خود سفر حلال ہو ليکن اس ميں گناہ کرے
مسئلہ 1135 : اگر خود سفر حرام نہ ہو اور نہ ہي حرام کام کے لئے سفرہو ليکن اثناء سفر ميں گناہ کرے مثلا شراب پيئے يا غيبت کرے يا لوگوں پر ظلم کرے تو نماز قصر رہے گي.
مسئلہ 1135 : اگر خود سفر حرام نہ ہو اور نہ ہي حرام کام کے لئے سفرہو ليکن اثناء سفر ميں گناہ کرے مثلا شراب پيئے يا غيبت کرے يا لوگوں پر ظلم کرے تو نماز قصر رہے گي.
مسئلہ 1136 : اگر کسي واجب کام سے فرار کے لئے سفرکرے مثلا مقروض اپنا قرض ادا کرسکتا ہے اور قرض خواہ بھي مطالبہ کررہا ہے ليکن وہ قرض نہ دينے کے لئے مسافرت کرجائے تو اس کي نماز پوري ہوگي البتہ اگر يہ قصد نہ ہو تو نماز قصر رہے گي.
مسئلہ : 1137 : اگر سفر حرام نہ ہو لیکن غصبی سواری پر سفر کرے یا غصبی زمین پر سفر کرے تو بناء بر احتیاط واجب نماز قصر بھی پڑھے اور پوری بھی یعنی مثلا نماز ظہر کی دو رکعت بھی پڑھے اور چار رکعت بھی۔
مسئلہ 1138 : اگر کسي ظالم کے ساتھ سفر کرے اور اس کي مسافرت ظالم کي مدد شمار کي جائے تو اس کا سفر حرام ہے اس لئے نماز کو تمام پڑھے ہاں اگر مجبور ہو يا ايک اہم ترين فريضہ کي انجام دہي مقصود ہو مثلا کسي مظلوم کي جان بچانے کے لئے اس ظالم کے ساتھ سفر کرے تو نماز قصر رہے گي.
مسئلہ 1140 : اگر کوئی روزی کمانے کے لئے شکار پہ جائے تو اس کا یہ سفر جائز ہے اور نماز بھی قصر ہے اسی طرح اگر آمدنی بڑھانے کے لئے سفر ہو تو حلال ہے اور نماز بھی قصر ہے۔ لیکن اگر کوئی کھیل کود، تفریح اور عیاشی کی غرض سے شکار پر جائے تو اسکا سفر حرام ہے اور اسے پوری نماز پڑھنی چاہئے۔
مسئلہ 1141 : جو شخص گناہ کے سفر سے پلٹ کر آرہا ہے اگر ہو توبہ کرلے اور جہاں تک جانا چاہتا ہے وہ مسافت آٹھ فرسخ یااس سے زیادہ ہو تو نماز قصر پڑھے۔ اسی طرح اگر تو بہ تو نہیں کی لیکن واپسی کے سفر میں گناہ سے آلودہ نہ ہو تو تب بھی نماز قصر ہے۔
مسئلہ 1142: گناہ کا سفر کرنے والا اگر اثنائے راہ ميں اپنے ارادہ سے پلٹ جائے اور باقي سفر آٹھ فرسخ يا اس سے زيادہ ہو يا آمد و رفت کا مجموعہ آٹھ فرسخ ہو تو نمازقصر پڑھے ليکن اس کے برعکس اگر گناہ کي نيت سے سفر نہ کرے ليکن راستہ ميں ارادہ بدل جائے او رباقي راستہ گناہ کے ارادے سے سفرکرے تو نماز پوري پڑھے ہاں اس قصد سے پہلے جو نمازيں قصر پڑھ چکا ہے اس ميں کوئي اشکال نہيں ہے.
مسئلہ 1144 : اگر خانہ بدوش حضرات دوسرے لوگوں کي طرح حج، يا تجارت يا ايسي مسافرت کريں جو ان کي زندگي کاجز نہ ہو تو نماز قصر پڑھيں.
مسئلہ 1147 : جس کا پیشہ مسافرت ہو اگر وہ اپنے پیشے کے علاوہ کسی دوسرے کام کے لئے سفر کرے(مثلا حج یازیارت یا کسی اور مقصد کے لئے جائے)تو دوسرے مسافروں کی طرح وہ بھی نماز قصر پڑھے۔ لیکن اگر ڈرائیور اپنی گاڑی کو کرایہ پر دے اور ضمنا خود بھی زیارت کرے تو ڈرائیور کو)پوری نماز پڑھنی چاہئے۔
مسئلہ 1146 : جس کا شغل تومسافرت نہیں ہے لیکن مسافرت اس کے شغل کا مقدمہ ہے جیسے مدرس، کاریگر، مزدور، وغیرہ جو کسی شہر میں رہتے ہیں اور کام کرنے کے لئے دوسر جگہ جاتے ہیں اور ان کی آمد و رفت آٹھ فرسخ یا اس سے زیادہ ہے تو وہ لوگ بھی نماز پوری پڑھیں اور روزہ رکھیں، ليکن شروع ميں دو تين دن احتياط واجب کي بنا پر دونوں طرح يعني قصر بھي پڑھيں اور پوري بھي پڑھيں۔
مسئلہ 1149 : سال کے کچھ حصہ ميں مسافرت جس کا پيشہ ہو مثلا وہ ڈرائيور جو صرف گرميوں يا سرديوں ميں ڈرائيورنگ کرتا ہے توجس سفر ميں اپنے کام ميں مشغول ہے اس ميں نماز پوري پڑھے.
مسئلہ 1148: جو لوگ حج کے راہنما اور حاجیوں کے کارواں کے مدیر ہوں یا اسی قسم کے دوسرے لوگ ہوں تو اگر مسافرت ان کے پیشے کا جز یا مقدمہ شمار ہو اور يه کام کافي مدت تک يعني تقريباً چندماه تک چلتا رهےتو انہیں پوری نماز پڑھنی چاہئے۔