر تقسيم کرليں گے اور باقي مال دادا، دادے کو ملے گا جو اس طرح تقسيم کريں گے کہ دادا کو دوگنا اور دادي کو ايک حصہ ملے گا.
مسئلہ 2378:اگر ميت کے ورثاء مادري بھائيوں کے ساتھ نانا يا ناني يا دونوں ہوں تو نانا بھائي کے حکم مين ہے اور ناني بہن کے حکم ميں ہوگي اور يہ حضرات مال اپس ميںبرابر تقسيم کريں گے اسي طرح اگر پدري دادا، دادي (يا حقيقي دادا، دادي) باپ کي طرف سے يا حقيقي بھائيوں کے ساتھ ہوں تو دادا ايک بھائي کے حکم ميں ہوگا اور دادي ايک بہن کے حکم ميں ہوگي اور ميراث اپس ميں اس طرح تقسيم کريں گے کہ مرد کو دو برابر عورت کے ملے.
مسئلہ 2380:اگر ميت کا وارث صرف ايک چچا يا پھوپي ہو خواہ حقيقي ہو يا باپيا ماں کي طرف سے ہو تمام مال اسي کو ملے گا اور اگر کئي چچا يا کئي پھوپھي ہوں اور سب حقيقي ہوں يا باپ کي طرف سے ہوں تو مال سب ميں برابر تقسيم کياجائے گا اور اگر چچا پھوپھي دونوں ہوں اور سب حقيقي يا سب باپ کي طرف سے ہوں تو چچا کو پھوپھي کے دو برابر ملے گا.
مسئلہ 2380: اگر ميت کا وارث صرف ايک چچا يا پھوپي ہو خواہ حقيقي ہو يا باپيا ماں کي طرف سے ہو تمام مال اسي کو ملے گا اور اگر کئي چچا يا کئي پھوپھي ہوں اور سب حقيقي ہوں يا باپ کي طرف سے ہوں تو مال سب ميں برابر تقسيم کياجائے گا اور اگر چچا پھوپھي دونوں ہوں اور سب حقيقي يا سب باپ کي طرف سے ہوں تو چچا کو پھوپھي کے دو برابر ملے گا.
مسئلہ 2382:اگر ورثا چچا پھوپھي ہوں ليکن کچھ حقيقي اور کچھ پدري اور کچھ مادري ہوں تو پدري چچا پھوپھي کو ميراث نہيں ملے گي اب اگر ميت کا صرف ايک مادري چچا يا صرف ايک مادري پھوپي ہو تو مال کے چھ حصے کرکے ايک حصہ مادري چچا يا پھوپھي کو دياجائے گا اور يہ لوگ مذکر کو دگنا اور مونث کو ايک حصہ کے حساب سے تقسيم کريں گے اور ايک حصہ مادري چچا و پھوپھي کو دياجائے گا اور احتياط واجب ہے کہ يہ لوگ تقسيم ميں ايکدوسرے سے مصالحت کرينگے.
مسئلہ 2383: اگر وارث صرف ايک ماموں يا ايک خالہ دونوں ہوں اور سب حقيقي ہوں يا سب پدري ہوں يا سب مادري ہوں تو مال کو اپس ميں برابر برابر تقسيم کرلينگے اور احتياط يہ ہے کہ ايکدوسرے کے ساتھ مصالحت کرليں.
مسئلہ 2384:اگر وارث صرف ايک مادري ماموں يا ايک مادري خالہ اور حقيقي ماموں و خالہ اور پدري ماموں و خالہ ہوں تو پدري ماموں و خالہ ميراث سے محروم ہوں گے اور مال کے چھ حصي کرکے ايک حصہ مادري ماموں يا خالہ کو ملے گا اور باقي حقيقي ماموں اور خالہ کو ملے گا يہ لوگ اس کو برابر برابر تقسيم کريں گے.
مسئلہ 2385:اگر وارث مادري ماموں، خالہ، پدري ماموں و خالہ ، حقيقي ماموں و خالہ ہوں تو پدري ماموں، خالہ کو ميراث نہيں ملے گي اور مال کے تين حصے کرکے ايکحصہ مادري ماموں و خالہ ميں بطور مساوي تقسيم ہوگا اور باقي حقيقي ماموں اور خالہ ميں بھي بطور مساوي تقسيم کردياجائيگا.