قرار داد سے پہلے کوئي کام کو انجام ديدے
مسئلہ 1933:اگر قرارداد سے پہلے کوئي اس کام کو کردے تو مزدوري کا حق نہيں رکھتا اسي طرح قرارداد کے بعد بھي اگر اس نيت سے کام انجام دے کہ مزدوري نہيں اوں گاتب بھي معين شدہ رقم کا مستحق نہيں ہے.
مسئلہ 1933:اگر قرارداد سے پہلے کوئي اس کام کو کردے تو مزدوري کا حق نہيں رکھتا اسي طرح قرارداد کے بعد بھي اگر اس نيت سے کام انجام دے کہ مزدوري نہيں اوں گاتب بھي معين شدہ رقم کا مستحق نہيں ہے.
مسئلہ 1935:جاعل و عامل دونوں کام شروع کرنے سے پہلے جعالہ کو ختم کرسکتے ہيں بلکہ جعالہ کا کام شروع کرنے کے بعد بھي ختم کرسکتے ہيں البتہ اگر جاعل ختم کرے تو عامل ني جتنا کام انجام ديا ہو اس کي مزدوري اس کودے.
مسئلہ 1936: يہ جائز ہے کہ جاعل کام کرنا مکمل چھوڑدے ليکن اگر ناتمام چھوڑدينے سے جاعل کو نقصان پہنچتا ہو تو مکمل کرنا ضروري ہے اور اگر مکمل نہ کرے تو ضامن ہے مثلا اگر ڈاکٹر سے کہے اگر تم ميري انکھ کا اپريشن کر دو تو اتني رقم تم کو دوں گا اور ڈاکٹر اپريشن شروع کردے اور اس کو مکمل کرنے سے جاعل کي انکھ معيوب ہوجاتي ہو تو اپريشن نامکمل چھور ڈينے پر کسي مزدوري کا حق نہيں رکھتا اور اس عيب کا پيدا ہونے کا ضامن ہے.
مسئلہ 1937:اگر ايسا کام ہو کہ جب تک اس کو مکمل نہ کردياجائے کوئي فائدہ حاصل نہ ہو اور عامل اس کام کونا نا مکمل چھوڑے مثلا گمشدہ چيز کو کچھ دن تلاش کرکے چھوڑدے تو جاعل سے کسي اجرت کا حق نہيں رکھتا، اسي طرح اگر تھوڑا ساکام کرنا مفيد ہو تو مثلا لياس کو تھوڑا سي کردے ليکن اجرت کام پورا کرنے پر طے ہوئي ہو تب بھي وہ تھوڑا ساکام انجام دينے پر اجرت کا مستحق نہيں ہوتاالبتہ اگر مقصود يہ ہو کہ جتنا کام کريگا اتني مزدوري کا مسحق ہوگا تو جتنا کام اس نے کياہے اس کي مزدوري دينا ہوگي.
مسئلہ 1938: قرض دينا بہت ہي مستحب کام ہے قران مجيد اور احاديث ائمہ معصومين ميں اس کي بہت تاکيد ائي ہے حضرت رسول اکرم سے روايت ہے جو شخص اپنے برادر مومن کو قرض دے گا اس کا مال زيادہ ہوگا ملائکہ اس پر رحمت کي دعاکريں گے اگر اپنے قرض دار سے نرمي کا برتاو کرے تو بغير حساب اور بڑي جلدي سے پل صراط سے گزرجائے گا اور جس مسلمان سے اس کا مسلمان بھائي قرض مانگے اور وہ نہ دے تو جنت اس پر حرام ہے ايک حديث ميں ہے کہ صدقہ کا ثواب دس گناہے اور قرض کا ثواب اٹھارہ گناہے.
مسئلہ 1939: قرض کي قرارداد کو لفظي صيغہ سے انجام دياجاسکتا ہے اور اس طرح بھي ہوسکتا ہے کہ کسي کو قرض کي نيت سے دے اور وہ اسي نيت سے لے غرض کہ دونوں طرح صحيح ہيں.
مسئلہ 1941: اگر قرض کي قرارداد ميں واپسي کي مدت معين ہو تو قرض دينے والا اس مدت سے پہلے مطالبہ نہيں کرسکتا ليکن اگر مدت معين نہ ہو تو جس وقت چاہے مطالبہ کرسکتاہے.
مسئلہ1940:قرض ميں مقدار اور مدت و جنس کو معين اور واضع ہونا چاہئے اور قرض دينے والا اور لينے والا دونوں بالغ و عاقل ہوں لا ابالي نہ ہوں اپنے مال ميں تصرف کا حق رکھتے ہوں اور اس کام کو قصد و ارادے سے انجام دين، مذاق، جبر و غيرہ نہ ہو.
مسئلہ 1941:اگر قرض کي قرارداد ميں واپسي کي مدت معين ہو تو قرض دينے والا اس مدت سے پہلے مطالبہ نہيں کرسکتا ليکن اگر مدت معين نہ ہو تو جس وقت چاہے مطالبہ کرسکتاہے.
مسئلہ 1942:اگر قرض کي واپسي کي مدت معين ہو اور قرض لينے والا اس وقت سے پہلے اپنا قرض واپس کرنا چاہے تو قرض دينے والا قبول کرنے پر مجبور نہيں ہے ليکن اگر مدت کي تعين محض مقروض کے ساتھ رعايت کيلئے کي گئي ہو اور وہ وقت سے پہلے اپنا قرض واپس کرنا چاہے تو قرض دينے والے کو قبول کرنا ہوگا.
مسئلہ 1943:اگر قرض دينے والا اپنے قرض کو طے شدہ وقت پر واپس مانگے تو قرض دار کو فورا قرض ادا کردينا چاہئے اس ميں تاخير گناہ ہے ليکن اگر قرض دار کے پاس مکان (جس ميں وہ رہتاہے( اور اثاث البيت (گھير ملو سامان) اور ضروريات مکان اور جن چيزوں کي اس کو ضرورت ہو ان کے علاوہ کچھ نہ ہو تو قرض دينے والے کو صبر کرنا چاہئے اور قرض دار کو اس بات پر مجبور نہيں کرنا چاہئے کہ وہ اپني ضرورت کي چيزوں کو بيچ دے ليکن اسکے ساتھ مقروض کو بھي چاہئے کہ قرض ادا کرنے کے لئے کوئي ملازمت يا جائز ذريعہ ي امدني تلاش کرکے اس کا قر ض ادا کرے.
مسئلہ 1944: جو مقروض شخص قرض دينے والے تک رسائي نہ حاصل کرسکتا ہو اور اس کے ملنے کے ملنے کي اميد بھي نہ ہو تو احتياط واجب ہے کہ حاکم شرع (قاضي) سے اجازت لے کر مقدار قرض کو کسي فقير کے حوالے کردے فقير چاہے سيد ہو يا غير سيد.