روزہ کو باطل کرنيوالي چيزوں کے احکام
مسئلہ ۱۳۹۴: جن نو چیزوں کا پہلے تذکرہ کیاگیا ہے اگر بھولے سے یا غیر اختیاری طور سے بجالا ئے تو روزہ صحیح ہے۔ لیکن مجنب اگر سوجائے اور اذان صبح تک غسل نہ کرے اس کے روزہ میں اشکال ہے۔
مسئلہ ۱۳۹۴: جن نو چیزوں کا پہلے تذکرہ کیاگیا ہے اگر بھولے سے یا غیر اختیاری طور سے بجالا ئے تو روزہ صحیح ہے۔ لیکن مجنب اگر سوجائے اور اذان صبح تک غسل نہ کرے اس کے روزہ میں اشکال ہے۔
مسئلہ ۱۳۱۷ : احتیاط واجب کی بنا پر اذان صبح سے کچھ پہلے اور مغرب کے تھوڑی دیر بعد تک مفطرات(روزہ توڑنے والی چیزوں)سے اجتناب کرے تاکہ یقین حاصل ہوجائے کہ اس پوری مدت میں روزہ رہا ہے۔
مسئلہ 1318 : ماہ رمضان ميں ہر رات کو دوسرے دن روزہ رکھنے کي نيت کرلينا کافي ہے ليکن بہتر ہے کہ اس کے علاوہ پہلي رات کو پورے مہينہ کي بھي نيت کرلے.
مسئلہ 1325 : اگر کسي کو معلوم نہ ہو يا بھول جائے کہ رمضان ہے اور روزہ نہ رکھے اور ظہر کے بعد متوجہ ہو يا ظہر سے پہلے متوجہ ہو مگر افطار کر چکا ہو تو ماہ رمضان کے احترام ميں مغرب تک روزہ باطل کرنے والے کسي کام کا ارتکاب نہ کرے اور رمضان کے بعد اس کي قضا کرے.
مسئلہ ۱۳۲۲ : اگر کوئی رمضان کے علاوہ کوئی دوسرا روزہ رکھنا چاہتا ہو تو اس کو معین کرنا ہوگا مثلا نیت کرے کہ قضا ، روزہ یا نذر کا روزہ رکھتا ہوں لیکن رمضان میں یہی کافی ہے کہ نیت کرے کہ کل روزہ رکھوں گا۔ بلکہ اگر اسے معلوم نہیں ہے کہ یہ رمضان ہے یا معلوم تھا مگر بھول گیا اور دوسرے کسی روزے کی نیت کرلی تب بھی وہ رمضان کا ہی روزہ شمار ہوگا لیکن اگر عمدا رمضان میں کسی دوسرے روزے کی نیت کرے(جبکہ جانتا ہو کہ رمضان میں کوئی دوسرا روزہ صحیح نہیں ہے) تو اس کا روزہ باطل ہے یعنی نہ وہ رمضان کا روزہ شمار ہوگا اور نہ ہی اس کے علاوہ۔
مسئلہ 1323 : نيت کرتے وقت تاريخ کامعين کرنا ضروري نہيں ہے کہ پہلي کا روزہ رکھتا ہوں يا دوسري کا بلکہ اگر وہ معين بھي کرے مثلا کل دوسري ماہ رمضان کا روزہ رکھوں گا اور بعد ميں پتہ چلے کہ وہ تيسري تاريخ تھي تب بھي روزہ صحيح ہے.
مسئلہ۱۳۲۴ : اگر اذان صبح سے پہلے نیت کرلے اوربعد میں بے ہوش ہوجائے یا مست ہوجائے اور دن میں ہوش آئے اور کوئی کام روزہ کے خلاف نہ کیا ہو تواحتیاط واجب ہے کہ اس دن کا روزہ تمام کرے اور اس کی قضا بھی کرے۔
مسئلہ 1321 : اگر ماہ رمضان ميں روزہ کي نيت بھول جائے اور اذان ظہر سے پہلے ياد مسئلہ ۱۳۲۱ : اگر ماہ رمضان میں روزہ کی نیت بھول جائے اور اذان ظہر سے پہلے یاد آجائے اور فورا نیت کرلے تو اس کا روزہ صحیح ہے بشرطیہ کوئی ایسا کام نہ کیا ہو جس سے روزہ باطل ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر ظہر کے بعد نیت کرے توصحیح نہیں ہے۔
مسئلہ ۱۳۲۶ : اگر بچہ اذان صبح سے پہلے بالغ ہوجائے تو روزہ رکھے اور اگر اذان کے بعد بالغ ہو اور روزہ کے باطل کرنے والی کسی چیز کا ارتکاب نہ کیا ہو تو احتیاط واجب ہے کہ روزہ رکھے اور رمضان کے بعد قضا بھی کرے۔
مسئلہ ۱۳۲۷ : جس کے ذمہ ماہ رمضان کے قضا روزے ہوں یا دوسرا کوئی واجب روزہ ہو اس کے لئے مستحبی روزہ رکھنا جائز نہیں ہے لیکن اگر بھول کر مستحبی روزہ رکھ لے اور ظہر سے پہلے یاد آجائے تو واجب روزہ کی نیت کرسکتا ہے لیکن اگر ظہر کے بعد یاد آئے تو اس کا روزہ باطل ہے۔
مسئلہ ۱۳۲۸ : جو شخص کسی میت کے اجارہ پر روزہ رکھ رہا ہے وہ اپنے مستحبی روزہ رکھ سکتا ہے۔
مسئلہ ۱۳۳۰ : اگر کسی کے ذمہ غیر معین روزہ واجب ہو(مثلا رمضان کے قضاروزے یا کفارہ کا روزہ)تو اس کی نیت کا وقت ظہر تک ہے۔ یعنی اگر اس وقت تک اس نے کوئی ایسا کام نہ کیا ہو جس سے روزہ باطل ہوجاتا ہے اور ظہر سے پہلے نیت کرلے تو روزہ صحیح ہے۔