عاريت کو ختم کرنا
مسئلہ 2016: عاريت دينے والا جب چاہے اپنا مال واپس لے سکتاہے اور عاريت لينے والا بھي جب چاہے واپس دے سکتاہے.
مسئلہ 2016: عاريت دينے والا جب چاہے اپنا مال واپس لے سکتاہے اور عاريت لينے والا بھي جب چاہے واپس دے سکتاہے.
مسئلہ 2018: بھيڑ کو اس سے دودھ اور اون حاصل کرنے کے لئے اور دوسرے جانوروں کو مشروع فائدہ حاصل کرنے کے لئے عاريتا دياجاسکتا ہے.
مسئلہ 2019: نجس بر تن کو اگر کسي عاريتا دے تو احتياط واجب ہے کہ اس کے نجس ہونے کو بتادے اسي طرح اگر لباس کو نماز کے لئے دے اور وہ نجس، ہو تو وہ بتادے.
مسئلہ 2020: عاريت کے ہوئي چيز کو اگر مالک کي اجازت سے دوسرے کو عاريتا ديدے اور پہلا شخص جس لے عاريتا ليا تھا اگر مرجائے يا ديوانہ ہوجائے اورصاحب مال زندہ ہو تو دوسري عاريت باطل نہيں ہوگي.
مسئلہ 2021 عاريت لينے کے بعد اگر معلوم ہو کہ يہ چيز غصبي ہے تو اس کو اصل مالک تک پہونچانا چاہئے اور اگر مالک کونہ جانتا ہو تو مجہوں المالک مال کے قاعدہ پر عمل کرے بہر حال عاريت دينے والے کو واپس نہيں کرسکتا.
مسئلہ 2022:اگر جانتے بوجھتے غصبي مال کو عاريت لے اور اس کے پاس سے تلف ہوجائے تو مالک اپنا مال کا عوض اس شخص سے لے سکتا ہے اور اگر اس شخص تک رسائي ممکن نہ ہو تو غاصب سے مطالبہ کرے اسي طرح عاريت لينے والوں نے اس غصبي چيز سے جو فائدے اٹھا لئے ہوں ان کا بھي عوض ديں اور اگر معلوم نہ ہو کہ مال غصبي چيز سے جو فائدے اٹھا لئے ہوں ان کا بھي عوض دين اور اگر معلوم نہ ہو کہ مال غصبي چيز سے جو فائدے اٹھا لئے ہوں ان کا بھي عوض ديں اور اگر معلوم نہ ہو کہ مال غصبي ہے اور اصلي مالک مال يا منافع کي خسارت اس سے وصول کرے تو اس کو حق ہے کہ مالک کو جو بھي بھيج دے اس کا عاريت دينے والے غاصب سے لے? ليکن يہ اس صورت ميں ہے کہ عاريت دينے والے نے ضمانت کے شرط نہ کي ہو اور جس چيز کو عاريتا دياہے وہ سونے يا چاندي کي نہ ہو.
مسئلہ 2023 شادي کرنا مستحب ہے ليکن اگر کسي کوڈر ہو کہ شادي نہ کرنے کي وجہ سے حرام ميں مبتلا ہوجائے گا تو شادي کرنا واجب ہے.
مسئلہ 2024: شادي کے بعد مرد اور عورت ايکدوسرے پر حلال ہوجاتے ہيں عقد کي دو قسميں ہيں:1 دائمي2 وقتي دائمي کا مطلب ہميشگي ہے جس عورت سے دائمي عقد کيا جائے اسے دائمہ کہتے ہيںاور وقتي شادي (متعہ)کا مطلب يہ ہے کہ ايک معين مدت کے لئے عقد کياجائے خواہ وہ مدت مختصر ہو يا طولاني ہو اس کو (صيغہ) بھي کہتے ہيں.
مسئلہ 2025:عقد ميں خواہ دائمي ہو يا وقتي صيغہ جاري کرنا ضروري ہے صرف دونوں کي رضامندي کافي نہيں ہے اور عقد کا صيغہ وہ دونوں بھي پڑھ سکتے ہيں اور ان کا وکيل بھي.
مسئلہ 2026: مرد صيغہ جاري کرنے ميں عورت کا وکيل ہوسکتا ہے اور عورت مرد کي وکيل ہوسکتي ہے.
مسئلہ 2027: اگر ميان بيوي نے صيغہ جاري کرنے کے لئے وکيل کيا ہو تو جب تک صيغہ کے جاري ہوجانے کا يقين نہ ہوجائے ايک دوسرے پر حلال نہيں ہونگے ليکن اگر وکيل مورد اطمينان ہو اور اکہے ميں نے صيغہ جاري کرديا ہے تو کافي ہے.
مسئلہ 2028اگر عورت کسي کو وکيل کردے کہ دس دن يا دو ماہ کے لئے ميرا عقد کسي مرد سے پڑھ دو او اس کي ابتدا معين نہ کرے تو جس دن اور جس وقت سے عقد پڑھاجائے گا اس وقت سے ابتدا شروع ہوگي.